وی وی آئی پی ملزم

وی وی آئی پی ملزم

اربوں روپے کی خوردبرد کے الزام میں گرفتار سندھ کے سابق صوبائی وزیر کو جیل میں وی وی آئی پی قیدی کا درجہ ملنا سندھ کے وزیر اعلیٰ اور پانچ وزراء کا ان کے ساتھ تاش کھیلنا، ملزم کو گھر سے کھانا منگوانے کی رعایت جیسے معاملات سے احتساب کے عمل پر عوام کا اعتماد اٹھ جانے کا باعث معاملہ تو ہے ہی وزیر اعلیٰ سندھ اور وزراء کا اس قدر کھل کر ایک ملزم کی پشت پناہی ودلجوئی ملک میں انصاف و قانون کی حکمرانی کی سر اسر خلاف ورزی ہے جس پران کے خلاف عہدے کا ناجائز استعمال اور بد عنوانی کی سرپرستی کے ضمن میں مقدمہ چلانے کی ضرورت ہے اس طرز عمل کا متعلقہ اداروں کو نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ اور سندھ کی حکومت کے ان اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف ریفرنس دائر ہونا چاہیئے کہ وہ صادق اور امین کی تعریف کے اب امین نہیں رہے۔ یہ تو بہر حال امکانات اور قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے تقاضے ہیں جن پر توجہ ہی شاید کوئی دے اس قدر جرأت و کردار کا مظاہرہ ہمارے معاشرے میں ہو جائے تو کرپشن و بد عنوانی کے اس قدر مظاہرے سامنے نہ آئیں ۔ اس سوچ کے باعث ہر محب وطن شخص کا مشوش ہونا فطری امر ہے کہ اس طرح کے کردار وں کی باقاعدہ سرکاری طور پر سرپرستی ہوتی رہے اور عزت افزائی کیلئے صوبائی حکومت کے کرتا دھرتا جیل میں ملاقات کیلئے تشریف لے جانے لگیں اور ملزمان اچھے سے اچھا اور اعلیٰ وکیل کر کے عدالتوں سے چھوٹتے رہیں تو کیا ہر کس وناکس احتساب کے خوف سے مبراہو کر لوٹ مار کیلئے کمر کس نہیں لے گا ۔ اس میں شبہ نہیں کہ ملک کے ہر شعبے میں کرپشن ہے اور کرپٹ عناصر کی موجودگی سے انکار نہیں لیکن اس قدر کھلے عام ایک احتسابی ادارے کے گرفتار ملزم کو ملزم کی بجائے کوئی بڑی شخصیت گردانا جائے تو معاشرے میں رشوت و بد عنوانی پر لعنت کون بھیجے گا ۔ اس طرح کے کردار و عمل کے مظاہرے کا قومی سطح پر مذمت اور شرمناک گردانے بغیر رشوت و بد عنوانی کی سر پرستی تو ممکن ہے اس کا خاتمہ ممکن نہیں ۔
دیر آید درست آید
خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کے اسناد کی چھان بین اور ان کے تقرر نا موں کی تصدیق کا احسن اقدام کے زمرے میں آئے گا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ محکمہ صحت کے حکام ان اردلیوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کے خلاف بھی اسی کے ساتھ ہی کارروائی کرے جو ہسپتال سے باہر ڈاکٹربن کر مریضوں کی صحت سے کھیل رہے ہوتے ہیں ۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں اور نہ ہی ان افراد کی شناخت اور ان کی سرگرمیوں پر نظر کوئی مشکل کام ہوگا۔ آخر محکمہ صحت کو اس وقت ہی کیوں خیال آیا کہ جعلی ڈاکٹر کے تدریسی ہسپتال میں موجودگی کے بعد ہی دیگر کی ڈگریاں چیک کی جائیں۔ بہر حال جو ہوا سو ہوا اب بھی اگر تفصیلی چھان بین ہو تو ہسپتال جانے والے مریضوں کو کم از کم یہ اعتماد تو ہوگا کہ سرکاری ہسپتال میں کوئی مستند ڈاکٹر ہی ان کا معائنہ کر کے علاج و ادویات تجویز کرے گا ۔ ہسپتالوں میں خود ساختہ دائی اور اردلی و خدمت گار بن کر مریضوں کو لوٹنے والوں کا ہرہسپتال کی انتظامیہ کو بخوبی علم ہوتا ہے بلکہ یہ انہی کے پروردہ ہوتے ہیں ان کی بھی تطہیر ضروری ہے ، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو نیم پلٹ لگانے اور ہسپتال کا کارڈ آویزاں کرنے کی بھی پابندی کرائی جائے تاکہ ان کی شناخت ہو سکے ۔
جی ٹی روڈ کو کھلا رکھنے کا احسن فیصلہ
ریپڈ بس منصوبے پرکام کے آغاز پر جی ٹی روڈ کی بندش کا فیصلہ نہ کرنا اور وی آئی پی موومنٹ کے دوران بھی سڑکیں کھلی رکھنے کا فیصلہ خوش آئند اور عوامی مشکلات کے ادراک کاحامل معاملہ ہے۔ ٹریفک کا نظام کنٹرول کرنے کے لئے عملے کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ بھی خوش آئند ہے۔ اس موقع پر حکام کو اس امر کو یقینی بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ عملہ روایتی خوش گپیوں اور وقت گزاری کی بجائے ٹریفک کے بہائو کو جاری رکھنے کی بھرپور سعی میں مگن رہے۔ عموماً دیکھا یہ گیا ہے کہ ٹریفک کے اژدھام میں گاڑیوں کے شور میں ٹریفک اہلکار لا تعلق یا پھر بے بس کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر اعلیٰ افسران خود بھی گشت کی زحمت کریں تو یہ معاملہ بہتر ہوسکتا ہے۔ وی آئی پی موومنٹ رش کے اوقات میں اگر نہ ہی ہو تو زیادہ بہتر ہوگا۔

اداریہ