احسان اللہ احسان ایک قیمتی گواہ

احسان اللہ احسان ایک قیمتی گواہ

ہزار بار یہ بات میڈیا میں زیرِ بحث آ چکی ہے کہ خود کش بمبار جو اپنے جسم پر بم باندھ کر کسی مجمع میں پھٹ جاتا ہے دہشت گردی کے سرپرستوں کا محض ایک کارندہ ہوتا ہے۔ ممکن ہے اس نے کبھی ان سرپرستوں کی شکل بھی نہ دیکھی ہو۔ لیکن اصلی دہشت گرد اور تخریب کار تو وہ لوگ ہیں جو سچے اور پرخلوص دلوں والے نوجوانوں کو خود کشی اور جنگجوئی پر آمادہ کرتے ہیںتاکہ کروڑوں مسلمانوں کے ملک پاکستان کو غیر مستحکم کر سکیں۔ پاکستان کے باشندوں کو خوف و ہراس میں مبتلا رکھنے کی پالیسی کے جاری رکھنے کے لیے ایندھن کے طور پر کام آئیں ۔ اور یہ خود کش بمبار بھی اپنی مرضی کا مختار کارندہ نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ایک نیٹ ورک کام کرتا ہے ۔ کوئی اسے خود کش جیکٹ تیار کر کے دیتا ہے' کوئی اس کے سفر کا بندوبست کرتا ہے' کوئی اس کی عارضی رہائش اور قیام و طعام کا بندوبست کرتا ہے۔ کوئی اسے حملے سے قبل اس علاقے سے متعارف کراتا ہے۔ کیا یہ سب انفرادی جذبے کے تحت ہوتا ہے؟ یہ ممکن نہیں۔ ان سب کل پُرزوں کو کوئی مربوط کرتا ہے ۔ کوئی انہیں فنڈز فراہم کرتا ہے۔ کوئی ان کی کفالت کا بندوبست کرتا ہے۔ ایسے کئی نیٹ ورک برباد ہو چکے ہیں 'ان کے مختلف کارندے گرفتار ہو چکے ہیں۔ مختلف کارروائیوں میںمارے جا چکے ہیں۔ لیکن یہ تو محض چند نیٹ ورکس کی بات ہے۔ تین چار سال پہلے جب تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کی بات ہو رہی تھی تو ان کی ایک تنظیم نے مذاکرات کی مخالفت کی۔ اس تنظیم نے میڈیا کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر فاٹا سے مدد نہ بھی ملی تو اس کے پاس پاکستان کے شہری علاقوں میں اتنا اسلحہ ' گولہ بارود اور خفیہ کارندے ہیں کہ وہ کئی سال تک تحریک طالبان پاکستان کے بغیر بھی پاکستان کے خلاف گوریلا جنگ جاری رکھ سکتے ہیں، تب پہلی بار جماعت الاحرار کا نام عام ہوا۔ پھر مذاکرات تو نہ ہوئے لیکن قرائن سے ظاہر ہے کہ جماعت الاحرار اور تحریک طالبان میں تعلقات بہتر ہو گئے اور جماعت الاحرار تحریک طالبان ہی کا ایک حصہ بن گئی۔ پاکستانی طالبان کے ایک گروپ جماعت الاحرار کا یہ تعارف چند سال سے پاکستان کے اخبارات میں شائع ہونے والے مواد سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس جماعت کے اہم لیڈر جو تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان بھی کئی سال رہے اور اب گرفتارہو کر پاک فوج کی تحویل میں ہیں لیاقت عرف احسان اللہ احسان کا اعترافی بیان قارئین ٹی وی سکرینوں پر دیکھ چکے ہیں۔ 

