Daily Mashriq


میں اس تبدیلی سے خوش ہوں

میں اس تبدیلی سے خوش ہوں

تبدیلی کے لغوی معنی کسی بھی ایسا عمل یا طریقہ اختیار کرنے کے ہیں جس کے بعد متعلقہ معاملہ پہلے سے مختلف دکھائی دے۔ اگر اس لغوی معنی کااطلاق پاکستان پر کیا جائے تو پھر پاکستان میں واقعی تبدیلی آچکی ہے۔ لوگ اس تبدیلی کو منفی یا مثبت کہہ سکتے ہیں۔ اپنی اپنی مرضی خواہش یا مفادات پر اس تبدیلی کے اطلاق کے باعث اس کا جھکائو تلاش کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے فیصلہ کرسکتے ہیں لیکن اس بات سے مفر ممکن نہیں کہ تبدیلی آچکی ہے۔ پاکستان میں کب کسی نے ‘ کسی وزیر اعظم کو پودے لگانے کی بات کرتے سنا تھا‘ کب دیکھا تھا کہ ایک وزیر اعظم پاکستان کو سر سبز کرنے کی بات کرے اور اپنی مہم کا آغاز مٹھی بھر بچوں کے ساتھ ایک پودا لگا کر کرے۔ ان سے اس طرح بات کرے جیسے انہیں سمجھا رہا ہو۔ نہ تصویریں کھنچوانے کی خواہش ہو‘ نہ بہترین پریس کانفرنس کی ‘ وہ صرف بچوں کی آگہی میں دلچسپی لے رہا ہو‘ انہیں متحرک کرنا چاہتا ہو‘ شاید یہی تبدیلی ہے۔

