Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

ابن مبارکؒ کی توبہ کا سبب یہ واقعہ ہوا کہ آپ ایک کنیز پر فریفتہ ہوئے اور نہایت سردی میں ساری رات اس کے انتظار میں کھڑے رہے اور صبح تک آپ نے تہجد کی نماز بھی نہ پڑھی حالانکہ آپ کا معمول تھا کہ رات بھر نوافل پڑھتے۔

صبح آپ کو خیال آیا کہ ساری رات ایک عورت کے انتظار میں بسرکردی حالانکہ نماز پڑھانے والا اگر سورۃ لمبی کردے تو کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ نماز پڑھانے والا دیوانہ ہے اور شور و فغان کرتے ہیں‘ ان کی فطرت سے فریاد بلند ہوئی اے مبارک کے بیٹے! تجھے حیا آنی چاہئے کہ رات تو نے نفس کی خاطر پائوں پر بسر کردی اسی وقت آ پ کے دل میں ایک درد پیدا ہوا‘ آپ نے توبہ کی اور عبادت میں مشغول ہوگئے اور اعلیٰ مقام پر پہنچ گئے۔ (مخزن صفحہ نمبر296)

دنیا کی بے ثباتی کے حوالے سے ایک سبق آموز حکایت ہے کہ ایک بادشاہ نے نہایت ہی شاندار محل تعمیر کرایا۔ اس محل کی شان و شوکت کا یہ عالم تھا کہ اس کی چمک دمک سے آنکھیں خیرہ ہو رہی تھیں۔ بادشاہ تمسخر و غرور کے لہجے میں ہر ایک سے پوچھتا تھا کہ محل میں کوئی عیب یا خامی تو نہیں ہے؟

کس کی مجال تھی کہ عیب نکالتا‘ ہرایک تعریف کے پل باندھتا اور زمین و آسمان کے قلابے ملاتا اور یہی کہتا کہ اس میں نہ کوئی عیب ہے نہ خامی‘ محل اور محل کا ساز و سامان بے نظیر و بے مثال ہے۔

مگر اس جم غفیر میں چند ایسے ہوشمند نکل آئے جنہوں نے ایک نہیں بلکہ دو عیوب نکال دئیے۔ انہوں نے کہا‘ ہاں! یہ محل واقعی اپنی شان کا انوکھا محل ہے مگر اس میں دو عیب ہیں اور یہ عیب اس میں برقرار رہیں گے۔بادشاہ کے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ایک عیب تو یہ ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا محل کاحسن و جمال ماند پڑتا جائے گا اس کے استحکام میں ضعف‘ بوسیدگی پیدا ہو تی جائے گی ‘ اس کو زوال آتا رہے گا۔

اور دوسرا عیب جو اس سے بھی بڑا ہے وہ یہ ہے کہ اس کا مالک اس کو یوں ہی چھوڑ کر بڑی حسرت و یاس کے ساتھ عالم آخرت کی طرف روانہ ہو جائے گا۔ کہتے ہیں کہ جب حق بات‘ حق نیت سے ‘ حق اور احسن طریقے سے کہی جائے تو وہ ضرور اثر کرتی ہے۔ یہاں بھی یہی کچھ ہوا‘ بادشاہ نے جب ان لوگوں کی یہ باتیں سنیں تو گہری سوچ میں پڑ گیا اور سوچنے لگا کہ کیا میرا یہ شاندار محل کسی اور کے قبضے میں پائیدار ہے تو اس سے دل لگی اور وابستگی کے کیا معنی؟ اور سوچتے سوچتے اچانک اس کے دل میں یہ بات آئی کہ کیوں نہ زندگی کا وہ رخ اختیار کیا جائے جس میں حسرت و یاس کا گزر نہ ہو‘ دائمی عزت و سرفرازی نصیب ہو۔

یہ خیال آتے ہی بادشاہ کی دنیا بدل گئی‘ یہ خوبصورت محل مٹی کا ڈھیر معلوم ہونے لگا اور اس نے اسی وقت اس کو خیر باد کہہ دیا اور فکر آخرت میں لگ گیا۔ اب صرف اس زندگی کی فکر تھی جو ابدی و لازوال ہے جہاں بقاء ہی بقاء ہے فنا ہر گز نہیں ہے۔

(سبق آموز واقعات)

متعلقہ خبریں