Daily Mashriq


یمن کا مسئلہ تجریدی مصوری کی طرح ہے

یمن کا مسئلہ تجریدی مصوری کی طرح ہے

نیت تو نیک ہے مگر مقطع میں سخن گسترانہ بات یوں درآئی ہے کہ شاید وزیر اعظم عمران خان کو مسئلے کی سنجیدگی کا احساس نہیں ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ بالآخر اس نتیجے پر پہنچ کر کہیں انہیں بھی یہ نہ کہنا پڑے کہ

جس کو سمجھے تھے انناس وہ عورت نکلی

یہ انناس اور عورت کا قصہ کچھ یوں ہے کہ جب تجریدی آرٹ کی وبا ہمارے ہاں بھی پہنچی اور یار لوگ سیدھی سادی مصوری چھوڑ کر تجریدی مصوری میں طبع آزمائی کرنے لگے ۔ شاید طبع آزمائی یہاں استعمال نہیں ہونا چاہئے کہ اس کا تعلق شاعری سے زیادہ ہے تاہم ایک قدر مشترک یعنی قلم اور موئے قلم (برش) دونوں کو جوڑنے کا باعث ہے‘ باقی فکر کا بھی دونوں سے ناتا ہے اس لئے کچھ غلط بھی نہیں۔ بہر حال یہ ایک الگ بحث ہے جس پر پھر کبھی طبع آزمائی کرلیں گے۔ تو بتانا یہ مقصود تھا کہ جب مصوروں نے بھی بقول غالب مہ رخوں کی تصویر کشی چھوڑ کر تجریدی آرٹ میں پناہ لینا شروع کردی تو اسی آرٹ یعنی تجریدی مصوری کے فن پاروں پر مشتمل آرٹ کی ایک نمائش میں جاکر ایک شاعر کے پلے کچھ نہ پڑا اور ایک تصویر پر انہیں انناس کا گمان گزرا تو انہوں نے تصویر کے خالق سے پوچھا حضرت یہ انناس کی تصویر ہے؟ مصور نے پہلے انہیں گھورا اور پھر جواب دیا جناب دیکھنے میں تو آپ خاصے معقول نظر آتے ہیں مگر ایک عورت کی تصویر کو آپ انناس سمجھتے ہیں ‘ تب شاعر نے واپسی پر اپنی کم مائیگی کااظہار ایک نظم میں کیا اور محولہ مصرعہ اس تجریدی مصوری کی نمائش پر گہرا طنز بن کر سامنے آیا۔ در اصل شاعر کا بھی قصور نہیں تھا‘ انہوں نے تو غالب کو پڑھا تھا کہ

سیکھے ہیں مہ رخوں کے لئے ہم مصوری

تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئے

بات ذرا لمبی ہوگئی ہے حالانکہ ہم تو وزیر اعظم عمران خان کے گزشتہ روزکے خطاب کے حوالے سے چند گزارشات کرنا چاہتے تھے یعنی یہ جو انہوں نے قوم کو سعودی عرب سے پیکج ملنے کی خوشخبری سنانے کے ہنگام ساتھ میں ایک پخ بھی لگا دی ہے کہ وہ یمن کے مسئلے کو سلجھانے کے لئے ثالث کا کردار ادا کریں گے اور اس مقصد کے لئے عالم اسلام کو اکٹھا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اسی لئے ہم نے ان کی نیک نیتی کو سراہنے کے ساتھ ساتھ یہ گزارش بھی کی تھی کہ انہیں عورت کو انناس سمجھنے والے شاعر کی طرح کہیں بعد میں تاسف کا اظہار نہ کرنا پڑے کیونکہ یہ مسئلہ اتنا آسان بھی نہیں جتنا بظاہرنظر آتا ہے بلکہ اسے ملٹی ڈئیمنشنل یعنی تہہ در تہہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور اس کے کئی پرت اس کو گمبھیر بناتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ ایک ایسا تجریدی مسئلہ ہے جس کو سمجھنے کے لئے ایک بار پھر تجریدی مصوری ہی میں پناہ لینا پڑ رہی ہے اور اس مصور کا ذکر لازمی ہو جائے گا جس کی کچھ تصویریں ایک مقابلے میں شامل تھیں۔ اسے اطلاع دی گئی کہ اس کے ایک تجریدی شاہکار کو مقابلے میں اول انعام کا حقدار قرار دیاگیا ہے۔ جب وہ انعام حاصل کرنے کے لئے آرٹ گیلری کی تقریب میں پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ نقادوں نے اس کی جس تصویر کو شاہکار قرار دیتے ہوئے پہلے انعام سے نوازا تھا وہ کوئی تصویر نہیں تھی بلکہ فالتو کینوس کا وہ ٹکڑا تھا جس پر تصاویر بناتے وقت مصور اپنے برش سے رنگ صاف کرکے دوسرا رنگ تصویر کے لئے چنتا تھا یعنی فالتو سٹروکس سے وجود میں آنے والی آڑھی ترچھی لکیروں کو نقادوں نے تجریدی آرٹ کا شاہکار سمجھ لیا تھا۔

بات یمن کی ہو رہی تھی اور اسے ہم نے تجریدی آرٹ کی طرح تجریدی مسئلہ قرار دے دیا کیونکہ اس کی بھی کئی پرتیں ہیں یعنی تہہ در تہہ مشکلات میں الجھا ہوا مسئلہ جس کا سرا ڈھونڈتے ڈھونڈتے الجھائو کی ایک ایسی صورتحال میں پھنسنے کاخدشہ ہے جہاں سے نکلنے کے لئے کئی مشکلات سامنے آسکتی ہیں۔ لیگ (ن) حکومت کے دور میں اس مسئلے پر سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات میں کچھ مشکل مراحل آچکے ہیں کیونکہ اس جنگ میں کودنے کے حوالے سے ہماری پارلیمنٹ نے واضح طور پر جو گائیڈ لائن دی تھی اسی کی وجہ سے ہم نے سعودی حکمرانوں کو یہ پیغام دیا تھا کہ پاکستانی فوج حرمین الشریفین کی حفاظت کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے کہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ مگر اس سے آگے ہماری افواج جانے کو تیار نہیں ہوں گی یعنی کسی دوسرے مسلمان ملک سے الجھنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتیں۔ دوسرے یہ کہ اس مسئلے کا صرف یمن اور سعودی عرب سے تعلق ہوتا تو اس کاحل تلاش کرنا بہت آسان ہوتا مگر اس کے اور بھی کئی سٹیک ہولڈرز ہیں۔ یمن کی پشت پناہی ایران کر رہاہے جبکہ آگے جا کر اس کے ڈانڈے شام میں پیوست دکھائی دیتے ہیں۔ وہاں کچھ اور سٹیک ہولڈرز یعنی روس‘ امریکہ اور کسی حد تک اسرائیل سامنے آجاتے ہیں۔ آج کل سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات بھی کشیدگی کی داستان سنا رہے ہیں اور خاص طور پر تازہ ترین مسئلہ سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کا ہے جس پر امریکہ ایک جانب تو ترکی دوسری جانب سعودی عرب کی حکومت سے الجھ رہے ہیں۔ ایسے میں اسلامی ممالک کو اکٹھا کرنے کا خواب؟ یعنی بقول شاعر

ہونا ہے وہی جو مقدر میں لکھا ہے

لیکن وہ مرے خواب‘ مرے خواب‘ مرے خواب

متعلقہ خبریں