Daily Mashriq


خان یقین نہیںآتا

خان یقین نہیںآتا

مسلما نو ں کے زوال کا اصل سبب فکر وشعو ر ، علم وفہم سے دوری ہے ، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیا ست دنیا کی عجیب طر ز کی حامل ہے بلکہ صحیح کہنا یہ ہوگا کہ بہت ہی بد بو دار ہے جہا ں سیا سی جما عتیں عوام کو اپنے منشور سے آگاہی وفکر سے ہم آہنگ کر نے کی بجا ئے شخصیات کو لیچر باتو ں کے ذریعے مسخ کر کے سیاسی دکان چمکا نے کی سعی کر تی ہیں ، یہ کیابات ہو ئی کہ عمر ان خان پٹھان ہیں یا نہیں ہیں یا اصلی پٹھان ہیں یا جعلی پٹھان ہیں۔ اے این پی کے اکا برین جن کے بارے میں یہ گما ن ہے کہ وہ ایک اصولی سیاست کے امین ہیں چاہے ان کے اصولو ں سے کوئی بھی اتفاق کرے یا نہ کر ے مگر اکثر اوقات وہ بھی سیا ست کی اعلیٰ روایا ت کی پٹری سے اتر جا تے ہیں ۔ قیا م پاکستان کے بعد سے یہ اکابرین پنجا ب کا جبھی ذکر ہوتا تو ان کے انداز تکلم پر تشنیع کا گما ن ہو تا۔ ابھی حال ہی میں عمر ان خان کی سیا سی مخالفت کے دوران اے این پی کے لیڈرو ں نے ان کو پنجابی ہونے کا طعنہ دیا اور ایسا کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔ اب خیر سے قومی رہنما جن کی جماعت کو پا کستان کی زنجیر کہا جا تا ہے آصف زرداری بھی لہکے اور ا نہو ں نے عمر ان خان کو جعلی پٹھان یا پختو ن قرا ر دیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ ایک طویل عرصہ کے بعد تحریک انصاف میدان سیا ست میں تیسری بڑی سیا سی قوت بن کر ابھری ہے اور اس نے بڑے سیا سی جمو د کو تو ڑا ہے ۔ سن ستر کے انتخابات تک اے این پی جو اس وقت این اے پی کے نا م سے مصروف سیاست تھی قومی جما عت کا کر دار ادا کر رہی تھی مگر بھٹو کے زوال کے بعد سے یہ جما عت علا قائی جماعت بن کر رہ گئی ہے اس کا قومی سیا ست میںکر دار ختم ہو کر رہ گیا ہے ۔ بہر حا ل جو ایسی دشنا م طر ازی کر رہے ہیں وہ قوم کو بتائیں کہ پا کستان میں نسلی امتیا ز کا سیا ست سے کیا علا قہ ۔ عمر ان خان پٹھا ن ہیںیا نہیں ہیں اس کی سیا ست سے کیا نسبت کہ سیاسی بیان بازی میں طعنہ زنی کی جا ئے کیا وہ پا کستانی نہیں ہیں پھر جہاں تک نسل کا تعلق ہے تو پٹھان واقعی ایک قوم وقبیلہ کی تعر یف کے زمر ے میں ہے مگر پنجا بی کسی قوم کے زمر ے میں نہیں کیو ں کہ انگریز نے صوبو ںکی تقسیم نسلی بنیا د پر نہیں کی تھی بلکہ انتظامی بنیا د پر کی تھی چنا نچہ پنجاب کسی قوم کا لیبل نہیں ہے یہ ایک انتظامی لیبل ہے ۔ جیسا کہ صوبہ پنجا ب میں آرائیں ، سید ، گکھڑ ، راجپو ت ،کھرل ، بلو چ قبائل جیسا کہ لغاری ، جتوئی ، مزاری وغیر ہ وغیر ہ آباد ہیں۔ اسی طرح صوبہ پختون خوا میں بھی مختلف نسلیں آبا د ہیں جہا ں تک نسل کا تعلق ہے تو اس میں شک نہیںکہ نیا زی پٹھا ن نسل ہے اور قابل احترام قبیلہ ہے۔ میا ں والی یا یو ں جا نیئے کہ دریا سندھ کے اس کنا رے پر جو صوبہ پختون خوا میں ہے خٹک قبیلہ آباد ہے تو پشتونو ں کا دوسرا قبیلہ نیا زی دریا سندھ کے پنجا ب والے کنا رے پرآبا د ہے۔ کناروںکی یہ تقسیم نسلی بنیا د پر نہیں ہے انتظامی ہے ۔ ضلع میا ں والی پہلے صوبہ پختو نخوا کا باقاعدہ ضلع تھا جس کو بعد ازاں پنجا ب کے ساتھ شامل کر دیا گیا۔ چاہیے تو یہ کہ اے این پی اور محمو د خان اچکزئی جو عظیم پختو ن خطے کے داعی ہیں وہ پنجا ب میں شامل پختو ن قوم کے علا قو ں کو صوبہ پختو ن خوا میں شامل کر نے کا مطالبہ کر یں۔ ان کو کیوں زبردستی پنجا بی بنا یا گیا ہے۔ یہ بھی تو پختونو ں کے ساتھ ناانصافی ہے کہ ایک قوم کو دریا سندھ کے کنا رو ںکی آڑ میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ بہر حال پا کستان میں دشنا م طر ازی ، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا نا م ہی سیا ست رکھ دیا گیا ہے۔ اس میںخود عمر ان خان کے اے پلس نمبر ہیں ، گزشتہ ساڑھے چار سال سے وہ صرف شریف برادران کے درپے نظر آرہے ہیں ، قومی اسمبلی میں ایک طا قت ور آواز ہو نے کے باوجود ان کی کا رکردگی صفر ہی رہی ہے۔ عمر ان خان جنہوں نے عوام کے دل کرپشن ولوٹ ما ر کو ختم کر نے کے خواب د کھاکر جیتے تھے مگر ان کی سیا ست کسی طورپر پر انے سیاست دانو ں سے ہٹ کر نظر نہیں آئی۔ انہو ں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کرپشن ختم کر یں گے اور قوم سے کوئی بات پو شید ہ نہیں رکھیں گے سب عوام کو بتا ئیں گے چاہے کتنے ہی تالوں کے اندر بات ہو ، مگر انہو ں نے آج تک قوم سے کیے گئے اس وعدہ کو سچا نہیں کیا۔ دھر نا میں امپا ئر کا ذکر کر تے رہے مگر آج تک قوم بے خبرہے کہ پشت پر کو ن امپائرنگ کر رہا تھا۔پا نا ما کیس میں بھی وہ ثبو ت فراہم کر نے میں ناکا م رہے اور وہا ں بھی وہ یہ کہتے ہیں کہ انہو ں نے الزام لگا نا تھا سو لگا دیا اب عدالت جن پر الزام لگا ہے ثبو ت ما نگے ، یہ کیسی سیاست ہے ، اب ایک نیا سنگین الزام لگایا ہے کہ پاناما کیس سے دستبرداری کے عوض ان کو دس ارب روپے کی پیش کش ہوئی تھی ، جن پر الزام لگایا گیا وہ بھی آصف زرداری بھی اور قوم بھی ثبو ت ما نگ رہی ہے کہ چہر ے بے نقاب ہوں اور یہ ذمہ داری ہے کہ ایسے قبیح چہر و ں کو بے نقاب کیا جا ئے ۔مگر کہتے ہیں کہ آفر دینے والا شہباز شریف اور حمزہ کا قریبی ہے ۔ تو خان صاحب کو معلو م ہو نا چاہیے کہ وہ عمر ان خان کے قریب تو نہیںان کر پٹ لو گو ں کے قریب ہے اور جر م میں معاونت کر نے والا بھی اتنا بڑا مجر م ہو تا ہے جتنا بڑا مجرم جر م کر نے والا ہو تا ہے۔ وہ پھر ایک مجر م کو کیوںبچا رہے ہیں یہ کیسے شفافیت ہے جہا ں تک وہ کہتے ہیںکہ عدالتی فیصلہ کے مطابق نو از شریف صادق وامین نہیں رہے ، خود ان پر بھی تو صادق وامین نہ ہو نے کی تلوا رلٹک رہی ہے ، قوم سے سچ بولنے کا وعدہ کر کے اب تک انہو ں نے جتنے بھی الزاما ت لگائے یا دعوے کیے اس میںانہو ں نے وعدہ خلا فی کی۔ تازہ ترین وعدہ خلا فی دس ارب کی پیشکش کرنے والے کا نا م پو شیدہ رکھ کر مر تکب ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن میں ان پر پا رٹی کے ایک سابق عہد ید ار ایس اکبر احمد کی جانب سے پارٹی فنڈ کا غلط استعمال اور خردبرد کے الزام میں نااہلی کی تلو ار لٹک رہی ہے جہا ں وہ پیش ہو نے کی بجا ئے فرار کی راہ اختیا ر کیے ہوئے ہیں۔کیو ں کہ ان کے وکلاء تاریخ پر تاریخ لے کر وقت کا خون کر رہے ہیں ، چاہیے کہ صادق وامین ہو کر قوم کے سامنے سرخرو ہو ں اور مقدمہ کا سامنا کر یں تاکہ قوم کو یقین ہو کہ وہ وعدے کے پکے ہی نہیں بلکہ صادق وامین ہیں ، ایسے سیا سی حالا ت کو دیکھ کر یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ پا کستان میں کچھ بدلا جا ئے یا نہ بدلا جائے مگر سیا ست کے رنگ ڈھنگ بدلنا ہو ں گے ۔

متعلقہ خبریں