Daily Mashriq

سکھی بابل مورے

سکھی بابل مورے

اسکی دو بیٹیاں وفات پا چکی ہیں۔ ایک کو وہ اپنے آبائی قبرستان میں دفنا آیا ہے جب کہ دوسری کو بلدیہ پشاور والوں نے گٹھڑی بنا کر گور میں پھینک دیا۔ مشتاق شباب نے کئی سال پہلے راقم السطور کے حوالہ سے اپنے ایک تعزیتی کالم میں ’’شباب کی باتیں‘‘ لکھتے ہوئے اس لئے کہی تھیں کہ ان دنوں اس کی جواں سال بیٹی آنسہ شہقاز فاطمہ کالج سے لوٹتے وقت بس کے حادثہ کا شکار ہوکر جواں مرگ ہوکر 

صحن گل چھوڑ گیا دل میرا پاگل نکلا
کے مصداق اس جہان فانی سے چل بسی تھی ، جب کہ ان ہی دنوں راقم السطور کے ساتھ دوسرا حادثہ اس حکم حاکم کی تعمیل کی صورت پیش آیا جس میں اسے نشتر میونسپل پبلک لائبریری پشاور کو تحصیل گورگھٹڑی کے ایک تہہ خانے میں منتقل کرنے کو کہا گیا۔ راقم السطور انچارج لائبریرین تھا اہالیان پشاور کے لیئے سنہ 1924 میں قائم ہونے والے اس قدیم اور عظیم کتب خانے کا۔ نوکری کی پناہ چاہتے ہوئے حکم حاکم بجا لانا واجب تھا اس پر ۔ اس لئے مجھے شباب کی باتیں کے مصداق اس لائبریری کو گٹھڑی بنا کر زندہ در گور کرنا پڑا۔ سترہ سال گزر چکے ہیں اس واقعے کو۔ پڑھ چکا تھا فاتحہ سنہ 2001ء میں ۔ بھول چکا تھا میں بقول مشتاق شباب اپنی سگی اور علامتی بیٹیوں کے دکھ کو کہ ایسے میں خبر ملی کہ ارباب بست و کشاد نے پشاوریوں کے اس دفینے کو ایک بار پھر بے گور وکفن کردیا ہے۔ 15 اور 16 اکتوبر کے اخبار میں چھپنے والی بظاہر یہ عام سی خبر اپنے پڑھنے والوں کے لئے کوئی اہمیت نہ رکھتی ہوکہ وہ قدم قدم پھیلی کرپشن کی دلدل میں گردنوں گردنوں دھنس چکے ہیں۔ چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، بکتے انصاف اور مٹتی انسانیت کی خبروں کو خاطر میں نہ لانے والے شہر پشاور کے سیدھے سادے باسی اپنے قیمتی کتب خانہ کے حشر کو نشر ہوتا دیکھ کر بھلا کب اور کیوں تڑپیں گے۔ مجھے یاد پڑتا ہے جب گورگھٹڑی کے تہہ خانے میں قائم نشتر میونسپل پبلک لائبریری کی کتابیں لوٹنے کی غرض سے سٹی ویمن کالج پشاور کی لیڈی پروفیسروں پر مشتمل ایک مال مفت دل بے رحم کی حامل ٹیم بھری ہوئی گاڑی میں تحصیل گورگھٹڑی میں بھیجی گئی تھی تاکہ وہ اس کتب خانے کے مواد کوکالج کی لائبریری کے لئے لوٹ لائیں۔ بڑا شدید حملہ تھا خواتین ٹیچرز کا۔ انہوں نے چودہ سیٹر گاڑی میں بیٹھے بیٹھے لائبریری میں مطالعہ کی غرض سے آنے والے مردوں کو لائبریری سے نکال باہر کرنے کا پیغام بھیجا۔ جسے سن کر میں مبہوت ہونے کی بجائے تڑپ اٹھا۔ آپے سے باہر ہوگیا تھا میں۔ اور لائبریری میں موجود مردوں سے کہنے لگا تھا کہ کوئی بھی لائبریری ہال سے باہر نہ نکلے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ان پردہ دار خواتین ٹیچرز کے پیغام کے جواب میں کہا تھا کہ وہ پڑھے لکھے معززین شہر کی توہین کرنے اور ان کو لائبریری سے نکال باہر کرنے کی بجائے ان کی موجودگی میں لائبریری کے اندر آکر مجھ سے بات کریں۔ اور ساتھ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ آپ ’’پاکستان میں رہتے ہوئے زنانہ اور مردانہ پاکستان کیوں بنا رہی ہیں‘‘۔ لائبریری میں مطالعہ کی غرض سے آنے والے پشاوری اتنے بھی گئے گزرے نہیں جو آپ ان کو لائبریری سے نکال باہر کر نے کا حکم صادر کر رہی ہیں۔ بتائیں کس لئے آئی ہیں آپ سب؟؟؟ میں نے خواتین ٹیچرز کی ترجمان سے پوچھا تو وہ بتانے لگیں کہ ہم سٹی کالج کی پرنسپل کے حکم پر کالج کی لائبریری کے لئے کتابیں لے جانے کی غرض سے آئی ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ان کی اس بات کے جواب میں کہا تھا کہ جاؤ اور لکھوا کر لاؤ، میں تحریر دیکھ کر سوچوں گا کہ میں نے کیا کرنا ہے اور اس کتب خانہ کے تحفظ کے لئے کس عدالت کے در انصاف پر دستک دینی ہے۔ دانش مند تھیں قوم کی بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے والی وہ خواتین ٹیچرز جنہوں نے میری کسی بات کا برا نہیں منایا اور لوٹ گئیں گاڑی ڈرائیور کے ریورس گئیر پر۔ خالی گیا پشاوریوں کے اثاثے کو لوٹ لے جانے کا وہ وار، نہ چل سکی میری پڑھی لکھی اور قوم کی ماؤں بہنوں کے کندھے پر رکھی بندوق۔ مجھے یاد پڑتا ہے جب مجھے بار بار بلدیہ پشاور کے ٹاؤن ون کے دفتر بلوا کر کہا جاتا رہا کہ لے جاؤ اپنی لائبریری کی کتابوں کا ملبہ کچہری گیٹ والے میونسپل پلازہ میں۔ اف میرے خدا، یہ کیا ہورہا ہے ، میں مرتا کیا نہ کرتا دوڑتا ہانپتا کسی ہم نفس، ہمدم،ہمنوا، ہم قلم کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ۔ دم عیسیٰ لگا تھا مجھے مشتاق شباب کا وہ جملہ جس میں انہوں نے میونسپل پبلک لائبریری کو میری دوسری بیٹی سے تشبیہہ دی تھی۔
گرتا پڑتا پہنچا اپنے قلم بدوش مسیحا کے پاس اور بلک بلک کر بتانے لگا انہیں اپنے دل کے گھاؤ اور پھر اگلے روز میں نے دیکھا کہ شباب کی تمام تر باتوں کا موضوع، نشتر میونسپل پبلک لائبریری تھا ۔ غالباً یہ کالم پڑھ کر عقل کے ناخن لئے گئے اورایسی چپ سادھ لی گئی کہ پشاوریوں کے دانش مند طبقہ کا یہ بے بدل اثاثہ اپنے تابوت کی آخری کیل لگنے اور جنازہ اٹھنے کی زد سے بچ گیا۔ راقم السطور نشتر میونسپل پبلک لائبریری آفیسر کے منصب سے جون 2010 میں ریٹائر ہوکر فارغ ہوا۔ بہت سی چشم دید گواہیاں بہت سے چونکا دینے والے واقعات کی دہرانے کا بہت سا قرض اس کے ذمے واجب الاداہے۔ فی الحال وہ اتنا ہی عرض کرسکتا ہے کہ اہل پشاور کے اس قیمتی اثاثے کو ٹھکانے لگانے کی جو طاغوتی کوششیں آج سے سترہ سال پہلے شروع ہوئی تھیں آج اپنے منطقی انجام تک پہنچ گئیں۔
اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے
کوئی ادھر گرا کوئی ادھر گرا
کے مصداق 1924 میں قائم ہونے والے اہالیان پشاور کے اس اہم کتب خانہ کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ فرنیچر شاہی باغ میں پھینک دیا گیا۔ کتابیں میونسپل پلازہ کچہری گیٹ میں ڈمپ کردی گئی ہیں اور اس کا سہم زدہ بے بس عملہ پر جانے کیا گزر رہی ہے۔ اپنے بچوں کیلئے دانہ دنکا مانگنے اس لائبریری کا رخ کرنے والے میرے دل کے ٹکڑے نواسوں اور ان کی میونسپل یونین کے عہدے داروں پر جن کے چئیر مین ملک نوید کی پرورش اس لائبریری ہی نے کی تھی۔