متذکرہ بالا مراسلے میں جماعت الاحرار نے یہ بھی لکھا تھا کہ پاکستان کے شہروں میں ان کے عناصر پڑھے لکھے نوجوان ہیں۔ اس پر یقین نہ کرنا عقل مندی نہیں ہو گی۔ممکن ہے یہ بات خوف و ہراس پھیلانے کی غرض سے پھیلائی گئی ہو آپریشن ضرب عضب شروع ہونے سے پہلے تحریک طالبان پاکستان کا مشاہدہ کرنے والے اور اس پر نظر رکھنے والے تجربہ کار صحافیوں کے اندازوں کے مطابق ان کے عناصر کی تعداد ازبک جنگجوؤں سمیت چالیس سے ساٹھ ہزار تھی۔ جب آپریشن ضرب عضب شروع ہوا تو ان میں سے بیشتر فرار ہو کر افغانستان میں پناہ گزین ہوئے۔ جب فاٹاکا علاقہ ان سے خالی کرایا گیا تو وہاں سے اتنا گولہ بارود برآمد ہوا کہ چالیس سال تک اس سے تخریب کاری جاری رکھی جا سکتی تھی۔ اتنا اسلحہ برآمد ہوا کہ پوری فوج کے کام آ سکتا تھا حالانکہ فرار ہونے والے بھی اسلحہ ساتھ لے گئے تھے۔ گولیاں ' دستی بم' راکٹ اور یہ سب کچھ اربوں روپے مالیت کا تو ہو گا ۔ اور اس میں سے روزانہ خرچ بھی ہوتا ہو گا۔ ساٹھ ہزار نفوس کی کفالت پر بھی کروڑوں روپیہ روزانہ تو کم ازکم خرچ آتا ہوگا ۔ یہ اربوں کھربوں روپے کا خرچ کیا صرف اس پانچ دس روپے کے چندے سے آ جاتا ہے جو جمع کیا جاتا ہے۔ ان بے چارے پرخلوص دلوں والے نوجوانوں کو کیا پتہ کہ جنگ ان کے جذبے سے نہیں بلکہ سرمائے سے لڑی جا رہی ہے جو اپنے ارد گرد کے غیر اخلاقی ماحول کو بدلنے کے لیے اپنے جیسے لوگوں کو حسن کلام سے قائل کرنے کی بجائے اپنے ہم وطنوں کے قاتلوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ بلکہ ان طاقتوں کے کثیر سرمائے میں ان کے پاکستان دشمن مقاصد کے لیے لڑی جا رہی ہے۔
احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان سے یہ معلوم ہوجا تا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور اس کی جماعت الاحرار ایسی ذیلی تنظیموں کو پاکستان کی سرزمین پر حملے کرنے کے لیے فنڈز بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے ملتے ہیں۔ یہ سرکاری ایجنسیاں اپنی حکومتوں کے خفیہ فنڈز سے بے حساب رقوم حاصل کرتی ہیں ۔ ان ایجنسیوں کے سینکڑوں اہل کار تحریک طالبان کے عناصر کی سرپرستی کرتے تھے۔ تربیت' اسلحہ اور اہداف کی طرف رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیتے تھے۔ لیکن احسان اللہ احسان کا اعترافی بیان ناکافی ہے۔ اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ خود اسے کس نے زمانہ طالب علمی میں جنگجوؤں کی طرف مائل کیا۔ اس مائل کرنے والے کے ساتھی کون کون تھے جنہوں نے اس کی تائید کی۔ جنہوں نے احسان اللہ احسان کو ''نظریاتی تعلیم'' دی ۔ اس کے لیے جنگجوئی کی تربیت کا بندوبست کیا۔ اس کے لیے چھپنے کی جگہ فراہم کی اور اسے تحریک طالبان پاکستان کے ذیلی رہنماؤں تک پہنچایا۔یہ صرف احسان اللہ احسان کی کہانی نہیں ہزاروں میں سے ہر جنگجو کی کہانی ہے۔ ایسے کتنے بھرتی کرنے والے ہمارے مدارس اور محلوں میں موجود ہیں۔ انہیں کیسے پہچانا جا سکتا ہے۔ احسان اللہ احسان کی اپنے دورِ طالبانیت کے دوران کتنے ایسے عناصر سے ملاقات ہوئی جن کے نام بدل دیے گئے تھے اور جو جنگجوئی سے بیزار تھے؟ تحریک طالبان کی قیادت میں غیر ملکی سرمایہ کی تقسیم کس طرح ہوتی ہے؟ قائدین اور عام جنگجوؤں کا طرز زندگی کیسا ہے۔ عام جنگجوؤں کو کون سی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ احسان اللہ احسان کی کہانی ابھی پوری نہیں ہوئی۔ وہ ایک قیمتی گواہ ہے اسے محفوظ رکھنا چاہیے۔

اداریہ