Daily Mashriq


نیا بلدیاتی نظام، چند تجاویز

نیا بلدیاتی نظام، چند تجاویز

یہ امر بجا طور پر درست ہے کہ شہریوں کے بنیادی مسائل، صحت وصفائی، تعلیم اور چند دیگر امور بنیادی طور پر بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہیں۔ نچلی سطح کے یہ منتخب ادارے اختیارات کی مرکزیت کے مقابلہ میں دنیا بھر میں عوام دوست ادارے سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان میں اگر بلدیاتی نظام اپنا حقیقی کردار ادا نہیں کر سکا تو اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں سیاست میں گلی محلوں کے مسائل برادری ازم وغیرہ کے گرد گھومتی ہے۔ اس پر ستم یہ ہوتا رہا کہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز کا اجراء کیا جاتا رہا۔ قانونی اور اخلاقی طور پر یہ درست نہیں تھا۔ مقامی اداروں کے پر کاٹنے کے سلسلے کا آغاز 1985ء کی غیر جماعتی اسمبلیوں کے دور میں ہوا۔ اس سے اگلے ادوار میں ہم نے کبھی تعمیر وطن پروگرام، کبھی پیپلز ورکس پروگرام اور کبھی بلدیاتی ادارے بنتے ٹوٹتے دیکھے لیکن ترقیاتی فنڈزکے حوالے سے ارکان اسمبلی کی گرفت نہ ٹوٹنے پائی۔ بلدیاتی اداروں کی بڑی حامی ومحافظ نون لیگ نے تو2008ء سے 2013ء کے درمیان اپنی اکثریت والے صوبے میں بلدیاتی الیکشن ہی نہ کروائے۔ اس حوالے سے عدالتی عمل کا سامنا کرنا پڑا تو نون لیگ دہشتگردی اور امن وامان کی صورتحال کے پیچھے چھپ گئی، بالآخر اس کے 2013ء میں شروع ہونے والے دوراقتدار میں عدالتی فیصلے کے نتیجے میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات کے نتیجہ میںجو ادارے معرض وجود میں آئے وہ کس قدر فعال اور باوسائل تھے اس کیلئے تینوں صوبوں میں ہوئی قانون سازی کا بغور جائزہ حقیقت حال کو عیاں کر دیتا ہے۔اس تفصیل کے عرض کرنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ اب نومنتخب حکومت نیا بلدیاتی نظام متعارف کروانے کیلئے پرجوش ہے۔ اطلاعات کے مطابق نئے بلدیاتی ایکٹ میں 24محکموں کو ضلعی بندوبست میں دینے کی تجویز ہے۔ بلدیاتی اداروں کی اہمیت وافادیت اورضرورت پر دو آراء ہرگز نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسمبلیوں پر قابض اشرافیہ فعال بلدیاتی نظام قائم ہونے دے گی؟۔ ایک امید یہ دکھائی دیتی ہے کہ چونکہ نئی حکومت نے ارکان اسمبلی وزراء اور مشیروں کے صوابدیدی اختیارات اور فنڈز ختم کر دیئے ہیں اس صورت میں ممکن ہے بلدیاتی ادارے اپنی روح کے مطابق تعمیر ہو سکیں۔ ایسا ہوتا ہے تو یہ خوش آئند بات ہوگی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا نیا بلدیاتی نظام صرف پنجاب میں متعارف کروایا جائے گا۔ (پختونخوا میں تو پہلے سے موجود ہے) بلوچستان اور سندھ میں کیا ہوگا؟۔ عام فہم بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کو اس حوالے سے صوبوں بالخصوص بلوچستان اور سندھ کی حکومتوں سے بات کرنا ہوگی۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر حکومت بلدیاتی اداروں کو ان کی روح کے مطابق منظم وفعال کرنے کی خواہشمند ہے تو پھر اس کیلئے صوبوں میں قانون سازی کروائے مگر اس سے قبل ارکان پارلیمان کے ترقیاتی فنڈز کے اجراء پر مستقل پابندی کا قانون بنائے تاکہ مستقبل میں کوئی دوسری حکومت اس نظام کو کمزور یا غیرفعال نہ کرنے پائے۔ یہاں یہ امر بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ نیا نظام اسی صورت مستحکم اور طویل المدتی ثابت ہوگا جب اسے قانونی تحفظ، وسائل کی فراہمی اور شہریوں کے عام طبقات کی بھرپور نمائندگی حاصل ہو۔ جنرل پرویز مشرف والے بلدیاتی نظام یا موجودہ نظام والا معاملہ نہ ہو کہ نچلی سطح تک کے عہدوں پر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے خاندان یا ارکان اسمبلیوں کے پیارے قابض ہو جائیں۔ بلدیاتی اداروں کو فنڈز کے اجراء میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں پڑنی چاہئے، آبادی اور ضلع کا رقبہ ہر دوکو فنڈز کے اجراء میں مساوی اہمیت دی جائے، ارکان اسمبلی اور بیوروکریسی کی بالادستی کو آڑے نہ آنے دیا جائے۔

ہماری رائے میں اس سے دو فائدے ہوں گے اولاً یہ کہ شہریوں کا معیار بہتر ہوگا ثانیاً یہ کہ بلدیاتی ادارے اگلے درجہ کے منتخب اداروں کیلئے نرسری کا کام دیں گے۔ البتہ یہ امر بہرصورت مدنظر رکھنا ہوگا کہ بلدیاتی نظام سیاسی بنیادوں پر ہو تاکہ برادری ازم اور فرقہ وارانہ جذبات کا کاروبار کرنیوالے بھی ان اداروں پر قابض نہ ہو سکیں۔ موجودہ صورتحال میں حکومت کو اپنی مرضی کا بلدیاتی نظام لانے میں پنجاب اور سندھ میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پنجاب میں بلدیاتی ادارے نون لیگ کے حامیوں کے پاس ہیں، اندرون سندھ پیپلزپارٹی اور کراچی وحیدر آباد میں ایم کیو ایم کا پلہ بھاری ہے۔ اصولی طور پر تو عوام کے مسائل کے حل اور تعمیر وترقی کے معاملے میں تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر ایسی قانون سازی کرنی چاہئے کہ شہری اپنی گلی بنوانے یا دوسرے ترقیاتی کاموں کیلئے ارکان اسمبلی کے دروازوں پر چکر لگانے کی بجائے اپنے مقامی اداروں سے رجوع کریں۔ بدقسمتی سے ایسا ہوگا نہیں۔ ہوگا یہ کہ حزب اختلاف کی جماعتیں بلدیاتی سیاست میں اپنی طاقت کو ہونیوالے چیلنج کیخلاف مزاحمت کریں گی۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر ہم یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر پنجاب اور دوسرے دو صوبوں میں نیا بلدیاتی نظام متعارف کروانے سے قبل سیاسی جماعتوں کو ایک نکتے پر اکٹھا کر لیا جائے تو خوشگوار تبدیلی ممکن ہے۔ ہمیں امید ہے کہ تحریک انصاف بھی نئے بلدیاتی نظام کو نافذ کرنے سے قبل بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے رائے عامہ کے تمام فعال فریقوں کو اعتماد میں لے گی۔

متعلقہ خبریں