Daily Mashriq

خطے کے مسائل کا حل ہمسایہ ممالک ہی کے پاس ہے

خطے کے مسائل کا حل ہمسایہ ممالک ہی کے پاس ہے

وفاقی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دیرپا امن افغانستان میں امن سے مشروط ہے جبکہ افغانستان کی حکومت بھارت کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کررہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی سرزمین پر امن قائم کیا اور دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ کامیابی سے جاری ہے جبکہ 648 کلومیٹر کی سرحد پر افغانستان کی کوئی ایک چیک پوسٹ نہیں۔انہوں نے کہا کہ داعش کے لیے افغانستان کا علاقہ کافی ہے، انہیں پاکستان کی ضرورت نہیں جیسا کہ افغانستان کے 45 فیصد علاقے پر داعش قابض ہے۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن نے بھارت کے دورے کے موقع پر ایک مرتبہ پھر کہا ہے خطے میں بھارت کے قائدانہ کردار کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان‘ بھارت اور افغانستان خود اپنے ملک میں حملے کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ انہوں نے یہ راگ بھی الاپا کہ دہشت گردوں سے پاکستانی حکومت کے استحکام و سلامتی کو خطرہ ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو جن پچھتر افراد کی فہرست دی ہے اس میں کسی پاکستانی کا نام شامل نہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ کو کھٹکنے والے حافظ سعید کو بھی اس فہرست میں شامل نہیں کیاگیا ہے۔ محولہ فہرست میں حقانی نیٹ ورک کے افراد کے نام شامل ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ ایک جانب پاکستان کو خطرات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ لیکن جو فہرست دی جاتی ہے وہ ان افراد کے ناموں پر مشتمل ہوتی ہے جو پاکستان میں نہیں اور نہ ہی ان کا پاکستان سے کوئی تعلق ہے۔ حقانی نیٹ ورک کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں بلکہ یہ نیٹ ورک مکمل طور پر افغانستان منتقل ہوچکا ہے جہاں وہ سرگرم عمل ہے یا نہیں اور اس کے خلاف امریکہ و افغانستان کوئی کارروائی کر رہے ہیں یا نہیں اس کاانہی کو علم ہوگا۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کا اب کوئی گروپ اور گروہ سرگرم عمل نہیں کہیں کوئی غیر منظم گروہ کی سن گن ملتی ہے تو اس کے خلاف گاہے بگاہے ہونے والی کارروائیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایک جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بلا سوچے سمجھے دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں تو دوسری جانب خود امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی سے انکار کی وجہ سے پاکستان پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاملات سے قطع نظر خطے کے ممالک کے ساتھ اس کا دوہرا معیار اور رویہ ناقابل برداشت ہے۔ امریکہ اگر بھارت کے ساتھ خصوصی مراسم رکھے اور پاکستان کو نصیحتیں کرتا جائے اس پر کان دھرنے کی توقع عبث ہوگا۔ پاکستان کی حکومت اور ملکی سلامتی کو کسی جانب سے کوئی خطرہ نہیں ۔ جن ایام میں دہشت گردی عروج پر تھی اس وقت بھی حکومت اور ملکی سلامتی پر کوئی حرف نہیں آیا۔ پاکستان نے دہشت گردی کا جس انداز میں مقابلہ کیا وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں لہٰذا بہتر ہوگا کہ امریکہ ان خدشات کے اظہار کی بجائے اپنے کردار و عمل اور پاکستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات پر توجہ دے۔ امریکی دوعملی کا مقصد پاکستان اور بھارت کے درمیان خلیج کو وسعت دینا ہے جس کا دونوں ملکوں کی قیادت کو ادراک کرتے ہوئے باہم معاملات میں بہتری لانے اور اختلافات کاخاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ دنیا کے جس خطے میں جاتا ہے اور جہاں جہاں بھی انہوں نے اصلاح کے نام پر کارروائی شروع کی ہے یہ اس خطے کی تباہی و بربادی کاسامان ثابت ہواہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان مخاصمت اپنی جگہ پہلے سے موجود کشیدگی کیا کم تھی کہ امریکہ بھارت کو گود میں بٹھا کر خطے کو آتش فشاں بنا دینے کاکردار ادا کرنے لگا ہے۔ جہاں تک افغانستان میں بھارت کا سہولت کار کے کردار کی ادائیگی کا سوال ہے یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان قیام اعتماد میں سب سے بڑی رکاوٹ بلکہ مخاصمت کا باعث ہے۔ اگر اس زہریلی شاخ کو کاٹ دیا جائے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات اور مخاصمت کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ سرحدی تنازعات اور ہمسایہ ملکوں کے ایک دوسرے سے تحفظات فطری سی بات ہے جن کا حل مل بیٹھ کر ممکن ہے مگر جو ملک کسی ملک کے دشمن کو کندھا پیش کرتا ہے اس سے مفاہمت کیسے ہوسکتی ہے اس پر افغان حکمرانوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان اس کے باوجود ہمسایہ ملک کے خلاف دوسروں کو کندھا پیش کرنے کی غلطی کررہا ہے جہاں خود ان کے اپنے ملک پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں۔ افغانستان کا تقریباً نصف فیصد علاقہ دوسروں کے کنٹرول میں ہے۔ خطے کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارے مسائل اور مفادات دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہیں جب تک خطے کے ممالک اپنے مسائل کے حل پر خود ہی اتفاق کرکے باہم تعلقات کو بہتر نہیں بناتے امریکہ اور کوئی دوسرے کسی ملک کی نہ تو مدد سے کوئی واضح بہتری آسکتی ہے اور نہ ہی باہم دست و گریبان ہونے کی قیمت پر ان سے تعلقات خطے کے مفاد میں ہے۔

اداریہ