Daily Mashriq

پولٹری صنعت سے وابستہ خدشات

پولٹری صنعت سے وابستہ خدشات

پو لٹری کی صنعت ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔اگر تجزیہ کیا جائے تو اس وقت پولٹری کی صنعت میں سرمایہ کاروں نے 750 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے جس سے وطن عزیز میں بلا واسطہ اور بلواسطہ 15 ملین یعنی ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو روز گار میسر ہے۔جو ملکی اقتصادی ترقی اور خوشحالی میں اہمیت کا حامل ہے۔وطن عزیز میں با قاعدہ پو لٹری صنعت کا آغاز 1962 میں ہوا ۔اور ملک کے زیادہ تر صنعت کاروں نے اس شعبے میں سرمایہ کاری شروع کی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پو لٹری کی صنعت میں سالانہ 12 سے 15 فی صد اضافہ ہورہا ہے جو انتہائی خوش آئند ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت وطن عزیز میں تقریبا ً 25 سے35 ہزار پو لٹری فارم ہیں اور اسی طرح لاکھوں چھوٹی بڑی دکانیں پولٹری کی صنعت کے فروغ میں کو شاں ہیں۔پاکستان میں سالانہ33کروڑ60لاکھ برائلر یعنی گوشت حاصل کرنے والی اور ایک کروڑ 20 لاکھ انڈے دینے والی مُر غیوں کا کا روبار ہوتا ہے۔یہاں اگر ایک طرف پولٹری کی صنعت سے لا کھوں لوگوں کو نوکری ملی ہوئی ہے اور ملکی معیشت اور اقتصادیات کو فائدہ ہوتا ہے تو دوسری طرف ایسے کچھ منفی پہلو بھی ہیں جس کا ازالہ کرنا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ یہ صنعت سائنسی طریقے سے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ترقی کر سکے اور ملک میں عام لوگوں کو صحت مند گو شت مہیا ہوسکے۔

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ گو شت دینے والی اور انڈے دینے والی مُرغیوں کو جو خوراک دی جاتی ہے وہ سائنسی نُقطہ نظر سے ٹھیک نہیں ۔ ہمارے ملک میں مرغیوں کی فیڈ یعنی خوراک کو چیک کرنے کے لئے کوئی ایسی لیبا رٹری نہیں جس سے پتہ چل سکے کہ مرغیوں کو جو خوراک دی جا تی ہے اُس میں کیا کیا چیزیں شامل ہوتی ہیں۔کیونکہ زیادہ تر پو لٹری کے ماہرین کا خیال ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں پو لٹری کو جو فیڈ دی جاتی ہے وہ حفظان صحت کے اصولوں پر پورا نہیں اترتی۔اُن کے خوراک میں اتنی مضر صحت ادویات شامل ہیں جو نہ صرف پو لٹری بلکہ انسانی صحت کے لئے کسی صورت ٹھیک نہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ جس وقت مرغیوں کوگاہکcustomer کے لئے صاف کیا جاتا ہے تو مرغیوں کی انتڑیاں ، اُنکا فضلہ، پر اور پنجے اکثر اس صنعت سے وابستہ کاروباری حضرات خریدتے ہیں جو انکو بوائلر میں سٹیم یعنی حد سے زیادہ گرم کرکے ان سے مر غیوں کے لئے فیڈ اور تیل نکالتے ہیں۔اگر دیکھا جائے نہ تو یہ فیڈ مر غیوں کو دینے کے قابل ہوتی ہے اور نہ انکا تیل کھانے کے قابل ہوتا ہے کیونکہ دونوں صورتوں میں ان میں مرغیوں کی انتڑیوں کا فضلہ ہوتا ہے جو نہ صرف مرغیوں کی خوراک میں شامل ہوتا ہے بلکہ جو تیل ان سے نکالا جاتا ہے وہ بھی گندہ ہوتا ہے۔ اور حرام چیز کسی لحا ظ سے کھانے کے قابل نہیں ہوتا۔اگر ہم غور کریں تو دو کلو مر غی میں تقریباً ایک کلو گرام خا لص گو شت ہوتا ہے اور باقی اُ س میں انتڑیاں ، پنجے اور پر ہوتے ہیں۔اگر ہم اعداد و شمار پر غور کرلیں تو اس وقت ایک دن میں 440 ٹن پولٹری یعنی مُر غیوں کے صنعت سے انتڑیاں ، پنجے، پر اور فضلہ مختلف ٹھیکیدار لیتے ہیں جسکو پراسس کرکے ان سے مر غیوں کی خوراک اور تیل نکالا جاتا ہے۔پنجاب میں انتڑیوں‘ پنجے اور پر کا جوٹوٹل کچرا پایا جاتا ہے وہ 266 ٹن ، سندھ سے 90 ٹن ، خیبر پختونخوا سے 75 ٹن، بلوچستان سے 27 ٹن ، آزاد جموں کشمیر سے 10 ٹن قبائلی علاقہ جات سے 11 ٹن اسلام آباد سے 5ٹن اور گلگت بلتستان سے ایک ٹن کچرا سپلائرزخریدتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں اس کچرے سے مر غیوں کی خوراک اور اس سے تیل نکالنے کے غالباً 5 کا رخانے ہیں جو حطارمیں واقع ہیں۔جو مندرجہ بالا مواد کو پروسس کرکے اس سے مر غیوں کے لئے خوراک اور تیل نکالتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ان سے جو تیل نکالا جاتا ہے وہ کدھر جاتا ہے اور ان سے مرغیوں کے لئے جو خوراک تیار ہوتی ہے کیا اُنکا کسی سرکاری لیبا رٹری سے ٹسٹ ہوتا ہے۔کیا مر غیوں کی خوراک اور تیل حفظان صحت کے اصولوں پر ہے۔ جہاں تک اس سے تیل نکالنے کا عمل ہے خیال کیا جاتا ہے کہ مختلف علاقوں میں قائم فیکٹریاں حکومتی ارباب اختیار کی اجازت سے یہ کاروبار کرتے ہیں اور وہاں کی انتظامیہ اس قسم کے گھنائونے کاموں میں ملوث ہوتی ہے۔

اگر کسی علاقے کی انتظامیہ اپنے فرائض منصبی اچھے طریقے سے ادا کرے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ کاروباری حضرات اس قسم کا گندہ تیل بیچ کر لوگوں کی زندگی کے ساتھ نہ کھیلیں ۔حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ پولٹری ویسٹ کے لئے قانون بنائے اور اسکے لئے ٹسٹنگ لیبا رٹریاں بنائے تاکہ عام لوگوں کو گندی اور خراب چیزیں کھانے کو نہ ملیں۔پولٹری کے صنعت میں جو ادویات دی جاتی ہیں انکے لئے بھی کوئی قانون بنائے اور اس کی ٹسٹنگ کے لئے بھی لیبا رٹریاں بنائے تاکہ عام لوگوں کو اعلیٰ قسم وہائٹ میٹ ملے۔یہاں ایک مجموعی تا ثر یہ ہے کہ مر غیوں کی بڑھوتری کے لئے جو خوراک دی جاتی ہے اس میں اکثر ایسے کیمیکلز اور سٹیرائیڈ ز ہوتے ہیں جو انسانی صحت کیلئے مضر ہوتے ہیں۔ پولٹری کا استعمال تو مغربی ممالک میں بھی بُہت زیادہ ہوتا ہے لیکن وہاں پر ہر چیز کو چیک کرنے کیلئے ایک سسٹم موجود ہیں جس کی وجہ سے وہ مضر صحت کیمیکلز سے بچے ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں