Daily Mashriq


خوشحال خان خٹک اور احمدفراز کے ساتھ ’’مذاق‘‘

خوشحال خان خٹک اور احمدفراز کے ساتھ ’’مذاق‘‘

خبر ایسی ہے جس پر یہ سمجھ میں نہیں آتی کہ رویا جائے یا ہنسا جائے ، اور خبریہ ہے کہ ریپڈ بس منصوبہ پر باقاعدہ کام شروع کر دیا گیا ہے۔ امن چوک اور احمد فراز چوک کی مسماری کا کام شروع کر دیا جائے گا ، جناح روڈ پارک کے قریب لگائی جانے والی ایل ای ڈی سکرین کو بھی ہٹا دیا جائے گا ، منصوبے کے پیش نظر ٹریفک پولیس نے متبادل روٹس متعارف کرادیئے ہیں ۔ آپ یقینا یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ بھلا اس خبر میں ہنسنے یا رونے کی بات ہی کیا ہے جس کی جانب کالم کے آغاز میں اشارہ کیا گیا ہے ، تو جناب بات اس بے چارے احمد فراز کی ہے جس کے ساتھ مسلسل مذاق کیا جا رہا ہے۔ چند سال پہلے جب اس مقام پر واقعی ایک چوک ہوا کرتا تھا یعنی فردوس سینما (مرحوم ) کے آگے قلعہ بالا حصار کے کونے پر جہاں احمد فراز کے نام کا بورڈ آویزاں کر کے اسے چوک قرار دیا گیا تھا یعنی ایک راستہ اسی مقام سے فرنٹیئر کالج ، لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی سمت ، دوسرا بالمقابل جناح پارک کی سمت اور باقی دوراستے ہشتنگری سے آنے اور سورے پل سے ہشتنگری جانے کیلئے استعمال ہونے کی وجہ سے یہ مقام چوک ہی تھا ، مگر اس وقت متعلقہ ادارے نے جو بورڈ اس مقام پر لکھوا کر ایستادہ کر ایا تھا تاکہ آنے جانے والوں کو معلوم ہو کہ یہ چوک احمد فراز جیسے عالمی شہرت کے حامل اور اس صوبے کے عظیم فرزند کے نام سے منسوب کر کے پشاور کی ٹائون انتظامیہ نے اپنے ذمے وہ قرض اتار دیا ہے جو اس قبیل کے عظیم لوگ اپنی خدمات سے اپنی مٹی کے نام کر دیتے ہیں مگرتب احمد فراز کے ساتھ ایک سنگین مذاق یوںکیا گیا کہ نصب کئے جانے والے بورڈ پر احمد فراز کے نام کے آخری حرف (ز) پر نقطہ نہیں لگایا گیا اور یوں ایک عرصے تک محولہ چوک احمد فرار چوک سمجھا جاتا رہا متعلقہ حکام کو نشاندہی کرنے پر اس غلطی کی تصحیح کر دی گئی ۔ تاہم وہ جو کہتے ہیں نا کہ سرمنڈاتے ہی اولے پڑے ، تو ابھی چوک کے نام کی تختی میں نقطے کی تصحیح ہوئی ہی نہیں تھی کہ اس سڑک کی ہیئت میں بنیادی تبدیلی کرتے ہوئے ٹریفک کے نظام کو ’’درست ‘‘ کرنے کیلئے اس چوک کو ہٹا کر اس پر جناح پارک کی سمت سے آنے والے راستے کو سڑک کے بیچ جنگلہ لگاکر بند کر دیا گیا او ر یوں یہاں چو رستہ ختم کر کے اسے سہ رستہ بنا دیا گیا ، ساتھ ہی احمد فراز کے نام کی تختی بھی خدا جانے کہاں چلی گئی ، اگر چہ اس کے مزید کچھ عرصے بعد جنگلہ ہٹا کر ہشتنگری سے آنے والی ٹریفک کیلئے ایک یوٹرن ضرور بنا دیا گیا مگر یہ چور ستہ پھر بھی نہیں بن سکا ۔ اور اب جبکہ ریپڈ بس منصوبے کیلئے کھدائی کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر میں ایک بار پھر احمد فراز چوک کا تذکرہ سامنے آیا تو ہنسی بھی آئی اور رونا بھی ، کہ جہاں چوک ہے ہی نہیں اسے کیونکر احمدفراز کے نام سے منسوب کر کے بے چارے کی روح کو تکلیف پہنچائی جارہی ہے ۔ اسے تو یہاں پہلے والے بورڈ پر تحریر کردہ نام یعنی (احمد فراز ) کے ناتے یہاں سے فرار ہونے پر مجبور کیا گیا ہے تو ان کے ساتھ ساتھ اس شہر کے ادباء و شعراء کے زخمی دلوں پر نمک مرچ بلکہ مسالہ تک چھڑ ک کے کیوں تکلیف میں مبتلا کیا جارہا ہے ؟ بہر حال ایک قابل عمل تجویز یہ بھی ہو سکتی ہے کہ احمد فراز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ریپڈ بس کے حوالے سے امید ہے کہ راستے میں جہاں جہاں سے یہ بس گزرے گی وہاں مختلف مقامات پر عوام کو بس پر چڑھنے اور اترنے کی سہولت فراہم کرنے کیلئے سب سٹیشنز یا سٹاپ وغیرہ تو یقینا بنائے جائیں گے ، اور اگر جناح پارک کے قریب ایسا ہی کوئی سب سٹیشن تعمیر کیا جائے گا تو اسے احمد فراز سٹیشن کے نام سے موسوم کر کے ان کے نام کو زندہ رکھا جائے (اگرچہ وہ اپنی ادبی خدمات سے ہمیشہ زندہ رہیں گے ) کیونکہ یہ ان کا اس قوم اور مٹی پر قرض ہے ۔ امید ہے صوبائی حکومت اس تجویز پر ضرور غور کرے گی ۔ احمد فراز کے ساتھ ساتھ ایک اور عظیم ہستی کا ذکر ہو جائے ، اور وہ ہستی ہے صاحب سیف وقلم خوشحال خان خٹک بابا ، جن کے نام سے پشاور سے لگ بھگ 45/40کلو میٹر دور ایک خوبصورت گائوں اکوڑہ خٹک بھی آباد ہے ، پشاور سے کراچی تک بچھائی جانے والی ریلوے لائن بھی نہ صرف یہاں سے گزرتی ہے بلکہ گائوں میں اکوڑہ خٹک ریلوے سٹیشن بھی ہے ، جہاں سے گزرنے والی ریلوے گاڑیوں میں واحد ریل گاڑی خوشحال ایکسپریس تھی جو یہاں رک کر مسافروں کو اتارنے اور چڑھانے کیلئے استعمال کی جاتی تھی ، باقی کوئی ریل گاڑی اس سٹیشن پر نہیں رکتی ۔ مگر اب اس واحد خوشحال ایکسپریس کا ٹھہر انا بھی موقوف ٹھہر گیا ہے ، اور یہاں کے مسافروں کو یا تو نوشہرہ یا پھر جہانگیرہ ریلوے سٹیشنوں پر اتار ا اور چڑھایا جارہا ہے ، ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ جس سٹیشن سے ریزرویشن ہوگی گاڑی صرف وہیں رکے گی ، خوشحال میموریل لائبریری کے نام سے ایک خوبصورت وسیع وعریض کمیونٹی ہال اور لائبریری کی وجہ سے یہاں ملک کے دور دراز علاقوں سے بڑے بڑے دانشور اور اہل قلم آکر تقاریب میں شرکت کرتے ہیں خوشحال خان خٹک کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ، جن کا مقبرہ اکوڑہ ریلوے سٹیشن کے قریب ہی مرجع خلائق ہے ، اس لئے ریلوے حکام اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر کے اگر کسی اور ریل گاڑی کو نہیں تو کم از کم خوشحال ایکسپریس کو اسٹیشن پر کم از کم پانچ سات منٹ تک ٹھہرانے کے احکامات صادر کر کے اس علاقے کے لوگوں کو سہولیات فراہم کریں ۔ 

صبح کا ذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر

ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو سے بھر گیا

متعلقہ خبریں