Daily Mashriq


قیمتوں میں اضافہ اور بجلی چوری کی روک تھام

قیمتوں میں اضافہ اور بجلی چوری کی روک تھام

وفا قی کابینہ کی جانب سے بجلی کی قیمت میں 1روپیہ 27پیسے اضافے کی منظوری سے پہلے سے بجلی کے بھاری بھر کم بلوں کے بوجھ تلے دبے عوام کا نالاں ہونا فطری امر ہوگا۔ بجلی کے بلوں میں یہ پہلا اور آخری اضافہ تو نہیں لیکن موجودہ حکومت نے دو ماہ کے دوران دو مرتبہ بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافہ کرکے عوام کو تشویش کا شکار کردیا ہے۔ ان اقدامات سے عام آدمی کا تشویش میں مبتلا ہونا فطری امر ہے۔ گو کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو کم سے کم متاثر کر رہی ہے لیکن لے دے کہ اس کے اثرات کی بہر حال عوام کو منتقلی اور ان کو متاثر ہونے سے محفوظ رکھنے کی کوئی ضمانت نہیں بلکہ بالواسطہ نہ سہی بلاواسطہ ہی عام آدمی متاثر ہو کر ہی رہنا ہے۔وزیر توانائی عمر ایوب کا کہنا ہے کہ نادہندگان سے بجلی بلوں کی وصولی کاعمل تیزکیاجارہاہے،ہم سب سے پہلے بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالیں گے،نادہندگان کیخلاف مہم لاہورسے شروع کی جا رہی ہے۔ پنجاب کے بعد خیبر پختونخوا اور پھر بلوچستان اور سندھ میں بھی مہم چلائی جائے گی،کنڈا سسٹم کا خاتمہ کرکے بجلی کی چوری روک کر سالانہ 280ارب روپے تک بچانے کاہدف ہے۔ حکومت نے بجلی چوری کی نشاندہی کے لئے ہر ٹرانسفارمر پر میٹر نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا آغاز اسلام آباد اور لاہور سے کیا جارہا ہے۔عمر ایوب نے کہا کہ ہم کے بی سی کیبلز لگائیں گے، جن پر کنڈا نہیں چلتا۔ اس کے علاوہ اے ایم آئی میٹر بھی لگائے جائیں گے، جو ٹرانسفارمر پر بھی نصب ہوگا، جو بجلی چوری کی نشاندہی کرے گا۔ دوسری طرف وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پاور ڈویژن نے مختلف صارفین کے لیے بجلی کے نئے نرخ جاری کر دیے ہیں۔نئے نرخوں کے مطابق ماہانہ 3 سو یونٹ تک کا ٹیرف 10 روپے 20 پیسے فی یونٹ برقرار رہے گا۔ تاہم 301 سے 7 سو یونٹ کے ٹیرف میں ایک روپے 60 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے ۔ ان صارفین کے لیے نیا ٹیرف 16 روپے سے بڑھ کر 17 روپے 60 پیسے فی یونٹ ہو جائے گا ۔7 سو سے زائد یونٹ کے گھریلو صارفین کے لیے نرخوں میں 2 روپے 70 پیسے فی یونٹ اضافہ ہو گا ۔ ان صارفین کے لیے نیا ٹیرف 18 روپے سے بڑھ کر 20روپے 70 پیسے ہو جائے گا ۔کمرشل صارفین کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف 18 سے بڑھ کر 21 روپے 60 پیسے فی یونٹ ہو جائے گا، جبکہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 84 پیسے فی یونٹ تک اضافہ ہو گا ۔صنعتی شعبے کا زیادہ سے زیادہ ٹیرف 18 روپے 84 پیسے فی یونٹ ہو جائے گا ۔زیادہ تعداد میں بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 3 روپے 78 پیسے فی یونٹ تک اضافہ ہو گیا جس کے بعد زیادہ سے زیادہ ٹیرف 21 روپے 60 پیسے فی یونٹ ہو جائے گا ۔بجلی کے نرخوں میں اضافے کے اثرات سے عام آدمی کو تحفظ دینے کے باوجود متاثر ہونا فطری امر ہوگا۔ ہر بار جب بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوتا ہے مہنگائی میں بھی لا محالہ اضافہ ہو جاتا ہے اس وقت صرف بجلی اور گیس بلوں میں بار با اضافہ ہی مسئلہ نہیں بلکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں کافی کمی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جیسے مشترکہ اور بڑے عوامل کے باعث مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے کرائے بڑھ گئے ہیں جس کے اثرات سبزی فروٹ سے لے ک عام اشیاء کی قیمتوں تک پر فرق پڑا ہے۔ دوسری جانب مشکل یہ ہے کہ حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے لئے کچھ نہیں۔ حکومت کو ملکی قرضوں کی اقساط کی ادائیگی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ہی میں مشکلات کاسامنا ہے جس سے اس بات کی توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ ان حالات میں عوام کو ریلیف دے البتہ اتنا ضرور ہونا چاہئے کہ حکومت مزید مہنگائی کو روک سکے۔ جہاں تک بجلی چوری کی روک تھام کے اقدامات کا تعلق ہے اس ضمن میں حکومت کے سخت سے سخت اقدامات کی تحسین کی ضرورت ہے۔ بجلی کی پیداوار اور صرف شدہ یونٹوں کے مقابلے میں وصولیوں کا نہ ہونا بجلی کے ضمن میں قرضے بڑھانے کا باعث بن رہا ہے اور حکومت کو بجائے اس کے کہ فائدہ ہو الٹا اربوں روپے کی ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے۔ بجلی کی چوری کو لائن لاسز کا جو نام دیا جا رہا ہے حکومت کو چاہئے اس کے لئے چوری اور سرقہ کا لفظ سرکاری طور پر استعمال کیا جائے تاکہ حقیقت حال کا بیان بھی ہو چوری کرنے والوں کو چور قرار دینے میں کیا امر مانع ہے۔ اس طرح سے جہاں صارفین بجلی چور کہلائے جانے سے بچنے کی کوشش کریں گے وہاں واپڈا کے اہلکاروں کو چوری کی روک تھام کی فکر بھی ہونے لگے گی۔ جب کسی اعلیٰ سطحی اجلاس میں واپڈا کے وزیر اور اعلیٰ حکام سے ان کے محکمے میں چوری اور سرقہ کا سوال ہوگا تو اس سے ہونے والی خفت کو وہ زیادہ موثر طریقے سے اپنے ماتحتوں کو بھی منتقل کریں گے اور عوام کو بھی ایک بہتر پیغام ملے گا۔ بجلی چوری کی روک تھام کے لئے جو بھی اقدامات کئے جائیں گے بل دینے والے صارفین کو اس سے شکایت نہ ہوگی جبکہ چوری کے عادی افراد کے لئے مشکل ضرور کھڑی ہوگی لیکن خدشہ ہے کہ دو نمبر طریقے سے بجلی حاصل کرنے والے لوگ واپڈا اور بجلی کی تقسیم کا ر کمپنیوں میں موجود اہلکار اس کا بھی حسب سابق کوئی نہ کوئی توڑ ضرور نکالیں گے۔بجلی چوری ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے کہ محض اس پر قابو پانے سے بیشتر مسائل حل ہوسکتے ہیں گو کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ کوئی سراہے جانے کے قابل اقدام نہیں لیکن بہر حال اس تلخ حقیقت کو سہارنا ہی پڑے گا لیکن حکومت کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ آخر کب تک وہ صافین اور بل دینے والوں پر ہی بوجھ بڑھاتی جائے گی اور ایسے اقدامات کرتی جائے گی کہ عوام بوجھ تلے دبے رہیں۔

متعلقہ خبریں