Daily Mashriq


حکومت منظور پشتین کو لگام دے

حکومت منظور پشتین کو لگام دے

پاکستان میں دہشتگردی نے عالمی طاقتوں کی باہمی چپقلشوں اور سرد جنگ کے نتیجے میںجڑ پکڑی اور پھر یہ طاقتیں تو سکون اور امن سے اپنے اپنے ملک میں بیٹھ گئی لیکن پاکستان طویل عرصے تک اس شدید ترین مسئلے سے بری طرح متاثر رہا بلکہ اب بھی ہے اگرچہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل اور پاک فوج کی کامیاب حکمتِ عملی،قربانیوں اور کارروائیوں کے نتیجے میں اس عفریت پر کافی حد تک قا بو پایا جا چکا ہے اور الحمدللہ عوام اب معمول کی کارروائیوں کو سکون سے سرانجام دے رہے ہیں لیکن یہی بات دشمن کوگوارا نہیں وہ جب ایک طرف سے امن بحال ہوتے دیکھتا ہے تو دوسرا محاذکھول لیتا ہے۔ افغان طالبان، پاکستانی طالبان، داعش اور بلوچستان ہر طرف سے جب اُسے ناکامی ہوئی تو اُس نے ایک نوجوان کو پکڑ کر اُس پر کام کیا اور اب اسی منظور پشتین کو وہ عالمی سطح پر ہیرو بناکر پیش کر رہا ہے۔ حکومت نے بھی اسے ابھی تک چھٹی دے رکھی ہے اور وہ جگہ جگہ نفرت انگیز تقار یر بھی کر رہا ہے اور جلسے جلوس بھی اور یہ سب کچھ ملک کے اندر اور ملک سے باہر دونوں جگہ ہو رہا ہے اور صوابی میں ایسی ہی نفرت انگیزی پھیلانے پر اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے۔ منطور پشتین کے جلسے جلوس پاکستان میں بسے ہوئے لاکھوں افغانوں کے دم سے آباد ہوئے ہیں اور باہر کی دنیا میں تو اُسے انسانی حقوق کا ایک علمبردار بنا کرپیش کیا جا رہا ہے اور دشمن ممالک کے ادارے پیسہ پانی کی طرح بہا کر اُس کے جلسے منعقد کروا رہے ہیں۔ بھارت کے خزانوں کے منہ تو پاکستان کے خلاف ہمیشہ کھلے رہتے ہیں لہٰذا اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے لیکن اس کے لیے تو اٖفغانستان نے بھی اپنا ہر قسم کا تعاون پیش اور فراہم کیا ہے۔ وزیرستان کا یہ نوجوان جس کو شروع میں دشمن ایجنسیوں کی طرف سے محدودمینڈیٹ دیا گیا اُس نے چند مطالبات پیش کئے اور اسے انسانی حقوق کا ایک نمائندہ بنا کر پیش کیا گیا۔ اُس نے پاکستانی افواج کی اس کے علاقے کے لیے قربانیوں کو یکسرنہ صرف نظر انداز کیا بلکہ انہیں ہی مجرم بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ابتداء میں اُس نے اپنے علاقے میں موجود چیک پوسٹوں پر احتجاج کیا اور انہیں ہٹانے کا مطالبہ کیا ، اپنے علاقے سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ محسود نوجوان نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد اُس نے اسلام آباد میں دھرنا دیا اور پختونوں کو علاقائیت اور قومیت کی بنیاد پر اُبھارنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی ساتھ اُس نے پاک فوج پر الزامات لگائے۔ خود کو طالبان کا مخالف کہنے والے اس شخص نے وزیرستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے لیے افواج پاکستان کو موردِ الزام بلکہ ذمہ دار ٹھہرایا اور اسے پختونوں کے خلاف کارروائی قرار دیا یعنی اس طرح سے پختونوں کے جذبات کو اُبھارا اور انہیں ریاست کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی۔