Daily Mashriq

پاکستان کیخلاف خطرناک بھارتی حکمت عملی

پاکستان کیخلاف خطرناک بھارتی حکمت عملی

پاکستان میں بھارتی مداخلت کی تاریخ پاکستان کے معرض وجود میں آجانے کے بعد سے شروع ہوتی ہے ،بھارت ہم پر چار جنگیں مسلط کر چکا ہے ،1971ء میں مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے جدا کرنے میں بھارت کا بنیادی کردار تھا ،بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے کا آج بھی کوئی موقع جانے نہیں دیتا۔اس دوران کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے نے پاکستان کے اندر بھارت کو سمجھنے کیلئے کچھ نئی راہیں کشادہ کردی ہیں۔ پاکستان میں بھارت کو محض ایک روایتی حریف سمجھ کر روایتی طریقوں سے اسے برتنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ مگر بھارت ایسا ملک نہیں۔ اس کی دشمنی روایتی نہیں۔بھارت میں دہشتگردی کے متعدد واقعات ایسے ہیں کہ ثبوت نہ ہونے کے باوجود بھارت نے سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر ان واقعات کا ذمہ دار براہ راست پاکستان کو ٹھہرایا جبکہ پاکستان میں واضح بھارتی مداخلت کے باوجود بھی پاکستانی قیادت احتیاط کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ بھارت نے اپنے اندر جاری بدترین نسلی، قومی اور فرقہ وارانہ پالیسیوں کے تحت کشاکش کے پرتشدد نتائج کو بھی پاکستان کیخلاف استعمال کرنے کی ایک مکروہ پالیسی بنا رکھی ہے۔ بھارت کی تہہ دار حکمت عملی کا محض ایک پہلو یہ ہے جس میں وہ اپنے پروپیگنڈے کو تقویت پہنچانے والے عوامل کو خود پاکستان کے اندر پیدا کرنے کی قدرت حاصل کرچکا ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر اس نے ’’کرایے‘‘ پر دستیاب ایسے لوگ بھی پیدا کرلئے ہیں جو کہنے کو پاکستانی ہیں مگر جو بھارتی منصوبے کے تحت پاکستان کے اندر بروئے کار آتے ہیں۔ ایسے ہی کرایے پر دستیاب لوگوں کی میزبانی وہ اپنے ملک اور افغانستان میں کررہا ہے۔ انتہائی سنگین طور پر ان کرداروں کو وہ کسی بھی وقت بھارت کے اندر’’ دہشت گردی ‘‘کے کسی خانہ ساز واقعے میں استعمال کرکے پاکستان کیخلاف استعمال کرنے کی بھی مہلک صلاحیت حاصل کرچکا ہے۔ اسلم اچھو جیسے کئی کردار ابھی بھی بھارتی سرزمین پر موجود ہیں۔ اس اعتبار سے چینی قونصلیٹ پر حملے میں اس کی ناکامی کوئی واقعہ نہیں۔ چینی قونصلیٹ پر حملہ آور ہونا ہی زیادہ بڑا واقعہ ہے۔یہ بھارتی سازشوں کوسمجھنے کاایک بہتر موقع ہے۔اس طرح ہم مستقبل کے اندر بھی جھانک سکیں گے۔ بھارت نے ایک گہری اور خطرناک حکمت عملی کے تحت اپنے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کو مقامی وجوہات سے کاٹ کر پاکستان کیساتھ منسلک کردیا ہے۔ اس ضمن میں وہ مجہول کرداروں کو پاکستانی باور کرانے پر تلا رہتا ہے۔ وہ ایسے عوامل کو دفن کردیتا ہے جو بھارتی سازش کو کسی بھی موقع پر بے نقاب کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے اندر دہشتگردی کے مسئلے سے جڑے حقائق زیادہ خطرناک طور پر بھارت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔مثلاً بلوچستان کے وزیر داخلہ نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کیا کہ کراچی میں چینی قونصلیٹ پر بی ایل اے کے حملہ آوروں میں سے ایک نام وہ بھی ہے جو لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ کچھ افراد ایسے بھی ہیں جن کے ناموں پر بعض سیاسی جماعتیں مختلف اداروں کو دباؤ میں لینے کی کوشش کرتی ہیں جبکہ وہ ایک بڑے کھیل کے کل پرزے کی طرح کسی سازشی مشینری کے ذریعے حرکت میں آنے کیلئے خود ہی ’’غائب‘‘ ہیں۔ یہ فقرہ کسی بھی طرح اس سنگینی کو کم نہیں کرتا جو بے گناہ لوگوں کے لاپتہ ہونے کی صورت میں ریاستی اداروں پر ذمہ داری کا بوجھ ڈالتا ہے۔ یہاں محض اس زیر بحث نکتے کو اجاگر کرنا تھا کہ لاپتہ افراد کے معاملے میں سب کچھ یک رخا نہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جس مسئلے کی بنیاد پر حکومت یا ریاستی اداروں کے خلاف ایک دباؤ پیدا کرتی ہو، ان میں شامل کچھ افراد دشمن کے ہاتھوں پاکستان کی سرزمین لہولہان کرنے کیلئے کہیں تربیت یا منصوبہ سازی کا حصہ بنے بیٹھے ہو۔ ایسی صورت میں سیاسی جماعتوں کے کردار کو زیادہ گہرائی سے پرکھنے کی ضرورت پیدا ہوجاتی ہے۔ درحقیقت یہ صورتحال بھارت کے کردار کو زیادہ گہرائی سے تولنے ٹٹولنے کی ضرورت اجاگر کررہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان بھارتی مداخلت کا منہ توڑ جواب دے ،یہ تو خوش قسمتی کی بات ہے کہ چینی قونصلیٹ کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دہشتگردوں کو چینی باشندوںتک پہنچنے سے پہلے ہی انجام کار تک پہنچا دیا،ہمارے سکیورٹی ادارے یقیناً اس بات کا سراغ لگاچکے ہوں گے کہ دہشتگردوں کی قونصلیٹ تک رسائی کیسے ممکن ہوئی اور آئندہ اس کا سدباب کیسا کیا جا سکتا ہے ، جب تک اس طرح کی دہشتگردانہ کارروائیاں ختم نہیں ہو جاتیں تب تک عام آدمی اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتا رہے گا اور پاکستان کی پہچان دنیا کے سامنے ایک غیرمحفوظ ملک کے طور پر ہی ہوگی ،ہمیں اس بات کا بھی ازسر نو جائزہ لینا ہوگا کہ بھارت پوری دنیا میں ہمیں بدنام کرنے پر تلا ہوا ہے اور ہمارے ہاں آج بھی ایک طبقہ بھارت کے بارے نرم رویہ رکھتا ہے، آخر کیوں؟ ۔

متعلقہ خبریں