Daily Mashriq


پارلیمانی روایات کے برعکس فیصلہ سے گریز کی ضرورت

پارلیمانی روایات کے برعکس فیصلہ سے گریز کی ضرورت

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت نے پی اے سی کی چیئرمین شپ اپوزیشن جماعت کو دینے پر اس بناء پر عدم رضامندی کا اظہار کیا ہے کہ کمیٹی مسلم لیگ(ن) کی سابقہ حکومت کے اخراجات اور ریونیو کا آڈٹ کر سکے۔ کوئی معکول وجہ اس لئے نہیں کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین حزب اختلاف ہی کے قائد کا عہدہ ہے۔ کمیٹی میں چیئرمین کا عہدہ مرکزی ضرور ہوتا ہے لیکن اس کے ممبران پر اس حد تک اثرانداز نہیں ہو سکتا کہ کسی بدعنوانی کے معاملے کی تحقیقات نہ ہونے دے یا معاملہ دبا دے۔ وزیراطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی وزیراعظم عمران خان کیساتھ مشاورت کے بعد ہی اپنے فیصلے کا اعلان کرے گی۔ ان کا یہ کہنا کہ مسلم لیگ(ن) کے امیدوار کو پی اے سی کا چیئرمین مقرر کرنا ایسا ہی ہے جیسے لومڑی کو مرغی کے ڈربے کا چوکیدار لگا دیا جائے پارلیمانی روایات کے برعکس اور قابل اعتراض زبان ہے جس سے گریز کرکے ہی ایوان کی کارروائی چلانا ممکن ہوگی۔ واضح رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پارلیمنٹ کی اعلیٰ ترین کمیٹی ہے جو حکومت کے اخراجات اور ریونیو کے آڈٹ پر نظر رکھتی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ پارلیمنٹ کی روایت کے مطابق حکومت پی اے سی کی چیئرمین شپ اپوزیشن جماعت کو دے اور پارٹی نے شہباز شریف کو پی اے سی کی سربراہی کیلئے نامزد کیا ہے۔ مئی2006 میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے میثاق جمہوریت پر دستخط کرتے ہوئے آمادگی کا اظہار کیا تھا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ متعلقہ اسمبلیوں کی اپوزیشن لیڈر کے پاس ہوگی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا کام صرف گزشتہ اخراجات کا آڈٹ ہی نہیں موجودہ حکومت کے اخراجات پر بھی نظر رکھنا ہے اسلئے اگر موجودہ حکومت کے پاس چھپانے کی کوئی بات نہیں تو پھر قائد حزب اختلاف کی تقرری پر تحریک انصاف کو جھجھک کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان میرٹ اور شفاف طریقے سے اہم عہدوں پر تقرری کے داعی ہیں گوکہ ان کی بعض تقرریوں پر انگشت نمائی ہو رہی ہے لیکن پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر ان کا فیصلہ قائد حزب اختلاف کی تقرری کی روایت کی پاسداری کا ہوگا اور ہونا بھی چاہئے اسلئے کہ سپیکر قومی اسمبلی بھی اس روایت کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔ جہاں تک سابق حکمرانوں کے احتساب کا تعلق ہے اس کیلئے نیب کا ادارہ نہ صرف موجود ہے بلکہ وہ سنجیدگی سے احتساب کی سعی میں بھی ہے۔ شہباز شریف کے بطور قائد حزب اختلاف حکومت کیساتھ معاملات استوار دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی کوئی سنجیدہ سعی کی ہے اور نہ ہی روایتی حزب اختلاف کا راستہ اختیار کرکے تصادم کا راستہ چنا ہے۔ اگر موجودہ حکومت کا فیصلہ روایات کے برعکس آتا ہے تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) اپنے اداروں کی مثالیں دیکر نہ صرف حکومت کو زچ کریں گی بلکہ ان کو موجودہ حکومت پر اخلاقی اور اصولی برتری بھی حاصل ہوگی اور وہ قریب آئیں گے جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی کا بدلہ سینیٹ میں چکائی جانے لگے گی تو حکومت کیلئے معاملات چلانا اور قانون سازی ناممکن ہو جائے گی۔ بہتر ہوگا کہ پارلیمانی روایات کا احترام کیا جائے اور پی اے سی کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ لینے کیلئے حکومت اپنی ساکھ داؤ پر لگانے سے گریز کرے۔

آمر وقت کو رعایت کی پیشکش کیوں؟

چیف جسٹس ثاقب نثار کی عدالتی فیصلوں پر مناسب اعتراض کی گئی۔ اجازت اور سہولت کیساتھ ان کی جانب سے سابق صدر اور آمر وقت جنرل (ر) پرویز مشرف کی وطن واپسی کیلئے چیف جسٹس کی فراخدلانہ پیشکش پر حیرت کا اظہار بلاوجہ نہیں ہوگا چیف جسٹس نے اس طرح کی رعایت ایس ایس پی راؤ انوار کو بھی نقیب اللہ قتل کیس میں دی تھی جس پر اٹھنے والی انگلیاں اور چہ میگوئیاں بلاجواز ثابت نہ ہوئیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا معزز عدالت اس قسم کی سہولت اور رعایت ہر ملزم کو دے سکتی ہے اور سب سے بڑھ کر کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے منصف اعلیٰ ایک ملزم کو کیسے پیشکش کر سکتے ہیں۔ معروضی حالات میں اسے پھندے میں پھنسانے کی کوشش قرار دینے کی کوئی وجہ دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی نظیر ملتی ہے نہ ہی معزز عدالت کیلئے یہ مناسب ہوگا کہ وہ ملزم کو ترغیب دے کر عدالت میں پیش ہونے پر راغب کرے۔ کہا جاتا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے تو پھر قانون کو بصارت اور بصیرت سے متاثر کرنے کی بجائے ان خصوصیات کو مقدمہ سننے اور فیصلہ کرتے وقت استعمال میں لایا جائے۔ قانون کے مطابق ملزم کو پیش کرنے اور حاضر کرنے کا جو طریقہ کار موجود ہے اسے اختیار کرنا ہی عدالت کا کام ہے اور عدالت کیلئے اسی تک محدود ہونا ہی مناسب ہوگا۔

متعلقہ خبریں