Daily Mashriq


اس طرح رہبر نے لوٹا کارواں کو

اس طرح رہبر نے لوٹا کارواں کو

چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ یعنی چور چوری کرنا چھوڑ تو سکتا ہے لیکن ہیرا پھیری کرنے سے باز نہیں آتا۔ ہیرا پھیری کہتے ہیں دغا بازی ، دھوکہ دہی ، چالاکی یا کسی کو بیوقوف بنانے کو۔ چور کی بہت سی قسمیں ہیں۔ کچا چور ،پکا چور، چھوٹا چور، بڑا چور، چور مچائے شور کا محاورہ چوروں کی ایسی ہی قسم کے لئے مشہور ہے جو چوری بھی کرتا ہے اور سینہ زوری بھی ۔ پرانے زمانے میں چور کی داڑھی میں تنکا ہوا کرتا تھا لیکن آج کل کے چوروں نے ’’نہ ہوگی داڑھی نہ رہے گا تنکا ‘‘کہہ کر داڑھی تو داڑھی مونچھیں تک منڈھوا دیں۔ اس لئے چور کی داڑھی میں تنکا کا محاورہ فی زمانہ اپنے معانی اور مطالب کھو کر رہ گیا۔ البتہ کرے داڑھی والا ، پکڑا جائے مونچھوں والا کا محاورہ یا ضرب المثل اب بھی جو ں کا توں موجود ہے ، کہتے ہیں جس کی کوئی چیز گم یا چوری ہوجائے اس کا ایمان بھی کھو جاتا ہے اور وہ خواہ مخواہ ایک دوسرے پر شک کرنے لگتا ہے۔ ایسا ہی اس بندے کے ساتھ ہوا جس کے گھر کے دروازے سے اس کی کار چوری ہوگئی۔ کبھی اس نے ہمسائیوں پر شک کیا اور کبھی راہگیروں کو شک اور شبہ کی نظر سے دیکھنے لگا۔ اس نے پولیس میں رپورٹ کرنا اس لئے ضروری نہ سمجھی کہ کسی نے اس کے دل میں وہم ڈال دیا تھا کہ بعض پولیس والے چوروں کے ساتھ ملے ہوتے ہیں اس لئے پولیس میں رپورٹ کرنے سے تجھے لینے کے دینے پڑجائیں گے۔ لیکن وہ شخص تھا بڑا خوش قسمت اس سے پہلے کہ وہ اپنی کار چوری کے خلاف کوئی راست اقدام اٹھاتا دوسرے ہی دن اسے گم ہوجانے والی کار دروازے پر کھڑی مل گئی۔ وہ اور اس کے بیوی بچے دوڑتے ہوئے کار تک پہنچے اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس کے اندر ایک لفافہ پڑا ہوا تھا ، لفافے میں ایک خط تھا جس میں لکھا تھا کہ میں آپ کا مشکور وممنون ہوں ۔ بہت مشکل حالات میںآپ کی کار میرے کام آئی۔ میری گاڑی خراب ہوچکی تھی بیوی کو ہسپتال لیکر جانا تھا کوئی گاڑی دے نہیں رہا تھا سو میں نے بلا پوچھے آپ کی گاڑی استعمال کرلی۔ آپ کی گاڑی مشکل وقت میں میرے کام آئی سو میں نے مشکل وقت میں کام آنے کے بدلے میں اس کار کا حق دوستی ادا کرتے ہوئے اسے نہلاکر صاف ستھرا کیا اور آپ کی امانت واپس آپ کے مکان کے پاس چھوڑے جارہا ہوں۔ اور ہاں اس خط کے ساتھ آپ اور آپکی بیوی بچوں کے لئے سینما کے ٹکٹ ملفوف ہیں۔ یہ میری طرف سے ایک حقیر سا تحفہ سمجھ کر قبول کر لیجئے ۔ آپ چاہیں تو آج رات اپنی فیملی کے ساتھ سینما ہال جاکر فلم دیکھ سکتے ہیں۔ میاں نے کار میں بیٹھے بیوی بچوں کے سامنے یہ خط بآواز بلند پڑھا جسے سنتے ہی بیوی کی بانچھیں کھل گئیں اور بچے’ یا ہو‘ کہہ کر ایک دوسرے سے بغل گیر ہوگئے اور پھرشام ڈھلتے ہی وہ سینما حال میں بیٹھے مار دھاڑ اور چوری چکاری سے بھر پور فلم کے مزے لوٹنے لگے۔ لیکن رات کا آخری شو دیکھ کر جب وہ اپنے گھر لوٹے تو یہ دیکھ کر ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑنے لگے کہ گھر کے سارے قیمتی سامان کا صفایا ہوچکا ہے ، نامعلوم چور یا چوروں کی طرف سے پھر جانے والے جھاڑو کا منظر دیکھ کروہ اپنے سر کو پیٹے بغیر نہ رہ سکے۔ وہ کربھی کیا سکتے تھے سوائے رونے دھونے اور سر پیٹنے کے کار چرانے والے اور کار کو چرا کر اسے واپس کرنے والے چور کا چوری سے جانا اور ہیرا پھیری سے نہ جانے کا یہ منظر نامہ ہمیں آئے روز دیکھنے اور سننے کا موقع ملتا ہے

