Daily Mashriq


تبدل وتغیر

تبدل وتغیر

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن افغانستان آئے ، پھر بھارت کو پدھا رے رستے میں دم لینے کے لیے صرف چار گھنٹے کے ٹرانزٹ پر پاکستا ن میں ٹھہرے اس طرح وہ کئی شخصیات کا لب ولہجہ بد ل گئے ۔ جب افغانستان میں تھے تو اس وقت بھی ان کی زبان سے جو پھوٹ رہا تھا اس سے ایسا معلو م ہوتا تھا کہ وہ افغانستان میں نہیں بلکہ بھارت کی راج دہا نی سے بول رہے ہیں۔ جب پاکستان آئے تو بھی لب ولہجہ میں کوئی کمی محسو س نہ کی گئی البتہ بھارت میں بھی لہجہ کچھ نہیں کا فی سے بھی بڑھ کر بھارتی تھا۔ ایسا لہجہ ما ضی میں امریکی حکمر انوں نے نہیں اپنا یا ، ستر کی دہا ئی سے پہلے ایر ان کو بھارت کی طرح ہی کا جنوبی ایشیا کا تھا نیدار بنا کر بٹھا دیا گیا تھا پھر اس تھانید ار کا کیا حال ہو ا کہ اس کو امریکا کی زمین میں بھی پنا ہ نہیںملی ۔ دنیا کی حسین ترین نا زو نعم کی پلی ملکہ ایر ان ملکہ فرح دیبا کن حال سے دوچار ہوئی حال ہی میں ایک شائع شدہ رپو رٹ میں کہا گیا ہے کہ بیچاری کو بازار سے سودا سلف لا کر دینے والا کوئی نہیں ہے ، چنا نچہ امریکا کی گو د میں اچک جا نے والو ں کو شاہ ایران رضاشاہ پہلو ی اور پاکستان کی امریکا کے ساتھ دوستی سے سبق حاصل کر نا چاہیے ۔امریکا نے بھارت کو ما ضی کا ایران جا ن لیا ہے کہ امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلر سن نے بھارت یا تر ا کے دوران فرمایا ہے کہ بھارت کو خطے کاوہ بطور لیڈر حما یت کر تے ہیں ۔ امریکا کی نئی پالیسی میں بھارت کا اہم کر دار ہے اور امریکا بھارت کے ساتھ کندھے سے کند ھا ملا کر کھڑا ہے ، پاکستان کے ساتھ بھی ملکر مثبت طریقہ سے کام کر نا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں بہت ساری دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پنا ہ گاہیں ہیں ، دہشت گرد اب پاکستانی حکومت کے لیے خطرہ بن گئے ہیں ، یہ خطرہ والی بات ٹلرسن کی نہ صرف ذومعنی ہے بلکہ بہت گہر ائی اور گیر ائی لیے ہو ئے ہے ، جہا ں تک بھارت کی قائدانہ صلا حیتو ں کا چرچا ہے تو وہ حیر ان کن بھی ہے کہ دہشت گردو ں سے نمٹنے کا بھارت کوکیا تجربہ کے اس کی قائدانہ صلا حتو ں کی حما یت کی پر چی کا ٹی جا رہی ہے ۔ سوویت یو نین کے بکھر جا نے کے بعد سے امریکا عملا ًحالت جنگ میں ہے اور اس نے تما م محاذ اسلا می امہ کے خلا ف کھول رکھے ہیں۔ اب نئی افغان پا لیسی کے نا م پر جو اقداما ت کیے جا رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس خطے میں نیا محاذکھولنے کی تیا ریا ں کی جارہی ہیں اور بھارت کو تھپکی اسی کی کڑی ہے۔ جہا ں تک امریکا دنیا کے جن خطوں میں بر سرپیکا ر ہے وہا ں اس کی اسٹریٹجی یہ رہی ہے کہ یہ لا محدود وقت کے لیے ہیں جبکہ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ امریکا جو گزشتہ سولہ بیس سال سے جنگ کو گھیر ے ہو ئے یا جنگ میں گھیر ا ہو ا اب تک ٹریلین ڈالر اس میںجھونک چکا ہے اور بہت سی قیمتی جا نیں ضائع ہو چکی ہیں۔ اس کے بدلے کیا حاصل کیا ہے اس کا کوئی جوا ب ہے، بلکہ امریکا کوجو کسی زما نے میں مقبولیت حاصل تھی وہ بھی کھو دی ہے ۔ البتہ امریکا نے ویت نا م کی جنگ سے یہ سبق سیکھا کہ جنگ کی باتیں کھل کر میڈیا کی زینت نہ بننے پائیں اور وہ اس میں کا فی حد تک کامیا ب بھی ہوا ۔ انسانی وحشت وخوف کے حوالے سے یہ پابندی عائد کی گئی کہ میڈیا میں جنگ کی تباہ کا ریو ں ، لا شو ں اور جبر وشدائد کی تصاویر نہ چھپنے پائیں وہ بھی کا میاب پالیسی رہی لیکن اس کے ساتھ ہی امر یکا نے جنگی حکمت عملی میںایک اہم یہ تبدیلی کی کہ اس نے زمینی لڑائی کو تر ک کر دیا اور اس کی بجا ئے فضائی حملو ں کو اپنایا چنا نچہ امریکی فوجی زمینی لڑائی سے بچ گئے۔ اس کے لیے امریکا کو غیر ملکی رضا کا ر مل جا تے ہیں جیسا کہ افغانستان ، عرا ق ،شام وغیر ہ میں ہے ، ویت نا م کی جنگ میں زمینی لڑائی بھی لڑنا پڑی تھی اور اس میں امریکی گھر انے کا کوئی نہ کوئی فرد شامل تھا جس کی وجہ سے امریکی حکومت کو اپنے ملک کے اندر ویت نا م کی لڑائی کی مخالفت کا سامنا کر نا پڑا تھا ۔ امریکی اعدادو شمار کے مطابق ویت نا م کی جنگ کے مقابلے میں بعد کی لڑائیو ںمیں امریکا کا جانی نقصان کم ہو ا ہے جس کا امریکی گھر انوں کاا حساس نہیں ہو رہا اور اس طر ح اندرون ملک دباؤ سے بچا ہو ا ہے ، اس امر کا اند ازہ ان اعدادو شما ر سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ نئی جنگی حکمت عملی کی وجہ سے رواں سال میں افغانستان اور عراق میں صرف چودہ امریکی فوجی ہلا ک ہو ئے ہیں جبکہ سال 2015ء میں افغان فو ج کے چھ ہزار سات سو پچیا سی افراد ما رے گئے۔ اس کے علا وہ کئی ہزار شہری الگ سے ہلاک ہوئے۔ دونو ں جانب سے افغان عوام کا جانی نقصان ہوا ہے ۔امریکا کی نئی پالیسیو ں کے پیش نظر ایسا کوئی امکا ن نظر نہیںآرہا ہے کہ مستقبل میں امریکا ان جنگو ں سے ہا تھ کھینچ لے گا کیو ں کہ امریکا کے صدر ٹرمپ نے سال 2017 -18کے لیے جو دفاعی بجٹ ما نگا تھا اس سلسلے میں سات سو بلین ڈالر کی منظوری دی گئی ہے جو ٹرمپ کی طلب کر دہ رقم سے کہیں زیا دہ ہے ۔ ایسے حالا ت میں پاکستان کے وزیر خارجہ اپنا موقف یہ بیا ن کر رہے ہیں کہ پاکستان نے امریکا پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستا ن کو امدا د نہیں بلکہ اپنا وقا ر چاہیے انہو ں نے یہ دکھ بھی ظاہر کیاکہ نائن الیون کے بعد امریکا سے بڑا سمجھوتہ کیا گیا اور اس کا نتیجہ آج دیکھ لیا ، سمجھو تہ کس نے کیا تھا کیا عوام کی منتخب حکومت نے کیا تھا یا ایک آمر کا اقدام تھا اس سے حساب کیو ں نہیں لیا جاتا ، جمہو ری دور میں قیا دت کی کوئی تفریق نہیں ہو ا کرتی ہے خواجہ آصف یہ جانتے ہیں جمہو ری دور میں صرف ایک قیادت ہوتی ہے۔ وہ سول قیا دت نہیں کہلا تی ہے بلکہ جمہو ری قیادت کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ زیا دہ سے زیادہ اس کو عوامی قیا دت کہتے ہیں۔ عوامی قیادت کو بحال رکھنے کی ذمہ داری سیا ست دانو ں کے کندھے پر ہے۔ جب سیا ست دان ہی اقتدار کا خون چاٹنے کے عادی ہو جا ئیں تو پھر زخم گہرے ہو تے جا تے ہیں۔ اب بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی سیا ست میں نو مبر دسمبر کا مہینہ نہ تو ساون بھا دو ں ہے نہ بہا راں بلکہ پت جھڑ کا موسم ہے جس کے بعد نئے پات اگیںگے اورنئی کو نپلیں چٹکیں گی جس کی آبیا ری میں سیا ست دانو ں کا ہی ہا تھ ہو گا ۔