Daily Mashriq

غاصبانہ تسلط کاسیاہ ترین دن

غاصبانہ تسلط کاسیاہ ترین دن

سنا ہے بہت سستا ہے خون وہاں کا

اک بستی کہ جسے لوگ کشمیرکہتے ہیں
آج پھردنیابھرمیںبسنے والے مظلوم کشمیری عوام بھارت کیخلاف اپنی نفرت کا اظہارکرنے کیلئے احتجاج کے ذریعے اقوام عالم کو یہ بات باورکرانے کی جدوجہد کریںگے کہ27 اکتوبر 1947ء کو بھارت نے ریاست جموںو کشمیر پر غاصبانہ تسلط قائم کیاتھاجسے کشمیری عوام کسی صورت ماننے کوتیارنہیں۔بھارت نے فوجی طاقت سے کشمیری عوام کے حقوق پرشب خون ماراہے۔جون1947 کووائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن کشمیرکے دورے پرسری نگرپہنچا،یہ وہ مہینہ تھاجب برطانیہ نے مسلما نا ن ہند کی طویل جدو جہد سے مجبورہوکرہندوستان کوتقسیم کر نے کا اعلان کیاتھا۔ وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کی جب جموں اور کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ سے ملاقات ہوئی تو وائسرائے نے مشورہ دیاکہ کشمیرچونکہ مسلمان اکثریتی ریاست ہے اسلئے آبادی کی ترکیب کے لحاظ سے اس کاالحاق پاکستان کیساتھ ہوناچاہئے جس پرمہاراجہ ہری سنگھ خاموش رہا۔وائسرائے سمجھا شایدمہاراجہ پاکستان کیساتھ الحاق پرتیار نہیں توپینترا بدلتے ہوئے کہاکہ اگرپاکستان قبول نہیںتوہندوستان کیساتھ الحاق کرلومسلمان اس پرسیخ پاہوںگے مگرتم فکرمت کرنا میں حفاظت کیلئے پوری ایک ڈویژن پیادہ فوج لگادوں گا مہاراجہ نے تب بھی لب کشائی ضروری نہیںسمجھی اس کے ذہن میںتیسری راہ کیلئے نقشے بنتے جارہے تھے اور وہ تھی خودمختاری۔ مگریہ اس کے ذہن وگمان میںبھی نہیںتھاکہ اسے اپنی مرضی سے کسی ریاست کیساتھ الحاق کرنے یا خود مختار رہنے کی نوبت ہی نہیں آئیگی۔ بھارت خودکشمیر پر بزو ر شمشیرقابض ہوجائیگا۔ تقسیم ہندکی منظوری کے بعدجموںوکشمیرکے عوام نے پاکستان سے الحاق کرنے کیلئے تحریک شروع کردی اورایساکرنے کی ضرورت تب محسوس ہوئی کہ جب سمجھ لیاگیاکہ مہاراجہ ہری سنگھ ہندوں اور سکھوں کے دبائو میں آکر بھارت کیساتھ الحاق کرنے پرراضی نہ ہو جائے۔بھارت کے اس وقت کے وزیراعظم پنڈت جواہرلال نہرونے سلامتی کونسل میںوعدہ کیا تھا کہ کشمیرمیںحالات معمول پرآتے ہی استصو ا ب رائے کردیا جائیگامگر آج70سال ہونے کوہیں بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوںاورعالمی برادری سے کئے گئے اپنے وعدوںکی پاسداری سے مکمل طورپرانکاری ہے۔1989ئسے تحریک آزادی کشمیرنے نیاجنم لیااس وقت سے اب تک ایک لاکھ پچیس ہزارمسلمان شہید23ہزارسے زائد خواتین بیوہ،ایک لاکھ سات ہزارچار سو بچے یتیم، ایک لاکھ سے زائدگھرخاکستر اور 700ایسے قبرستان آباد ہو چکے ہیںجن میںصرف شہداء مدفون ہیںاوراب بھی مقبوضہ وادی میںمظالم کالامتناہی سلسلہ جاری ہے ۔ مگرکشمیرکے جوانوںنے بھی چراغ کے ٹمٹماتے لوتک جدوجہدجاری رکھنے اورلڑنے کاعہدکیاہے ۔اس غاصبانہ قبضے کی دیوا ر میں شگاف ڈالنے کیلئے وہ کسی قربانی سے دریغ نہیںکررہے ہیں اوربھارت سے آزادی کے حصول تک اپنا تن من دھن قربان کرنے کاعزم کئے ہوئے ہیں۔بھارت کے غیرآئینی ،غیرقانونی اورغیراخلاقی تسلط کوقائم ہوئے 70 سال ہوچکے ہیںلیکن کشمیری عوام کسی صورت بھی بھارت کے اس غیرآئینی تسلط کوقبول کرنے کوتیار نہیںہیں یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ان کا عزم اور ارادہ مزیدپختہ ہورہا ہے ۔ بھارت نے اپنے ظالما نہ قبضے کوطول دینے کیلئے اورکشمیری عوام کی جاری جدو جہداورتحریک کوناکام بنانے کیلئے ہرقسم کاحربہ اور ہتھکنڈہ آزمایا مگر وہ اپنے مذموم عزائم میںکامیاب نہ ہوسکا۔ بھارت کی غاصب سیکورٹی فورسزنام نہاد کالے اورغیرانسانی قوانین کی آڑ میں کشمیرکے عوام کوشدیدظلم وستم کانشانہ بنارہی ہیںکبھی آرمڈفورسزسپیشل پاورز ایکٹ(افسپا) توکبھی ٹیرسٹ اینڈڈیسرپٹیو ایکٹویٹیز (ٹاڈا)کے نام پربنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاںکی جاتی ہیں۔کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کیاجاتاہے ۔افسوس ہے کہ اقوام متحدہ اورانسانی حقوق کے علمبرداروںکے کانوںپرجوں تک نہیں رینگتی اوربے گناہوںکے خون سے ہولی کھیلنے والے بھارتی غاصب فوج کاصرف تما شا کر رہے ہیں جوانکے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔آٹھ لاکھ سے زائدبھارتی فوج کے درندوںکاپامردی سے مقابلہ کرکے نامساعدحالات کے باوجودکشمیری عوام اپنی تحریک کوکامیابی سے ہمکنارکرنے کیلئے جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیںاوراپنے جان کے نذرانے دیکرآزادی کی شمع کوجلائے رکھاہے۔

اداریہ