Daily Mashriq


بجلی کے بغیر ترقی ناممکن

بجلی کے بغیر ترقی ناممکن

عوام گزشتہ 25 سال سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ بر داشت کر رہے ہیں۔ بد قسمتی سے ہماری سویلین اور ملٹری بیورو کریسی اور حکومتوں دونوں نے بجلی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے عوام کو بچانے کے لئے کچھ نہیں کیا جسکے نتیجے میں نہ صرف پاکستانی اس سے بُہت پریشان ہیں بلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور ساتھ ساتھ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستانی عوام سوئی گیس لوڈ شیڈنگ بھی بر داشت کر رہے ہیں۔ گرمی اور سردی میں بجلی لوڈ شیڈنگ جبکہ سردی میں گیس لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔اگر ہم پاکستان کے جُغرافیہ پر نظر ڈالیں تو پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے چاروں مو سموں اور توانا ئی کے مختلف ذرا ئع سے نوازا ہے۔جس میں دریائوں کا پانی، کوئلہ ، یو رینیم ،ہوا اور شمسی توانائی سے لاکھوں میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے حکمران اتنے نااہل ہیں کہ ان بے تحا شا وسائل کے ہوتے ہوئے ہم 20 سے 25 ہزار میگاواٹ بجلی اپنی ضرورت کے لئے نہیں بنا سکتے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان اکیسویں صدی میں بھی نا مساعد حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو پاکستان میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلا حیت ایک لاکھ میگا واٹ، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی 50 ہزار میگا واٹ ، کوئلہ سے 2 لاکھ میگا واٹ دو سو سال کے لئے اور ایک مربع میٹر پر2 کلوواٹ شمسی توانائی پڑتی ہے علاوہ ازیں بگاس اورجوہری توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت لاکھوں میگا واٹ ہے ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہماری حکومتیں پرائیویٹ بجلی پیدا کرنے والوں سے بجلی مہنگی قیمت پر لیکر غریب عوام کو مہنگے داموں بیچ رہے ہیں۔ جب لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے تو ہمارے حکمرانوں کا واویلا ہوتا ہے کہ بجلی تو ہے مگر لائنیں اور سسٹم اتنا کمزور ہے کہ وہ زیادہ بجلی کی طاقت برداشت نہیں کر سکتے اور اس طرح اپنی نااہلی کا بار بار ذکر کرتے ہیں۔آخر یہ سسٹم ٹھیک کرنا کس کی ذمہ داری ہے۔ اگر موجودہ دور میں غور کریں تو اس وقت توانائی کے متبادل ذرائع سستے پڑتے ہیں جبکہ اس کی نسبت روایتی طریقے جس میں گیس ، کوئلہ، تیل اور دوسرے کئی ذرائع شامل ہیں وہ مہنگے پڑتے ہیں۔ روایتی ذرائع سے جو بجلی پیدا ہوتی ہے یہ ما حول کو زیادہ آلو دہ کرتا ہے جسکے نتیجے میں زیادہ بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اگر بجلی پیدا کرنے والے بجلی گھروں کی فی میگا واٹ قیمت کا اندازہ لگائیں تو اس سے یہ بات ثابت ہے کہ یا تو یہ کام حکومت کرسکتی ہے اور یا بُہت بڑا تاجر بجلی پیدا کرنے والے نظام کو چلا سکتا ہے۔ اگر ہم غور کریں تو پانی سے بجلی پیدا کرنے کے بجلی گھر کا فی میگا واٹ خرچہ 20 کروڑ سے لیکر 39 کروڑ کے قریب ہے۔ پیراگوئے میں 4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا ایک بجلی گھر 2008 میں 12600ارب ڈالر کی لاگت سے بنا یا گیا تھا ۔ اگر ہم اسکی فی میگا واٹ قیمت کا اندازہ کریں تو یہ قیمت تقریباً 25 کروڑ روپے فی میگا واٹ بنتا ہے۔اسی طرح بھا شا ڈیم کے 4500میگا واٹ کا تخمینہ14.6ارب ڈالر لگا یا گیا ہے جبکہ پاکستانی روپوں میں اس کی فی یونٹ قیمت تقریباً 38 کروڑ بنتی ہے۔اگر ہم توانائی کے دوسرے ذرائع پر غور کریں تو کوئلے سے ایک میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والی مشین کی قیمت 17 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے جبکہ جو ہری یعنی ایٹمی توانائی سے ایک میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی قیمت 34کروڑ روپے ہے جبکہ کوئلے سے ایک میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی قیمت 17 کروڑ روپے ہے۔ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی قیمت 15کروڑ فی میگا واٹ ہے۔ سولر سیلوں سے ایک میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی قیمت 12 کروڑ سے 15 کروڑ روپے ہے۔ بائیو جینس یعنی بگاس یا اس قسم کے دوسرے ذرائع سے ایک میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی قیمت 20 کروڑ کے قریب ہے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے وسائل ہیں مگر مالی وسائل نہیں جس سے بجلی کی مشینیں اور بجلی گھر بنا کر عوام کو سستی بجلی دی جائے۔ا ور اسطرح نہ صرف لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوجائے گا بلکہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری بھی ہوگی جس سے لوگوں کی سماجی اقتصادی اعشاریوں میں بھی بہتری آئے گی۔

حکمرانوں کو چاہیئے کہ اللہ کا خوف کریں اور پاکستانیوں کو وہ بنیادی حقوق دیں جن کی گارنٹی ملکی دستور اور آئین میں دی گئی ہے۔ پاکستانیوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی جنگ کی وجہ سے بُہت عذاب جھیلے اور اب حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پاکستان کے غریب عوام کو کچھ دیا جائے۔ بجلی کی فی میگا واٹ قیمت میں فرق آسکتا ہے مگر قیمت تقریباً یہی ہے۔دنیا کے کئی ممالک متبادل ذرائع توانائی سے لاکھوں میگا واٹ بجلی بناتے ہیں۔ مثلاً چین اس وقت دنیا میں توانائی کی مد میں لیڈ کر رہا ہے۔ چین شمسی توانائی کے سیلوں سے 89 ہزار میگا واٹ بجلی بناتا ہے ، جاپان شمسی توانائی کی مد میں دوسرے نمبر پر بجلی پیدا کررہا ہے جو 43 ہزار میگا واٹ ہے۔ چین ہوا سے ایک لاکھ 89 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر امریکہ ہے جو ہوا سے 90 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔اسی طرح چین پانی سے 857 بلین کلو واٹ فی گھنٹہ پیدا کرتا ہے ۔ دنیا کے اکثر ممالک بجلی پیدا کرنے کے نئے نئے طریقوں کو استعمال کر رہا ہے اور ہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی بجلی کے کئی منصوبوں پر کام شروع کریں۔

متعلقہ خبریں