Daily Mashriq


مجھے کچھ نہیں چاہیے

مجھے کچھ نہیں چاہیے

کیا وہ قصہ پارینہ ہو جائینگے ۔ میاں نواز شریف ، شہباز شریف اور ان کے ساتھی ۔ کیاپاکستان میں واقعی بدعنوانی ایک بار پھر شجر ممنوعہ تصور ہونے لگے گی ۔ کیا واقعی ایسا ہوگا کہ کوئی گردن گھمائے گا اور اس کے برابر سے ایک کالی گاڑی گزرے گی جس میں وزیراعظم بیٹھے دکھائی دیں گے وہ گاڑی اس کے ساتھ ہی ٹریفک اشارے پر کھڑی دکھائی دے گی ۔ کیا پاکستان میں واقعی ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک گزشتہ وزیراعظم کی سرکاری رہائشگاہ میں یونیورسٹی قائم کر دی جائے اور وہ برآمدے جہاں کبھی انتہائی کروفر سے ایک مغلیہ طرز کے وزیراعظم گھوما کرتے تھے ، اب وہاں طالب علم گھومتے پھرتے دکھائی دیں ۔ وزیراعظم کوکوئی بھی کبھی بھی مل سکے گا ۔ کوئی وزیرکسی محکمے سے اپنی حد سے زیادہ مراعات نہ لے گا۔ کہیں سے کسی ناانصافی کی آوازنہ سُنائی دے گی ۔ ابھی تو ہم نے خواب بھی پوری طرح دیکھنے نہیں شروع کئے تھے۔ ابھی تو گورنر ہاؤس لاہور کے سبزہ زار میں بیٹھ کر اقبال نے اپنے بچے کے سکول میں ڈالنے کا پورا ارادہ بھی نہ باندھا تھا کہ خبرآئی، میاں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر رہا ہوگئے۔ ابھی تو کسی خوشخبری نے مجسم صورت بھی نہ اختیار کی تھی کہ ان کی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز بھی ہوگیا ۔ کو ن نہیں جانتا کہ یہ اس ملک کو کیسے کیسے لوٹتے رہے ہیں ۔ کون نہیں جانتا کہ ان کی دولت میں ایسی جناتی بڑھوتری کی اصل وجوہات کیا رہی ہیں ۔ کون نہیں جانتا ہے کہ ان کے ساتھیوں میں ہمیشہ سارے ہی رہزن رہے ہیں، کوئی رہبر نہیں رہا اور اس ملک کے لوگوں کو انصاف نہ مل سکا۔ ہر ظلم معلوم ہونے کے باوجود، ہر ایک بات کی خبر ہونے کے بعد بھی، انصاف نہ ہو سکا کیونکہ انصاف کیلئے ثبوت چاہئے ہوتے ہیں، ثبوت کبھی ملتے نہیں اور کبھی خاموش کروا دیئے جاتے ہیں۔ اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت بہرحال معیشت ہے۔ جب ساحر لدھیانوی نے کہا تھا

مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے

بھوک آداب کے سانچوںمیں نہیں ڈھل سکتی

توکاش اس نے یہ بھی بتایا ہوتا کہ انصاف کی طلب بھی حس لطیف ہے اور ثبوت بھی آداب ہیں۔ ایک غریب ملک کو، ایک غریب قوم کو اپنے امیر ڈاکوؤں، لٹیروں سے بس لٹنے کی آزادی ہے۔ ان کے احتساب کی توقع تو بس یونہی خام خیالی ہے۔ کہاں سے ہوگا انصاف جب ثبوت ہی نہ ملیں گے اور ثبوت کیسے ملیں گے جب ان لٹیروں سے فائدہ اٹھانے والے اور اپنی وفاداری کے عوض جھولیاں بھرنے کی امید رکھنے والے نظام میں موجود ہوںگے۔ جس درخت کے تنے کے اندر دیمک لگی ہو اس درخت کے پتے کتنے بھی سبز دکھائی دیں، اس کی عمر گنی جا چکی ہوتی ہے۔ ہم تو بس نوحہ گرہیں کبھی اپنی امیدوں کے ٹوٹ جانے کا ماتم ہے، کبھی اپنے ہی لوٹ لئے جانے کا نوحہ ہے۔ ہم وہ بے بس قوم ہیں جو کربلا کے اس لق دق صحرا میں آج تک قید ہیں جہاں نواسہ رسولؐ پر پانی بند تھا اور ہم پر امید کی آنکھ کا آنسو بھی بند ہے ۔ ہم روتے بھی نہیں کیونکہ اب تو کہیں سے شنوائی کی کوئی آس بھی نہیں ۔وہ خواب جو ہم دیکھ رہے تھے ان خوابوں کو چکنا چور ہوئے بھی اب کچھ دن ہوگئے ہیں ۔ اور اب سوچتے ہیں کہ کیا کریں ۔ یہ ملک ہمیں جب کبھی بھی تسلی دیتا ہے ہم چھوٹے بچوں کی طرح ہمک کر اس تسلی کا دامن تھام لیتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ احتساب ہوگا تو ہم اپنی آنکھیں پھیلائے اس کی جانب دیکھنے لگتے ہیں لیکن پھر ایک نا امیدی دل میں گھر کرنے لگتی ہے میرے جیسے لوگ اپنے آپ کو تھپک تھپک کر دلاسے دیتے ہیں ، بس چند سال کی تپسیا کی ضرورت ہے پھر ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہوجائے گا اور کوئی میرے کان میں سرگوشی کرتا ہے یہ کچھ نہیں کرسکیں گے ۔ ان کے معاملات بھی ویسے ہی ہیں جیسے ان کے پہلے لوگوں کے تھے ۔ یہ ملک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے لیکن معیشت کی گراری نیت پر نہیں چلتی۔ اسے مہمیز کیئے جانے کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ پالیسی کی باگیں کس کر اسے درست سمت میں ، صحیح راستے پر سرپٹ دوڑائے جانا بہت ضروری ہوتا ہے ۔ کیا یہ حکومت ایسا کرسکے گی ۔ اسد عمر نے اسمبلی کے اجلاس میں شہباز شریف کو جواب تو اچھا دیا لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ بس انہی اچھے جوابوں کا ہاتھ تھام کر وقت گزارنا پڑے اور اس کے بعد کسی سمت سے کوئی آواز سنائی نہ دے کیونکہ کہنے والے تو اسد عمر کی صلاحیتوں پر بھی سوال کرنے لگتے ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے ان لوگوں کی باتون کو سچ جان کر ان پر اعتماد کر کے انہیں ووٹ دیئے ہیں ان کے دل ہولنے لگتے ہیں ۔ ہم بس اس ملک کا بھلا چاہتے ہیں ۔ اپنے بچوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے آج کی بھٹی میں اگر ہم جل بھی جائیں تو کوئی ڈر نہیں ، کوئی دُکھ نہیں بس میرے بچوں کا مستقبل محفوظ اور ان کی جان محفوظ ہو اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیئے۔

متعلقہ خبریں