بد زبانیوں کا موسم

بد زبانیوں کا موسم

پیپلز پارٹی کے مردان اور مالاکنڈ کے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری بولے۔ عمران خان نیازی ہے پٹھان نہیں۔ اس کا شجرہ ٹائیگر نیازی (ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے والے جنرل نیازی) سے ملتاہے''۔ تحریک انصاف کی طرف سے جواب آیا بچوں کو زبردستی بھٹو بنانے والا دوسروں پر انگلیاں اٹھاتا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کب پیچھے رہتی ہے خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں زرداری کے چہرے پر لٹیرا لکھا ہے۔ مریم اورنگزیب کہتی ہیں عمران کو شرم نہیں آتی۔ مریم نواز نے عمران کو جھوٹا قرار دیا۔ طلال چودھری فرماتے ہیں زرداری جیب تراش ہے۔ ن لیگ کا سرکاری موقف ہے گھٹیا حکمرانی کا ذمہ دار زرداری ہے۔ کچھ پھلجڑیاں اور بھی تھیں انہیں رہنے دیا۔ یہ ہے اس بد نصیب ملک کے لوگوں کی سیاسی قیادت۔پانامہ کیس کے ابتدائی فیصلے کے بعد ملک میں اترے بد زبانیوں کے موسم پر کیا عرض کروں۔ وائے ہو ان پر جو ان بونگیوں اور بازاری جملوں پر کود کود کر داد دیتے اور اپنے اپنے لیڈروں کا دفاع کرتے پھر رہے ہیں۔ اندازہ کیجئے پہلے درجے اور دوسرے تیسرے درجہ کے سیاسی رہنمائوں کے ظرف' تربیت' اخلاق حسنہ کا۔ کیا چوروں کے درمیان چوریوں کے دفاع کا مقابلہ جاری ہے؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ کھیت میں جس طرح کا بیج بویا جاتا ہے ویسی فصل اٹھانا پڑتی ہے۔ سیاست کے کھیت میں 1970ء کی دہائی سے بد زبانیاں' دشنام طرازیاں اور مغلظات بو کر اگر ہم یہ امید کرتے ہیں کہ زم زم میں دھلی فعلی اٹھائیں تو سورة فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ سابق صدر مملکت بھی سیاست کے بازاری پن کا شکار ہوگئے۔ پانچ سال تک وہ اس ملک کے منتخب صدر کی حیثیت سے ''قومی چہرہ'' رہے۔ کیا بلندی اور کیا پستی۔ ان کالموں میں تحریک انصاف کے سوشل میڈیا مجاہدین کی بد زبانیوں پر گرفت کرتا رہتا ہوں۔ مخالفین کو اوے توئے کرکے پکارنے کی حوصلہ افزائی کبھی نہیں کی۔ میدان سیاست میں بد زبانیوں کو کس نے رواج دیا اب اس پر بحث فضول ہے سب سادھو تھے۔ سنت اور مہاگرج مہاراج' خود سیاسی جماعتوں کے نام پر کام کرتی اینڈ سنز کمپنیوں میں اب کارکن کتنے بچے ہیں۔ تحریک انصاف والوں کی گو شمالی ہم سب کرتے ہیں کبھی دینداروں کے سوشل میڈیا اکائونٹس پر تفریح کیجئے۔ سترہ طبق روشن ہوجائیں گے۔ کونسی گالی ہے جو دیندار اپنے مخالفوں کو نہیں دیتے۔ فتوئوں کو گولی مارئیے کوثر و تسنیم میں دھلی زبان ایک سے بڑھ کر ایک۔لنکا میں سب باون گزے ہیں۔ پونے باون کا کوئی نہیں۔ لیکن یہ ہو کیا رہا ہے؟۔سیاست' ارے معاف کیجئے گا کاروباری مندے میں دوسرے کے مال اور شجرے ایسے ہی پھرولے جاتے ہیں۔ پتہ نہیں میں دکھی کیوں ہوتا ہوں۔ شاید اس لئے کہ گنتی کے ان چند صحافیوں میں سے ہوں جنہوں نے آزادی اظہار' جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی کے لئے قید و بند کے عذاب جھیلے۔ یقین کیجئے پچھلے چند دنوں سے میں آئینے میں اپنی شکل دیکھنے سے گھبراتا ہوں مبادا خود سے یہ ہی پوچھ لوں کہ ''ہور سنائو ہن خوش او'' اس کا ترجمہ چھوڑیں تفسیر پڑھ لیں۔'' اب خوش ہونا یہی وہ آزادی اظہار' جمہوریت' عوام کے حق حکمرانی کے خواب کاشت کئے تھے تم نے؟'' میرے دوست کہتے ہیں ڈھلتی عمر کے ساتھ کچھ جذباتی ہوتا جا رہا ہوں۔ خدا لگتی یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ تاریخ و سیاست اور صحافت کے اس طالب علم کو دکھ ہوتا ہے جب چار اور بونے دندناتے دیکھتا ہوں۔ بٹوارے (تقسیم ہند) کے بعد ہم ستر برس کا سفر طے کر آئے۔ سلیقہ کچھ بھی نہیں۔ بانجھ معاشرے میں زندگی بسر کرنا کسی عذاب سے کم نہیں۔ کبھی گہرے دکھ کے ساتھ نیلے آسمان کی طرف دیکھتا ہوں۔ پھر عرض گزار ہوتا ہوں' مالک یہ ہم کس جنجال میں پھنس گئے ہیں؟ چند ساعتوں بعد فقیر راحموں کہتے ہیں شاہ جی اوپر والے سے کیا پوچھتے ہو چار اور کے لوگوں سے سوال کرو۔ خاموشی سے سر جھکا لیتا ہوں۔ اور کیا کروں۔ فریاد کس سے کریں۔ چند لمحے قبل جی چاہا کہ سفر حیات کے کسی ماہ و سال کے اوراق الٹ کر آپ کو بیتے دنوں کی کوئی بات سنائوں کسی دانا کی۔ لیکن ارادہ ملتوی کردیا۔ آپ بھی تو ان بدکلامیوں پر تالیاں پیٹنے والوں میں شامل ہیں۔ (اگر نہیں ہیں تو معذرت خواہ ہوں) چند سنجیدہ موضوعات بھی تھے لکھنے کے لئے مگر چند دنوں سے جو بد زبانیاں سماعتوں پر دستک دے رہی ہیں ان سے دل گرفتہ ہوں۔ یہ دل گرفتگی اور بڑھ جاتی ہے جب کوئی نئی بد زبانی سنائی دیتی ہے۔ کیا میں عرض کروں سیاسی جماعتوں کے نام پر اینڈ سنز کمپنیاں چلاتے مالکان سے جو خود کو ہمارا رہنما اور حق اقتدار کو خاندانی ترکہ سمجھتے ہیں۔ خدا کے بندو کیوں بولنے سے پہلے سوچتے نہیں ہو۔ واقعی تمہیں شرف انسانی' اقدار اور سماجی روایات سے نفرت ہے یا سیاسی کاروبار کے بڑھاوے کے لئے اس طرح کی عامیانہ گفتگو کو لازمی سمجھتے ہو؟ سوال کچھ اور بھی ہیں مگر کرنے کا فائدہ۔ حرف آخر یہ ہے کہ خدا کے لئے ہماری نئی نسل پر رحم کیجئے۔ سماجی اقدار اور جمہوری روایات پر ترس کھائیے۔ بند کیجئے ان زبان درازئیوں کو اس سے آپ تباہی و بربادی توبو سکتے ہیں تعمیر کچھ نہیں کر پائیں گے۔ یہاں تک پہنچا تو اردو کے دلنواز شاعر عبدالحمید عدم یاد آگئے کہا تھا

عشق کی چوٹ تو سبھی پے پڑتی ہے یکساں
ظرف کے فرق سے آواز بدل جاتی ہے
زمین زادو تمہاری قسمت یہی لیڈر تمہیں پسند ہیں تو پھر بھگتو۔

اداریہ