Daily Mashriq

فاٹا اصلاحات کی اصلیت

فاٹا اصلاحات کی اصلیت

پچھلی ایک دہائی میں پاکستان میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہونے والا خطہ فاٹا ہے اور فاٹا کے مکین سب سے زیادہ متاثر ہونے والے لوگ ہیں۔ امریکہ میں 9/11 کے بعد افغانستان پر حملے سے لے کر آج تک فاٹا کے مکین اپنا علاقہ چھوڑ کردربدر ہونے پر مجبور ہیں ، ان کے روزگار کے ذرائع تباہ ہوچکے ہیں اور اس دوران ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ فاٹا کی تباہی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اس کا تعین کرنا تقریباً ناممکن ہے لیکن فاٹا کی تباہی سے دنیا کی توجہ اس علاقے کی بدحالی کی طرف مبذول ہونا اس مایوس کُن صورتحال میں شاید امید کی واحد کرن ہے۔ فاٹا میں ترقیاتی کاموں کے لئے ایک نئے انتظامی ڈھانچے اور گورننس سسٹم کی ضرورت ہے ، ایک ایسا نظام جو فاٹا کے باسیوں کی امنگوں کا ترجمان ہواور علاقے کی ترقی کے ساتھ ساتھ لوگوں کے روزمرہ کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ فاٹا کے علاوہ یہ پورے ملک کے لئے بدقسمتی کی بات ہے کہ فاٹا کی حالتِ زار دنیا کے سامنے آنے کے بعد فاٹا میں ترقی و اصلاحات لانے کے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا جارہا۔ فاٹا ریفارمز کمیٹی کے حالیہ ممبران کی تعداد پانچ ہے جن میںسے کسی ایک ممبر کا بھی فاٹا سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے اور ان ممبران کی جانب سے تجویز کردہ نام نہاد اصلاحات اس علاقے کے پسماندہ عوام سے ایک روشن مستقبل کا خواب بھی چھین لے گی۔ فاٹا میں کئی دہائیوں سے جاری زیادیتوں اورمختلف فرسودہ نظاموں کی ناکامی کے بعد اس وقت فاٹااصلاحات کمیٹی کے پاس صرف دو ہی آپشنز بچے ہیں۔ پہلا، خیبر پختونخوامیں انضمام کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں کی عمل داری فاٹا کے تمام علاقوں تک بڑھائی جائے ، اور دوسرا، پاکستان کے اداروں کی خامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے فاٹا کے جغرافیائی حالات ، معیشت اور معاشرت کو سامنے رکھتے ہوئے گورننس کا ایک ایسا نظام بنایا جائے جو فاٹا کے عوام کی امنگوں پر پورا اترسکے اور علاقے کے تمام مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔اگر پہلے حل کی بات کی جائے تو فاٹا تک پاکستانی اداروں کی عمل داری بڑھانا مسائل کو ختم کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے کیونکہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی قیادت اور ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے ججوں اور دانشوروں سے لے کر ایک عام آدمی تک سب اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کے تمام تر مسائل کی اصل وجہ ملک کے ناکام ادارے ہیں جو اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام نہیں دے رہے۔ دنیا کے مشہور معاشی ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ دنیا کے وہ ممالک کبھی ترقی نہیں کرسکتے جن کے ادارے فیل ہوجائیں ۔ جہاں تک دوسرے آپشن کی بات کی جائے تو فاٹا اصلاحات کے دوسرے آپشن میں علاقے کی فلاح و بہبود کی امید نظر آرہی ہے۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندوں کے ساتھ ساتھ ٹیکنو کریٹس ، ریسرچرزاور تعلیم دانوںکو اس سارے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان سب افراد کا تعلق فاٹا سے ہی ہو تاکہ وہ اس علاقے کے مسائل کو اچھی طرح سمجھنے کے علاوہ ان کو حل کرنے کے لئے مخلص بھی ہوں۔ اسی دوران ایسی اصلاحات کو فوری طور پر نافذ کردینا چاہیے جن پر کسی بھی سٹیک ہولڈر کو کو ئی اعتراض نہیں ہو۔ ان اصلاحات میں فاٹا کے لئے این ایف سی ایوراڈ میں حصہ، علاقے کو گورنر راج سے نجات دلاتے ہوئے ایک مقامی منتخب نمائندوں پر مشتمل کونسل کا قیام ، کمیونٹی پراجیکٹس کی نگرانی کے لئے لوکل باڈیز کا قیام، اجتماعی سزا کے وحشیانہ قانون کا خاتمہ اور پولیٹکل ایجنٹ کی سطح پر عدالتی اور انتظامی اختیارات کی تقسیم شامل ہیں۔آخر میں اس بات کی وضاحت نہایت ضروری ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضما م کو فاٹا کی اکثریت آبادی کی حمایت حاصل ہے ۔ پچھلے چند سالوں میں ایسے لوگوں کو میڈیا تک زیادہ رسائی ملی ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا تاثر پیدا ہوا ہے کہ فاٹا کے عوام انضمام کے حامی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم عنصر فاٹا کے عوام کے سامنے اصلاحات رکھنے کا طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ان کو یہ یقین دلایا گیا کہ ان کے پاس موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے یا خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس پسماندہ علاقے کے عوام کو آج تک یہ آپشن نہیں دیا گیا کہ ان کے علاقے میں ایک ایسی حکومت کا بھی قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے جو کہ وہاں کے مقامی افراد پر مشتمل ہوگی اور جس کو وہ خود اپنے ووٹ کے ذریعے منتخب کریں گے۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخواکے ساتھ انضمام کی غلط تصویر کشی کے ذریعے فاٹا کے عوام کو سہانے خواب دکھائے گئے ہیں کہ انضمام کے بعد ان کو عدالتوں کے ذریعے جلد از جلد انصاف کی فراہمی ملے گی، پورے علاقے میں اعلیٰ ترین معیار کے سکول اور ہسپتال قائم ہوجائیں گے، بڑے پیمانے پر انڈسٹری کے قیام سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا ، پولیس کے فعال نظام کے ذریعے علاقے سے جرائم کا خاتمہ کیا جائے گا اور پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات عام ہوجائیں گی۔ کیا ملک کے کسی بھی دوسرے پسماندہ علاقے کے حالات میں اتنے سال گزرنے کے باوجود اتنے بڑے پیمانے پر بہتری آئی ہے ؟ اگر نہیں تو پھر فاٹا کے عوام سے جھوٹ بولنے کی بجائے ان اصلاحات کو نافذ کیا جائے جن میں وہاں کے عوام کی رضامندی شامل ہو۔ 

(بشکریہ: ڈان ،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