Daily Mashriq


براہ کرم مایوسی نہ پھیلائیں

براہ کرم مایوسی نہ پھیلائیں

مشکل اور پریشان کن حالات میں مایوسی کی طرف مائل ہونا ایک فطری بات ہے لیکن اسلامی تعلیمات کا تو کمال یہی ہے کہ جب سارے دنیاوی وسائل و ذرائع کمزور پڑنے لگتے ہیں اور بعض اوقات جب منقطع بھی ہو جاتے ہیں تب ایک مسلمان اللہ تعالیٰ پر ایمان و بھروسا کے سبب امید کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتا۔ ’’ ارشاد باری تعالیٰ: ’’ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں‘‘ اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور صحابہ کرامؓ پر انفرادی اور اجتماعی طور پر کتنے ایسے مواقع آئے ہیں کہ ظاہری طور پر حالات اتنے پیچیدہ اور کشیدہ تھے کہ صحابہ کرامؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھ ہی لیا کہ ’’ اللہ کی مدد کب آئے گی؟‘‘ ان حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ کی ڈھارس بندھاتے ہوئے فرمایا کہ’’ تم سے پہلے اہل ایمان پر جو مصیبتیں اور آزمائشیں آئیں یہاں تک کہ وہ آروں سے چیرے گئے تب بھی وہ ثابت قدم رہے اور پھر اللہ کی مدد آپہنچی اور آخر کار وہ فتح یاب ہوگئے‘‘۔ غزوہ بدر میں ایک ہزار کفار کے مقابلے میں تین سو تیرہ وہ بھی نا کافی اسلحہ اور ساز و سامان کے ساتھ‘ ان حالات میں دستیاب وسائل کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے عجیب انداز میں دعا مانگ رہے ہیں کہ ’’ اے اللہ! آج اگر یہ مٹھی بھر لوگ غالب نہ ہوسکے تو قیامت تک پھر تیرا نام لیوا کوئی نہیں ہوگا۔ ( اس دعا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا بھی ایک اور ثبوت و دلیل موجود ہے)۔ غزوہ خندق میں تو تین ہزار صحابہ کرامؓ کا دس ہزار کی (الائیڈ فورسز) فوج سے مقابلہ اس حالت میں آن پڑ ا تھا کہ بھوک کے سبب صحابہ کرامؓ نے پیٹ پر ایک ایک پتھر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ’’ دو پتھر باندھ رکھے تھے۔ تائید و نصرت ایزدی ایسی باد و باراں کی صورت میں آئی کہ کفار کے خیمے‘ جانور‘ برتن اور افواج کی ترتیب و صف بندی الٹ پلٹ کر رہ گئی اور اپنی جانیں بچانے کے لئے واپس بھاگتے ہی بنی۔ صلح حدیبیہ میں کن حالات میں قریش مکہ کے ساتھ معاہدہ کیا۔ حضرت عمر فاروقؓ معاہدے کی شرائط دیکھ کر پوچھنے لگتے ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ اللہ کے نبی ہو کر ایسا معاہدہ کرتے ہیں؟۔ لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ غزوات میں کامیابیاں سمیٹتے ہوئے شدید دبائو کے تحت ایک طرح سے بالکل یک طرفہ معاہدہ جو بظاہر کفار کے غالب و طاقتور ہونے کی غمازی کر رہا تھا فتح مبین( کھلی فتح) میں تبدیل ہو کر رہا۔آج پاکستان کے جو حالات ہیں بالکل مدنی ریاست کے ان ایام کی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان مقروض ہے‘ دشمنان پاکستان ہر دم سازشوں میں مصروف ہیں اور ستم بالائے ستم اربوں روپے خرچ کرکے ابھی دو ماہ پہلے انتخابات ہوئے لیکن شاید 1977ء کے بعد دوسری دفعہ پھر اپوزیشن کے دل میں آپس میں ایک دوسرے کے لئے میل ہونے کے باوجود عمران خان کے خلاف متحد ہو کر ہنگامے برپا کرنے کے بہانے تلاش کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو بنے دو ہی مہینے ہوئے ہیں لیکن اپوزیشن آگ پر بیٹھی ہوئی نتائج مانگ رہی ہے۔ گزشتہ حکومتوں کے وراثت میں ملے استطاعت سے بڑھ کر قرضے ملک کی کمر توڑ رہے ہیں اور موجودہ حکومت کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ کم کرنے کے لئے جب اقدامات تجویز کرکے آگے بڑھتی ہے تو مہنگائی کا شور مچا کر اپوزیشن عوام کے غم میں آسمان سر پر اٹھانے لگتی ہے۔ اگر کوئی پوچھے کہ صاحبو! یہ حالات عمران کے پیدا کردہ تو نہیں ہیں یہ گزشتہ دس سال سے چلے آرہے ہیں تو آئیں بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں۔ایک بڑے مذہبی سیاسی رہنما فرما رہے تھے کہ نہ یہ حکومت چل سکتی ہے اور نہ ان لوگوں میں حکومت چلانے کی صلاحیت ہے۔ ایک دوسرے بڑے صاحب بھی فرما رہے تھے اور بڑے عرصے بعد فرما رہے تھے کہ عمران خان سے حکومت چلائی نہیں جاتی۔ لہٰذا ساری اپوزشن جماعتوں کو متحد ہو کر اس حکومت کے خلاف قرار داد لانی چاہئے یعنی دوسرے الفاظ میں اس کو چلتا کرنا چاہئے ۔ اب یہ معلوم نہیں کہ ایک منتخب حکومت کو اپوزیشن کی قرارداد کے ذریعے کس طرح چلتا کیا جائے گا اور پھر اس کے بعد کیا ہوگا۔ کسی بھی ملک میں جب سیاستدانوں کے درمیان اس قسم کے روئیے اور معاملات چلتے ہیں تو عوام کے اذہان و قلوب میں مایوسیاں جنم لینے لگتی ہیں۔اسی لئے اس وقت مایوسیاں پھیلانے کی بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ عمران خان کو موقع دیا جائے اگر وہ پاکستان کو اس دلدل سے نکالنے میں کامیاب رہے تو اگرچہ آپ کو یہ خطرہ لاحق ہوگا کہ پھر عمران کی اگلی باری بھی ہوگی لیکن یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ اس طرح ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے ساتھ ملک بھی مضبوط و مستحکم ہوگا اور معاشی و سیاسی لحاظ سے مضبوط پاکستان آنے والی نسلوں کی فلاح و سلامتی کا ضامن ہوگا اور اگر خدانخواستہ عمران خان کامیاب نہ ہوسکے تو آپ کے لئے اگلے انتخابات میں راستہ آسان ہوگا۔ آپ آگے بڑھ کر اس ملک کے لئے وہ کچھ کرلیں جو عمران خان نہ کرسکے۔ اس وقت عمران خان الیکٹ یا سلیکٹ‘ بہر حال وزیر اعظم ہیں ملک و قوم پاک افواج اور دنیا نے انہیں تسلیم کرلیا ہے۔ لہٰذا ادھر ادھر کی باتوں سے قوم کو مایوسی میں مبتلا کرنے کی بجائے تعمیری اور مثبت اپوزیشن کرتے ہوئے قوم کو امید اور یقین دلائیں کہ استحکام پاکستان کے لئے ہم سب ایک ہیں‘ سیاسی ایجنڈا الگ ہی سہی لہٰذا انتظار اور صبر اچھی چیز ہے کم ازکم مڈ ٹرم تک تو انتظار فرمائیں۔

متعلقہ خبریں