Daily Mashriq


عالمی تھانیدار کا جنرل اسمبلی سے خطاب

عالمی تھانیدار کا جنرل اسمبلی سے خطاب

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک، چین کی تجارتی پالیسیوں اور عالمی عدالت انصاف پر شدید تنقید ان کی نرگسیت پسند شخصیت کا آئینہ دار ہے۔ اپنی تقریر میں وہ ایک طاقتور ملک کے صدر کم اور تھانیدار زیادہ نظر آئے جس کی اقوام متحدہ کے فورم میں گنجائش نہیں تھی۔امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم جانچ لیں گے کہ کیا کارآمد ہے اور کیا نہیں۔ وہ ممالک جو ہماری امداد لے رہے ہیں کیا ان کے دل میں بھی ہمارے مفادات ہیں کہ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم آگے بڑھتے ہوئے صرف انہیں امداد دیں گے جو ہماری عزت کرتے ہیں اور ہمارے دوست ہیں۔اس کے علاوہ امریکی صدر نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے ارکان پر الزام لگایا کہ جب میں نے تیل کی قیمتیں کم کرنے کا کہا تو انہوں نے دنیا کو لوٹا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ امریکا کم قیمت پر تیل، کوئلہ اور قدرتی گیس بر آمد کرنے کے لیے تیار ہے۔اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران اور واشنگٹن کے تجارتی شراکت داروں پربھی دباؤ بڑھایا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری ٹیم نے اس ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ کام کیا ہے جس پر جنرل اسمبلی میں غیر معمولی زور دار قہقہے لگے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ان قہقہوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس رد عمل کی امید نہیں تھی، لیکن کوئی بات نہیں۔ایک غیر متوازن شخصیت کے حامل شخص کے امریکہ کا صدر بننے سے دنیا کے ساتھ امریکہ کے تعلقات پر جو اثرات مرتب ہوتے آئے ہیں اس کا یقینا امریکی محکمہ خارجہ کو ضرور احساس ہوگا لیکن ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنمائوں کے اجلاس میں جو لب و لہجہ اپنا یا اس سے امریکی سفارت کو جو دھچکہ لگا ہے اس خلیج کو پاٹنا ان کیلئے آسان کام نہ ہوگا۔ امریکہ کے سابق صدور کو اپنے خطاب میں ہمیشہ امریکہ کی حیثیت کا پاس رہا ہے۔ امریکی ضرورتوں اور پالیسی کے بیان کے مواقع پر ان کا لب و لہجہ با وقار اور مدبرانہ رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جو تھانیدارانہ انداز اپنایا وہ کسی طور قابل قبول نہیں ان کو ایران کے صدر حسن روحانی نے کڑا جواب دیا کہ انہوں نے واضح کیا کہ مختلف محاذ پر الجھنا طاقتور ہونے کی علامت نہیں، یہ ذہنی بیماری یا کمزوری کے اثرات ہیں، ایسا عمل دنیا کے نظام اور باہم رابطے کو سمجھنے سے قاصر کر دیتا ہے۔اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ٹرمپ کے خطاب میں سب سے پہلے امریکا کی بات نمایاں تھی جبکہ عالمی لیڈرز ان کے انفرادی نقطہ نظر سے مطمئن نہیں تھے اور اسی وجہ سے امریکا کے دنیا میں اپنے روایتی اتحادیوں سے تعلقات سازگار نہیں ہیں۔واضح رہے کہ امریکی صدر نے ایران کے جوہری اور پیرس کلائمٹ معاہدے سے علیحدگی اختیار کی اور نیٹو اقوام کو مشترکہ تحفظ کے لیے مزید ادائیگی کی دھمکیاں دیں۔علاوہ ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے طرز تجارت پر بھی تنقید کی تاہم روس کی شام میں مداخلت اور امریکی انتخابات میں مداخلت سے متعلق کوئی بات اپنے خطاب کا حصہ نہیں بنائی۔گو کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی راہداری میں ہاتھ ملانے پر شاداں ہیں لیکن اگر دیکھا جائے تو امریکی صدر نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں جن معاملات بارے دھمکی آمیز خطاب کیا پاکستان اور امریکہ کے درمیان ان معاملات بارے عرصے سے اختلافات اور تنازعات چلے آرہے ہیں۔ امریکی صدر نے جن معاملات بارے جو امریکی موقف بیان کیا اس کے تناظر میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان آنے والے دنوں میں کسی مثبت رابطے کی امید نہیں ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کو اب پاکستان اور ایران سمیت دیگر ممالک سے بالخصوص اور پوری عالمی برادری سے بالعموم سخت شکایات اور تحفظات ہیں۔ اس صورتحال میں مسلم ممالک اہم مغربی ممالک اور چین و روس جیسے طاقتور ممالک سبھی کو اس امر پر صلاح مشورہ اور غور کرنا چاہئے کہ آیا اقوام متحدہ کی اہمیت باقی ہے یا پھر یہ امریکہ کو عالمی ممالک کو دھمکی دینے اور سخت سست کہنے کا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اس عالمی ادارے کے غیر موثر ہونے امریکی اشاروں پر چلنے اور امریکی مفادات کے تحفظ کا جس طرح مرکز بنا دیاگیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری اس پر غور کرے اور ایسا لائحہ عمل اپنائے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ اپنی وقعت برقرار رکھ سکے جس لب و لہجے میں امریکی صدر نے عالمی رہنمائوں کو خطاب کیا اس تناظر میں بہتر یہی ہوگا کہ یا تو عالمی ممالک مل کر امریکہ کو ترکی بہ ترکی جواب دیں اور امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے باہم تعاون کا طرز عمل اپنائیں یا پھر اس عالمی فورم کو بھی اس کے پیشرو ادارے کی طرح دفنا دیا جائے اور باہم معاملات طے کرنے کی کوئی موزوں راستہ تلاش کیا جائے۔

متعلقہ خبریں