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں

ہم نہ سرپیٹتے ہیں اور نہ دھاڑیں مار مار کر روتے ہیں۔ عادی ہوچکے ہیں لٹیروں اور ستمگروں کی اس بستی میں لٹتے رہنے کے، سانپ کا ڈسا رسی سے ڈرنے لگتا ہے کے مصداق ہم چوری چکاری لوٹ کھسوٹ اور دھوکہ دہی کلچر کے پر وردہ جو ٹھہرے

ہمارے خواب چوری ہو گئے

ہمیں راتوں کو نیند آتی نہیں

ہم جہاں رہتے تھے رات کے وقت وہاں کچھ چور آکر ایک دکان کا صفایا کر گئے۔ صبح دم چوکیدار نے بتایا کہ رات کے وقت مجھے دیوار کے عقب میں کھڑے دوسائے نظر آئے جو عجیب و غریب حرکتیں کر رہے تھے۔ میں ایک درخت کی اوٹ میں چھپ کر ان کی حرکات پر نظر رکھنے لگا۔ میں ان کا تماشا دیکھتا رہا ، لیکن درخت کی اوٹ سے نکل کر واپس لوٹا تو پتہ چلا کہ عجیب و غریب حرکت کرنے والو ں نے یہ سارا ڈرامہ مجھے بے وقوف بنانے کے لئے رچایا ہوا تھا ، وہ عجیب حرکتیں کر رہے تھے اور میں ان کا تماشا کرنے لگا ، اس دوران ان کے ساتھی چوروں نے دکا ن کا تالہ توڑ کر دکان میں جھاڑو پھیر دیا۔ فالودے والے اور رکشے والے کے اکاؤنٹ میں در آنے والے اربوں ڈالر کے متعلق جان کر ہمیں جنرل یحییٰ خان کا وہ دور یاد آگیا جب اس نے بڑی مالیت کے کرنسی نوٹوں پر پابندی لگا کر انہیں مقررہ تاریخ تک بنکوں میں جمع کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ کیا دن تھے وہ جب غریب ملک کے گندے نالوں میں کرنسی نوٹوں کے بنڈل بکھر کر بہنے لگے تھے ۔ آج بھی ایسا ہی ہوتا لیکن آج آن لائن بنکاری نے ایسا نہ ہونے دیا چور چوری سے جاتے وقت ہیرا پھیری کرکے اپنی دولت غریب تو غریب انتقال کرجانے والوں تک کے کھاتوں میں منتقل کرنے لگے ہیں۔یہ کارنامہ کون لوگ انجام دے رہے ہیں ابھی ان کے نام آنا باقی ہے ، ہوسکتا ہے ایسا کرنے والے لوگ رہزن نہ ہوں ،

اس طرح رہبر نے لوٹا کارواں کو

اے فنا رہزن کو بھی صدمہ ہو

متعلقہ خبریں