افغانستان اور بھارت کا بے نقاب چہرہ

افغانستان اور بھارت کا بے نقاب چہرہ

کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا اپنے اعترافی بیان میں بھارت اور افغانستان سے کالعدم تنظیموں کی اعانت اور مالی وسائل کا حصول اور ان ممالک کے ہاتھوں کھیلنے کا انکشاف اگر چہ ابتک بھی نوشتہ دیوار ہی تھا مگر دہشت گردوں کے ایک سابق کلیدی عہدوں پر کام کرنے والے شخص کا انکشاف اپنی کہانی اپنی زبانی پر مہر تصدیق ثبت کرنے کے مترادف ہے جس کے بعدان ممالک کی پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردی کی سر پرستی طشت از بام ہو چکی ہے ۔ دہشت گردی کی بڑی وارداتوں کی اپنی تنظیموں کی طرف سے ذمہ داری قبول کرنے والے ترجمان کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ان کی خود کو رضا کارانہ طور پر حکام کے حوالے کرنے کے پس پردہ وجہ یہ تھی کہ کوئی تنظیم ان کو بطور ترجمان ساتھ رکھنے پر تیار نہ تھی۔ ویسے بھی افغانستان منتقلی کے بعد ان تنظیموں کا شیر ازہ بکھر چکا ہے ۔ کالعدم تنظیموں کے سابق ترجمان کے پس پردہ انکشافات اور اطلاعات سے حساس اداروں کا کام خاصی حد تک آسان ہو جانا فطری امر ہوگا ان کی حوالگی کالعدم تنظیموں میں بد دلی کی بھی ایک مثال قرار پاتی ہے ۔بہرحال انہوں نے ان تنظیموں کے کردار اور ذہنیت کے حوالے سے جو اعترافات کئے ہیں وہ ان لوگوں کیلئے خاص طور پر قابل توجہ ہیں جو ان عناصر کے حوالے سے دل میں کوئی نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔اگر چہ قوم ان دہشت گرد عناصر کے مذموم مقاصد سے پوری طرح آگاہ ہے پھر بھی خود اعتراض کی دلیل کے طور پر ان کے انکشافات کا مختصر جائزہ لیا جائے تو اس کے مطابق پاکستان کے خلاف کالعدم تنظیم اسرائیل سے بھی مدد لینے کے لیے تیارتھی۔ اسلام کا نعرہ لگاتے تھے مگر اس پر عمل نہیں کرتے تھے، طالبان نے خاص طور پر نوجوان طبقے کو گمراہ کرکے اپنے ساتھ ملایا۔احسان اللہ احسان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے رہنمائوں میں قیادت کی جستجو تھی اورحکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تو قیادت کی دوڑ میں مزید تیزی آگئی جس کے بعد انتخابات کی طرز پر ایک مہم چلائی گئی، اس مہم میں مولوی فضل اللہ، خالد سجنا اور عمر خالد خراسانی شامل تھے۔سابق ترجمان ٹی ٹی پی نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تنظیم سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں جن کا امیرقرعہ اندازی سے منتخب ہوا ہو اور اپنے ہی استاد کی بیٹی سے زبردستی شادی کر کے اپنے ساتھ لے گیا ہو۔ایسے لوگ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں اور نہ ہی کر سکتے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب شمالی وزیرستان میں آپریشن ہوا تو ہم سب افغانستان چلے گئے۔ احسان اللہ احسان نے ٹی ٹی پی کو ملنے والی بھارتی معاونت کا بھی اعتراف کیا، ان کا کہنا تھا کہ جب ہم افغانستان پہنچے تو میں نے وہاں دیکھا کہ ٹی ٹی پی کے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ساتھ تعلقات بڑھنے لگے ہیں،را نے ٹی ٹی پی کو افغانستان میں مالی معاونت فراہم کی اور ٹی ٹی پی کو اہداف دیئے اور پاکستان میں کی جانے والی ہر کارروائی کی قیمت بھی ادا کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود ان تنظیموں نے مختلف کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں جو بھارتی خفیہ ایجنسی را سے روابط رکھتے ہیں، بھارت نے ان لوگوں کو تذکرہ دیا تھا، یہ تذکرہ افغانستان کے قومی شناختی کارڈ کی طرح استعمال ہوتے ہیں اور ان کے بغیر سفر کرنا مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی تمام تر نقل و حمل کا علم افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کو بھی ہوا کرتا تھا اور این ڈی ایس ہی ٹی ٹی پی کو پاکستان میں داخل ہونے کا راستہ فراہم کرتی تھی۔پاک فوج کے حالیہ آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے احسان اللہ احسان نے کہا کہ جماعت الاحرار کے جو کمانڈر اب باقی رہ گئے ہیں ان میں مایوسی پائی جاتی ہے، میں ان کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ بس کرو، امن کا راستہ اختیا کرو اور پر امن زندگی میں واپس آجائیں۔جس طرح برائی کی ہر قوت کو ایک نہ ایک دن انجام کو پہنچ جانا ہوتا ہے دہشت گردوں کے سابق ترجمان کی دہشت گردانہ سر گرمیوں کا باب بھی اب بند ہو چکا ہے ۔ احسان اللہ احسان کے کردار و عمل کی سوائے اس کے کہ وہ کافی تاخیر سے لیکن بہرحال لوٹ چکا ہے جس کے بعد ان کے ساتھ اصولی طو ر پر ان دہشت گردوں کا سا سلوک شاید مناسب نہ ہوگا جن کی گرفتاری کے بعد ہوتا ہے لیکن دوسری جانب ان کے ماضی کے کردار کو یکطرفہ نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں سوائے اس کہ وہ کسی واقعہ میں براہ راست ملوث نہیں تھے بلکہ ان واقعات سے میڈیا کو آگاہ کرتے تھے دوم یہ کہ اب وہ وعدہ معاف گواہ کے طور پر اداروںسے تعاون کرکے کار آمد کردار ہیں اس لئے ان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے اور سزا دینے کا امکان کم ہی ہے ۔ احسان اللہ احسان کے انکشافات سے بھارت اور افغانستان کا جو گٹھ جوڑ طشت ازبام ہوا ہے ان اعترافات اور ثبوتوں کو دونوں ممالک کی قیادت کے سامنے رکھا جائے اور سفارتی طور پر اس کو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے سامنے اٹھا یا جائے ۔ جب تک پڑوسی ممالک کا کردار و عمل اس قسم کا رہے گا خطے میں قیام امن اور استحکام امن کی توقع ہی عبث ہے ۔ افغانستان میں حالیہ ہلاکتوں میں را کے ایجنٹوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں بھی اپنی جگہ از خود اس امر کا ثبوت ہیں کہ افغانستان میں بھارت کو کھل کھیلنے کی پوری آزادی ہے اور افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردانہ منصوبوں کی تیاری اور ان پر عملدر آمد کیلئے استعمال ہورہی ہے اور افغانستان میں دہشت گردوں کو سہولت اور پناہ ملتی ہے ۔

اداریہ