Daily Mashriq


پاکستان میں مقیم افغانوں اور بنگالیوں کی شہریت

پاکستان میں مقیم افغانوں اور بنگالیوں کی شہریت

وزیر اعظم عمران خان نے پچھلے دنوں کراچی میں افغانوں اور بنگالیوں کے بچوں کے لیے پاکستانی شہریت کا جو سوال اُٹھایا تھا اس پر میڈیا میں بحث کے بعد یہ سوال قومی اسمبلی میں بھی اُٹھایا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی نے مشترکہ طور پر توجہ دلاؤنوٹس دیا اور حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ پی ٹی آئی کی اتحادی بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ اس موضوع پر مکمل بحث ہونی چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت انسانی بنیادوں پر افغان اور بنگالی بچوں کو پاکستانی شہریت دینے کی بات کر رہی ہے جب کہ بلوچ عوام سے ان کے اپنے وطن میںانسانوں جیسا سلوک نہیںہو رہا۔جہاں تک سردار اختر مینگل کے استدلال کا سوال ہے اس میں زور بیان کازیادہ دخل ہے ۔ بلوچ عوام سے اگر ان کے اپنے وطن میںانسانوں جیسا سلوک نہیںہورہاتو انہیں قوم کے سامنے اس کے شواہد پیش کرنے چاہئیں۔ اور یہ سوال پہلے بلوچستان کی حکومت سے کرنا چاہیے جو اٹھارہویں ترمیم کے بعد امن وامان اور دیگر معاملات میں مکمل بااختیارہے۔ حکومت اگر ان کے قول کے مطابق انسانی بنیادوں پر بنگالی اور افغان بچوں کو پاکستانی شہریت دے رہی ہے اور سردار صاحب کے نزدیک یہ بات قابلِ اعتراض ہے تو انہیں اس کے قابلِ اعتراض ہونے کی بنیاد بتانی چاہیے۔ جب وہ افغان اور بنگالی تارکین وطن کا بلوچ عوام سے موازنہ کرتے ہیں تو انہیں بتانا چاہیے کہ بلوچ عوام کی پسماندگی کی ذمہ داری کس پرہے اور اس میں سے کتنی ذمہ داری بلوچ قیادت کی ہے۔ ان کے مطالبہ کے مطابق اگر اس موضوع پر کھلی بحث ہوتی ہے تو یہ سب باتیں سامنے آئیںگی اور آنی چاہئیں تاکہ بلوچ عوام کی پسماندگی کی وجوہ سامنے آ ئیں اور قومی سطح پر انہیں دور کرنے کی سعی کی جائے۔

اگرچہ یہ کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان کا اشارہ صرف کراچی میں رہنے والے بنگالیوں اور افغانوں کے بچوں کی طرف تھا۔ تاہم انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے دورانِ بحث وضاحت کر دی کہ پاکستان کا قانون شہریت ہر اس بچے کو جو پاکستان میں پیدا ہوا پاکستان کا شہری ہونے کا حقدار قرار دیتا ہے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ اپوزیشن اس قانون کو تبدیل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس قانون میں لائی جانے والی کوئی ترمیم مؤثر بہ ماضی ہو سکتی ہے؟ جیسا کہ وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ بنگالیوں کو غیر ملکی نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ انہوں نے بنگلہ دیش کے قیام کے اعلان کے بعد بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا اور نہ بنگلہ دیش کی شہریت اختیار کی۔ وہ اس سے پہلے بھی پاکستانی شہری تھے اور بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کرنے کے باعث اب بھی پاکستانی شہری ہیں۔ یہ کہ بنگلہ دیش میں مقیم بہاری جنہوں نے آج تک بنگلہ دیش کی شہریت اختیار نہیں کی ہے اور جو آپ بھی اپنے آپ کو نامساعد حالات زندگی کے باوجود اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیںان کے بارے میں غور کرنا ہو گا۔ اس لئے کراچی یا پاکستان کے دوسرے علاقوں میں جو بنگالی اعلان بنگلہ دیش سے پہلے سے مقیم ہیں وہ اور ان کے بچے پاکستانی سمجھے جانے چاہئیں۔ ایسے اقدام سے پاکستان کی آبادی میں اضافہ نہیںہوگا بلکہ پاکستانیوں کے سارے شہری حقوق کے حقداروں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ رہی افغان تارکین وطن کی بات ان کو دو اقسام میں شمار کیا جا سکتاہے۔ ایک وہ جو افغانستان میں جنگ زدگی کی وجہ سے بطور مہاجر پاکستان میں آئے اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے مہاجرین کے کاغذات میں افغان مہاجرین ہیں۔ یہ لوگ پاکستانی نہیں ہیں اور نہ ان کے بچوں کو پاکستانی شمار کیا جاناچاہیے‘ صرف ان کا پاکستان میں پیدا ہو جانا ان کے پاکستانی ہونے کے لیے کافی نہیںہو جانا چاہیے ، اس سے ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے کہ جب یہ تارکین وطن واپس افغانستان جائیں تو کیا اپنے ساتھ پاکستانی بچوں کو بھی لے کر جائیں گے جو نہ صرف پاکستان کے شہری حقوق کے حق دار ہیں بلکہ پاکستان کے قوانین کے بھی پابند ہوں گے۔لہٰذا ان لوگوں کو پاکستانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری قسم ان تارکین وطن کی ہے جو افغانستان سے روزی کمانے اور کاروبار کرنے کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ یہ بغیر سفری دستاویزات کے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں ‘ اس لیے انہیں پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب سمجھنا جانا چاہیے۔یہ لوگ پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے پر پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں لہٰذا نہ انہیں پاکستانی شہری تسلیم کیا جا سکتا ہے ‘ نہ ان کی اولادوں کو ۔ اگر قانون میں ایسی کوئی گنجائش موجود ہے تو اس سقم کو ختم کیا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد جو بحث چل پڑی ہے اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ملک بھر میں مقیم غیر ملکیوں خاص طور پر افغان تارکین وطن اور بنگالیوں کی فہرستیں بننا شروع ہو گئی ہیں ۔ بنگالیوں کے بارے میں تو سطور بالامیں کہا جا چکا ہے کہ انہیں غیر پاکستانی نہیں قرار دیا جاسکتا کیونکہ یہ بنگلہ دیش کے اعلان سے پہلے بھی پاکستانی تھے اور بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے آج بھی پاکستانی ہیں۔ تاہم افغان اور روہنگیا اور دیگر قومیتوں کے تارکین وطن کو پاکستانی شہریوں کے برابر حقوق نہیں دیے جا سکتے۔ اب جو غیر ملکیوں کی فہرستیں بنائی جارہی ہیں ان کے لیے کوئی عرصہ طے کر دیا جانا چاہیے اور پاکستانی شہریوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کی نشاندہی کریں جو پاکستانی نہیںہیں لیکن پاکستان میںمقیم ہیں۔ اس کے بعد ان کی ملک بدری اور شہری حقوق کے حوالے سے ان کی حیثیت کا تعین کیا جانا چاہیے۔ قومی اسمبلی میں اس سوال پربحث کی جو سطح سامنے آئی ہے وہ معاملے کی حقیقت سے دور ہے‘ اپوزیشن برائے اپوزیشن کا رویہ ہے اور حقائق کی معلومات سے عاری۔

متعلقہ خبریں