چاردرجاتی فارمولہ ، ڈاکٹرز بھی فرض نبھائیں

چاردرجاتی فارمولہ ، ڈاکٹرز بھی فرض نبھائیں

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے ڈاکٹروں کیلئے چاردرجاتی فارمولے کی منظوری اور طبی عملے کیلئے ہیلتھ الائونس کا وعدہ حکومت کی طرف سے ان کے مطالبات کے حل اور ان کو ترقی کے بہتر مواقع اور مالی فوائد دینے کے اقدامات ہیں۔ تدریسی ہسپتالوں میں پریکٹس نہ کرنے کیلئے الگ الائونس ملتا ہے اور تنخواہوں میں خاطرخواہ اضافہ بھی کیا گیا ہے لیکن بد قسمتی سے حکومت کے سارے اقدامات کنوئیں میں پتھر ڈالنے کے مترادف بن جاتے ہیں ۔ سینئر ڈاکٹر ز ہوں یا جونیئر ڈاکٹرز یا پیرا میڈیکل سٹاف مراعات کے مطالبات کی منظوری کے بعد بجائے اس کے کہ وہ بھی دل جمعی دل لگی اور خلوص سے مریضوں کے علاج معالجہ پر توجہ دے کر حکومت اور اپنے محکمے کی نیک نامی کا باعث بنیں بد قسمتی سے ایسا نہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ بہر حال مسلمہ ہے کہ ہسپتالوںمیں علاج معالجے میں قدرے بہتری ضرور آئی ہے لیکن من حیث المجموع صورتحال بہتر نہیں ۔ صوبے کے تدریسی ہسپتالوں خاص طور پر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی تزئین و آرائش اور سہولیات کی فراہمی پر جو وسائل خرچ کئے گئے ہیں اور جو بہتری نظر آتی ہے ۔ ہمارے تئیں یہ کم از کم ہیں جو صوبے کے باقی دو تدریسی ہسپتالوں سمیت تمام ڈویژنز کی سطح کے بڑے ہسپتالوں اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز کے ہسپتالوںمیں بتدریج نظر آنی چاہیئے ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ڈاکٹروں کے چاردرجاتی سروس سٹرکچر کے فارمولے کی منظوری کے بعد اب کسی ڈاکٹر کو دور دراز کے کسی ہسپتال میں ڈیوٹی دینے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیئے جبکہ محکمہ صحت اور نظامت صحت کو بھی اس امر کو خاص طور پر یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اضلاع کے تمام درجوں کے شفاخانوں میں ڈاکٹر وں اور طبی عملے کی موجود گی اور پابندی سے فرائض کی ادائیگی کا پورا پورا اہتمام ملے گا ۔
یونیورسٹی ٹائون میں تعلیمی اداروں کی بندش
یونیورسٹی ٹائون میں عدالتی احکامات پر نجی سکولوں کی بندش اور صوبائی اسمبلی میں وہاں کی رہائشی آبادی میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی قانون سازی کے باوجود نجی سکولوں اور یونیورسٹیوں کے کی کیمپسز کی بندش کے قانونی اور آئینی معاملات سے قطع نظر اس عمل سے طالب علموں اور والدین کو جس پریشانی کا سامنا ہے اس کے حل پر کوئی آمادہ نہیں ۔ خاص طور پر یہ معاملہ ان طلبہ کیلئے سخت پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے جن کی جامعات کے ملک بھر کے کیمپسز میں تو معمول کی پڑھائی ہورہی ہے جہاں سے پر چے بن کر ذیلی کیمپسز میں آتے ہیں۔ سمسٹر کے جوبن اچانک کیمپسز کی بندش سے یہاں کے طالب علم پڑھائی میں مرکزی کیمپس میں پڑھائے جانے والے نصاب سے کافی پیچھے رہ گئے ہیں اور ان کو بلا پڑھے اس حصے سے بھی سوالات حل کرنے ہوں گے جو ابھی انہوں نے پڑھا ہی نہیں ہوگا اس سے ان کا جی پی اے اور پوزیشن متاثر ہونا خدا نخواستہ ان کے کیئر یئرکیلئے باعث نقصان ہوگاجس کا نہ عدالت ، نہ اسمبلی و حکومت اورنہ ہی کیمپس منتظمین ازالہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کو اس سے غرض ہے ۔اگر ایسا ہوتا تو طلبہ کو یوں بیچ منجدھارنہ چھوڑا جاتا علاوہ ازیں نجی سکولوں اور تعلیمی اداروں کی بندش بھی منتظمین طلبہ اور والدین کیلئے کوئی خوشگوار امر نہیں بلکہ پریشانی کاباعث ہے ۔ اس صورتحال کا جلد سے جلد کوئی نتیجہ نکالا جانا چاہیئے اور ایسا انتظام ہونا چاہیئے کہ طلبہ کی تعلیم قانون پر عملدر آمد اور قانون سازی کی نذر نہ ہو ۔
نوسربازوں کی نئی چال
پشاور سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں نو سر بازوں کا مختلف طریقوں سے سادہ لوح افراد سے رقم اینٹھنا معمول بن چکا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ کے نام پر اب تک فراڈ ہو رہا ہے اور موبائل فونز پر پیغام دینے والوں میں بھی کمی نہیں آئی۔ نئے طریقہ واردات کے طور پر صوبے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے نیشنل انکم سپورٹ پروگرام کے جعلی فارمز فروخت ہو رہے ہیں جن کے خلاف انتظامیہ حسب عادت تساہل کا مظاہرہ کررہی ہے یا پھر چشم پوشی کا وتیرہ اختیار کر رکھا ہے۔ اس کا تو علم نہیں لیکن عوام لٹ رہے ہیں۔ ہر علاقے کی پولیس اور متعلقہ انتظامیہ کو اگر اس کے حلقے میں ہونے والی مجرمانہ سرگرمیوں اور دھوکہ دہی کی وارداتوں ملاوٹ اور مضر صحت اشیاء کی فروخت کا علم نہیں ہوتا یا وہ اسے روکنے میں ناکام ہیں تو ان کو اس ذمہ داری سے فارغ کرنے کی ضرورت ہے۔

اداریہ