منظور پشتین جس ماحول اور علاقے میں پیدا ہوا اور پلا بڑا اس کے مطابق وہ خوب جانتا ہے کہ اس کے علاقے میں فساد پھیلانے والے ہاتھ کس کے تھے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اُس پسماندہ علاقے میں ایک فوجی ادارے نے ہی اُسے ایک بہتر تعلیم کی بنیاد فرا ہم کی۔ اے پی ایس بنوں سے میٹرک کر کے آگے بڑھ کر تعلیم حاصل کر نے کے قابل بنایا ۔اُس نے اسی ادارے یعنی فوج کے خلاف زبان دراز کی تو ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے ایک ایسے دشمن کا ہاتھ ہے جو پاکستان میں امن نہیں چاہتا ۔منظور پشتین ’’را ‘‘کا ایجنٹ ہونے کا انکار کرتا ہے لیکن اُس کے تمام اقدامات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اُسے دیا جا رہا ہے اور بہت کچھ دیا جا رہا ہے۔ بات یہی ہے کہ اُس کے ابتدائی اقدامات کو دیکھ کر دشمن نے اُسے چن لیا اور اسے ایک مقامی طور کام کرنے والے شخص سے بین الاقوامی طور پر پہچانا جانے والا ہیرو بنانے کی کوشش کی۔ پشتین کو ملک کے اندر سے بھی اُن لوگوں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے خوب پذیرائی اور مدد ملی جو خود کو پختونوں کا نمائندہ کہلانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کبھی اُس مقام تک نہیں پہنچے جہاں پر وہ خود کو ایسا کہلا سکیں۔ منظور پشتین نہ کوئی بڑا نام ہے نہ بڑا دماغ جس کو اداروں میں بلا کر اُس سے تقریریں کروائی جائیں لیکن ہمارے کچھ تعلیمی اداروں نے بھی اُسے اپنے ہاں بطور مہمان مقرر کے مدعو کیا ہے۔ تعلیمی ادارے جو خود اعلیٰ دماغوں سے بھر پور ہیں اس کو بُلا کر اپنے طلباء کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ فوج مخالف پچھلی حکومت کے دور میں تو اُسے خوب موقع دیا گیا کہ وہ فوج کے خلاف بولے اور نفرت پھیلائے لیکن اب اُسے لگام ڈا لنی پڑے گی۔مجھے چند ایسے نو عمر نوجوانوں سے ملنے کا بھی اتفاق ہوا جو بغیر کسی تحقیق اور جانکاری کے اُس کی پیروی پر آمادہ ہیں اور پوچھنے پر وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں بتا سکے کہ وہ پختونوں کے حقوق کے لیے کام کر رہا ہے اور یہی ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر ایک خود کو حقوق سے محروم سمجھتا ہے اور فرائض سے مبرا، اسی چیز کو دشمن خوب خوب استعمال کرتا ہے اور میں ہر بار کی طرح اب کی بار بھی یہی کہوں گی کہ وہ ایسا کرے گا کیونکہ وہ دشمن ہے اور وہ دشمنی کے تمام حربے آزمائے گا لیکن کچھ فرائض ہم نے بھی ادا کرنے ہیں۔ ان علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم تو کر دیا گیا ہے اور فوج نے بھی قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے بھر پور کام کیا ہے لیکن اب ضرورت اس امرکی ہے کہ ان علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر ترقیاتی کام کیے جائیں اور خاص کر روزگار کی فراہمی پر توجہ دی جائے تاکہ فارغ نوجوان اس قسم کے لوگوں کے جھانسے میں آکر ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث ہی نہ ہوں اور حکومت اس طرف بھی توجہ دے کہ تمام سہولیات کو بڑے شہروں میں سمیٹ کر محدود کر دینے کی پالیسی ترک کر لے اور اس کا دائرہ ضرورت کے مطابق پورے ملک میں پھیلائے پھر کوئی دشمن کوئی منظور پشتین یوں آسانی سے تلاش نہیں کر سکے گا جو ریاست اور اس کے اداروں کیخلاف زہر پھیلائے اور عام لوگوں کو گمراہ کر سکے۔

متعلقہ خبریں