Daily Mashriq


فاٹا انضمام کے مزاحم عناصر

فاٹا انضمام کے مزاحم عناصر

ضلع مہمند میں تھانوں کے جائزہ لینے کیلئے ڈی آئی جی پولیس کے دورہ کے خلاف قبائلی جرگہ کے سرپا احتجاج بن جانے کا کوئی جواز اس لئے نہیں کہ قبائلی علاقہ جات کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کے دوران ان تمام انتظامات کی تیاری کی ضرورت ہے جو بندوبستی اضلاع میں رائج ہیں۔اس استدلال میں کوئی وزن نہیں کہ گورنر نے پولیس اور دیگر بندوبستی علاقوں کا نظام لانے سے پہلے قبائلی عمائدین کو اعتماد میں لینے کا وعدہ کیا تھا مگر قبائلی مشران کے ساتھ مشاورت کئے بغیر پولیس حکام نے مہمند کا دور ہ کیا۔ ان کا یہ استدلال بھی بے معنی ہے کہ گزشتہ حکومت نے فاٹا اصلاحات کے نام پر قبائلی پر امن نظام اور رسم و رواج کو ختم کرنے کا بل یک طرفہ طور پر منظور کیا۔قبائلی عمائدین کو گورنر خیبر پختونخوا کی مبینہ یقین دہانی کس تناظر میں تھی اس سے قطع نظر امر یہ ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد گورنر قبائلی علاقہ جات یعنی سابق فاٹا کے مختار کل نہیں رہے۔ قبائلی علاقہ جات کے انضمام کی پارلیمنٹ سے منظوری اور قبائلی منتخب اراکین اسمبلی کی جانب سے اس کی حمایت کے بعد نام نہاد قبائلی عمائدین کی کوئی حیثیت نہیں کہ وہ کار سرکار میں مداخلت اور احتجاج کا راستہ اپنائیں۔ اس طرح کے عناصر کا مقصد سوائے ان مفادات کے تحفظ کے کچھ نہیں جو سابقہ فاٹا میں ان کو حاصل تھے۔ قبائلی روایات کااحترام معاشرتی طورپر فاٹا کے انضمام کے بعد بھی ہونا فطری امر ہوگا۔ معاشرتی روایات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی معاشرہ خود اپنی روایات کو احترام دیتا ہے جبکہ قبائلی جرگہ کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں کسی بھی قسم کے جرگہ کو عدالت عظمیٰ غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ ضلع مہمند میں تھانوں کے قیام کا جائزہ لینے کے لئے ڈی آئی جی کادورہ اگر خلاف قانون ہے تو عمائدین علاقہ کو اسے عدالت میں چیلنج کرنا چاہئے۔ پشاور ہائیکورٹ کاقبائلی اضلاع کے صوبے میں انضمام کے بعد ڈپٹی کمشنر کی جانب سے عدالتی اختیارات استعمال کرنے پر حکومت سے وضاحت طلبی اس امر کاواضح اظہار ہے ۔اس ضمن میں عدالت کی رائے یہ ہے کہ آئینی ترمیم میں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار سابق فاٹا تک بڑھایا گیا ہے25ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ اختیارات عدلیہ کے پاس آگئے ہیں کیونکہ وہاں پر آئینی عدالتیں قائم کرنی ہیں لہٰذا اب اس میں کوئی ابہام نہیں۔اس تناظر میں پولیس تھانوں کا قیام اور انتظامیہ کا ڈھانچہ کھڑا کرنا آئین اور قانون کا تقاضا ہے جس میں مداخلت کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔

ڈرگ انسپکٹرز خوف خدا کریں

سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کی کنوینئر روبینہ خالد کا یہ بیان حقیقت حال کاواضح اظہار ہے کہ ملک میں اس وقت دو نمبر ادویات کی بھر مار ہے جبکہ ڈاکٹرزبھی فارما سوٹیکل کمپنیوں سے ملے ہوئے ہیں۔اجلاس میں سینیٹر کلثوم پروین نے بھی صورتحال کی درست ترجمانی کی ہے کہ مارکیٹ میں جعلی ادویات بھی فروخت ہو رہی ہیں،پارلیمنٹ کے اندر بھی جعلی سرنج فراہم کی جاتی ہے مارکیٹ میں اسٹنٹ بھی غیر معیاری فروخت ہو رہے ہیں۔ ڈرگ انسپکٹرز برائے نام ہیں جو کبھی نظر ہی نہیں آئے ۔سینٹ کی خصوصی کمیٹی میں صورتحال پر حقیقت پسندانہ بحث کے بعد ضرورت اس امر کی رہ جاتی ہے کہ اس ضمن میں پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اس ضمن میں صوبائی حکومتوں اور محکمہ صحت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس و ادراک ہونا چاہئے جن کی غفلت‘ سستی او ر لا پرواہی کے باعث لوگوں کو شفاء کے نام پر موت بانٹی جا رہی ہے۔ محکمہ صحت کے زیر اہتمام شعبوں میں چونکہ انسانی جانوں اور صحت سے متعلق معاملات ہیں اس لئے اس محکمے کو خاص طور پر فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ محکمے میں اہل اور دیانتدار افراد کو عہدے اور ذمہ داریاں دی جائیں۔ ڈاکٹروں کو تھوڑی سی مالی منفعت کے لئے مریضوں کا استحصال بند کرنا چاہئے۔ جعلی ادویات کی فروخت کی روک تھام میں ناکامی کو ڈرگ انسپکٹروں کی نا اہلی اور ملی بھگت قرار دے کر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ان تمام متعلقین کو خوف خداکرنا چاہئے جن کی غفلت ملی بھگت یا کاروبار لوگوں کی ہلاکت کا باعث بن رہا ہے۔

متعلقہ خبریں