مجھے تو تبدیلی ہی لگتی ہے جب میں اپنے گھر کے راستے پر سفر کرتی ہوں اور کسی ٹریفک سگنل کے سرخ ہونے پر گاڑیاں رکتی ہیں تو ان میں کئی بار وزراء کی گاڑیاں رکتی نظر آتی ہیں۔ ایک ایسے ہی سگنل پر میں نے اعظم سواتی کو ٹریفک سگنل پر رکے ہوئے دیکھا ہے۔ ایک بار شہر یار آفریدی کو دیکھ چکی ہوں۔ اک عجب سی سرخوشی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وزراء اب عام لوگ ہیں‘ قانون کی پاسداری کرتے ہیں‘ کرسکتے ہیں‘ انہیں جان کا خوف نہیں۔ انہیں ایک عام آدمی کی طرح ملک کے قانون کی پاسداری کرنا ہے۔ ان سے پہلے لوگوں کو ہمیشہ ہی اس قوم نے سر پٹ دوڑتے دیکھا ہے۔ وہ ایسے با کمال لوگ تھے جنہیں مسلسل اپنی جان بچانے کی ہی فکر رہتی تھی۔ جانے ایسے کیاکام کرتے تھے کہ انہیں اپنی جان جانے کا خوف مسلسل گھیرے رکھتا تھا۔ ان میں سے کسی نے نہ ایٹم بم کا فارمولا بنایا‘ نہ پانی سے چلنے والی گاڑی تیار کی‘ نہ انہوں نے کینسر کا علاج دریافت کیا‘ نہ ہوا سے بجلی بنانے کے طریقے کا کوئی فارمولا انسان کے سامنے رکھا‘ لیکن یہ بہت اہم لوگ تھے۔ اس ملک کے وسائل کو مسلسل لوٹنے والے‘ صرف اپنے مفاد کا سوچنے والے‘ مسلسل اس ملک کے وقار کاسودا کرنے والے‘ یہ لوگ کس طرح اتنے اہم تھے کہ انہیں جان کاخطرہ رہتا تھا۔ یہ تو خود عام لوگوں کے لئے خطرہ بنے رہتے تھے جہاں سے ان کا قافلہ گزرتا عوام کے لئے راستے بند ان کی زندگی روک دی جاتی پھر چاہے کوئی بیمار ہو یا کسی طالب علم نے پرچہ دینے جانا ہو یا کسی نے روزگار کے لئے وقت پر انٹرویو دینے پہنچنا ہو گاڑیوں کی قطار میں خوار ہو رہا ہوتا تھا مگر ان کو تو کوئی پرواہ نہ ہوتی تھی کیونکہ وہ خود کوخاص مخلوق سمجھتے تھے ۔ عوام تو ان کی نظر میں کیڑے مکوڑوں سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ ان کے ہر فیصلے ہر اقدام ہر عمل سے یہی بات مترشح ہوتی تھی کہ ہم تم لوگوں سے الگ ہیں ہماری حیثیت الگ ہے۔اس ملک کے لوگ نہ تو اتنے غیرت مند رہے اور نہ ہی اتنے زندہ کہ اپنے ان وزراء کو جان سے مار دینے کی سازشیں کیا کرتے۔ یہ تو غربت میں لپٹے‘ خط غربت کے بوجھ تلے دبے ‘ بے یار و مدد گار لوگ تھے جنہیں ان کی مفلسی نے مسلسل غلام بنا رکھا تھا۔ اس غلامی کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ان کے کاندھے جھک گئے تھے اور کمر ٹیڑھی ہوگئی تھی۔ صبح دم تلاش معاش میں گھروں سے نکلتے اور سارا دن اسی فکر میںغلطاں رہتے کہ گھر چند روپے کماکر لے جائیں۔ یہ تو مسلسل اپنے اگلے وقت کی روٹی کی فکر میں غلطاں زمین کھوج کر سکے تلاش کرتے تھے۔ انہیں بھلا کہاں علم تھا کہ ان کے وزراء ان کے لئے کس قدر نقصان کے سودے کیاکرتے ہیں اور اس ملک کی چار دیواری کے باہر اس لوٹ مار پر ہرایک ان لوگوں سے خوش تھا کیونکہ اس ملک کی سرحد کے پار تو کوئی بھی اس ملک کے عوام کا ایسا دوست نہیں جو انہیں جگانے‘ اٹھانے یا سنبھالنے کا خواہشمند ہوتا۔ ایسا خواہشمند کہ ان وزراء کو عبرت کا نشان بنا دیتا اور اس ملک کے لوگوں کو جھنجھوڑتا کہ یہ لو تمہارے لئے اسے نشان عبرت سمجھو اور اپنے لئے اچھے حکمران تلاش کرو۔ ایساکچھ بھی‘ کہیں نہیں تھا۔ ان لوگوں کو کہیں سے کوئی خطرہ نہیں تھا اور پھر بھی وہ اپنی حفاظت کے لئے اس ملک کے لوگوں کے وسائل خرچ کرواتے رہے۔ اس ملک کے لوگوں کو غلامی کے طوق تقسیم کرتے رہے‘ قانون کے ہر دائرے کو توڑ کر‘ ہر رکاوٹ کو بھسم کرکے‘ اس ملک کے لوگوں کو اپنے مالک ہونے کا احساس دلاتے رہے۔ ان سے چھٹکارا پایا ہے تو کیا کوئی تبدیلی نہیں آئی۔بہت سی باتیں سکوں میں تولی نہیں جاتیں ان کا نفع نفسیاتی ہوتا ہے۔ بہت سے بوجھ باٹوں میں ناپے نہیں جاتے‘ ان کابوجھ روح پر ہوتا ہے۔ بد عنوان حکمرانوں کے اعمال کا بوجھ اٹھا اٹھا کر یہ قوم بیمار ہوگئی ہے‘ تبھی تو لوگ خود سوزی کرلیتے ہیں اور کبھی کسی کے بچے کو کھا جاتے ہیں۔ ہم بیمار ہیں اس لئے تو پاکستان میں اطمینان اور خوشی کاکوئی پیمانہ کبھی نہیں بھرتا۔ ہم بیمار ہیں اسی لئے تو شکر گزار نہیں اب اس تبدیلی سے میری جیب میں بھلے کوئی سکے نہ آئیں بس کوئی مجھے لوٹنے کی بات نہ کرے‘ میرے بچوں کے مستقبل پر کوئی ڈاکہ نہ ڈالے‘ مجھے کوئی ڈر خوف ان بچوں کے حوالے سے محسوس نہیں ہوتا۔میں خوش ہوں‘ میں اپنے بچوں کو باہر گلی میں کھیلنے کی اجازت دے سکوں‘ میں خوش ہوں‘ میں اپنے ملک کے لئے قربانی دوں گی اگر مجھے معلوم ہو کہ میرے بچے کامستقبل محفوظ ہے۔ میں اس تبدیلی کے حق میں رہوں گی۔ مجھے اب طویل اندھیری رات کے بعد امید کی کرن واضح دکھائی دے رہی ہے۔میں اس حکومت کے لئے تالی بجائوں گی اور یہ اپوزیشن جو ان کے خلاف اکٹھی ہوگی ان کا حساب میں مانگوں گی۔ کیونکہ یہ میرے بچوں کے مستقبل کی بات ہے اور مجھے اپنا یہ مستقبل بچانا ہے‘ اس کو محفوظ کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں