کتاب دوستی

کتاب دوستی

کل ایک طالب علم کا برقی پیغام موصول ہوا کہ جناب میں اس وقت اسلام آباد میں لگائے گئے کتب میلے میں بنفس نفیس موجودہوں اگر آپ کو کوئی کتاب چاہیے تو میں ساتھ لیتا آئوں گا۔ بڑی خوشگوار حیرت ہوئی کہ ہمارے طلبہ میں کتاب دوستی کا جذبہ پایا جاتا ہے یہ جو ہر وقت رونا رویا جاتا ہے کہ کمپیوٹر اور سیل فون نے طلبہ کو کتاب سے دور کردیا ہے تو یہ بھی آدھا سچ ہے کتاب اب بھی پڑھی جاتی ہے سائنس کی ترقی سے نت نئی چیزیں سامنے آرہی ہیں جن کا صحیح استعمال بہت بڑے فائدے کا سبب ہے اگر استعمال صحیح نہ ہو تو پھر گھاٹے کا سودا ہے۔ تبدیلی وقت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے آج کے دور کا انسان بہت زیادہ مصروف ہوگیا ہے یہ سب کچھ ہوتا رہے گا لیکن کتاب کی اہمیت بدستور اپنی جگہ قائم دائم رہے گی۔ چھاپے خانے کی ایجاد انسانی تاریخ کا ایک حیران کن کارنامہ ہے آج بھی شیلف میں پڑی ہوئی کتاب کی خوبصورتی پر جان جاتی ہے کتاب کو گود میں رکھ کر پڑھنا اس کے صفحات الٹنا ایک ایسی عیاشی ہے جو صاحب ذوق ہی جانتے ہیں ایک اچھی کتاب کی رفاقت میں گزرنے والا وقت انسان کو بہت کچھ سکھا دیتا ہے جب ہمیں کسی کتاب دوست شخص سے ملاقات کا شرف حاصل ہوتا ہے تو ہم جذباتی ہوجاتے ہیں سوالات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔بہت کچھ سیکھنے کو جی چاہتا ہے ہم اکثر کتاب کو صحیح طریقے سے پڑھنے کے طریقے پوچھتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ تو اسے مذاق سمجھتے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ ہمارے اندر کا بچہ کچھ جاننے کچھ سیکھنے کے لیے ہمیشہ بے چین رہتا ہے ۔کتاب یقینا ایک بہترین دوست ہے کتاب کی مثال جسم میں روح جیسی ہے اگر روح موجود نہ ہو تو جسم مردہ ہوجاتا ہے اسی طرح جس گھر میں کتابیں نہیں ہیں وہ ایک ایسے جسم کی مانند ہے جو بے روح ہے۔ لکھنا پڑھنا ایک بہترین مشغلہ ہے کتاب پڑھنے کی چاٹ بچپن سے پڑ جائے تو کیا کہنے! بچپن ہی وہ زمانہ ہوتا ہے جب شخصیت آہستہ آہستہ پروان چڑھتی ہے اگر بنیاد اچھی ہو تو عمارت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتی ہے اور اگر پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو پھر اس کی بنیادوں پر اٹھنے والی دیوار ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہتی ہے ہمارے پڑوس میں دو پڑھے لکھے خاندان آباد تھے بیویاں ٹیچر اور شوہر سرکاری ملازم ان کے بچے بھی اچھے سکولوں میں پڑھتے اور گھر میں کتابوں ، اخبارات اور رسالوں کی بھرمار! تعلیم و تربیت، نونہال اور بچوں کی دنیا سے ہمارا تعارف وہیں ہوا ،ٹکٹ جمع کرنے کا شوق بھی اسی زمانے کی یادگار ہے پھر ٹکٹ وقت کے تھپیڑوں میں کہیں بہت پیچھے رہ گئے لیکن کتاب سے ساتھ نہیں چھوٹا ۔ تعلیم و تربیت اور بچوں کی دنیا سے شروع ہونے والا سفر آگے ہی آگے بڑھتا رہا پھر کتب بینی کا ایسا چسکہ پڑا کہ جو کچھ ہاتھ لگا پڑھ ڈالا کہانیوں کی کتابیں، ابن صفی کی عمران سیریز، کرنل فریدی اور کیپٹن حمید سیریز، بات آگے بڑھی تو ڈائجسٹوں تک رسائی ہوئی، جاسوسی ڈائجسٹ، سسپنس ڈائجسٹ کے بعد جب سب رنگ ڈائجسٹ سے دوستی ہوئی تو پھر اسی کے ہو کر رہ گئے شکیل عادل زادہ معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے شروع شروع میں تو سب رنگ باقاعدگی سے شائع ہوتا رہاپھر آہستہ آہستہ وقفے طویل ہوتے چلے گئے ہم بھی برس دو برس انتظار کرتے اور جب سب رنگ بک سٹال کی زینت بنتا تو اسی وقت خرید کر تبرک کے طور پر پڑھتے مطالعے کی افادیت و اہمیت سے کون انکار کرسکتا ہے یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر آج کا نوجوان اپنی منزل پاسکتا ہے آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم سب شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہیں جبکہ مطالعے کا عمل وقت، یکسوئی اور مستقل مزاجی مانگتا ہے ہمارے درمیان اب بھی ایسے لوگ موجود ہیںجنہوں نے روزانہ چند صفحات کا پڑھنا اپنے اوپر فرض کیا ہوا ہے حالات جیسے بھی ہوں مصروفیت کی کوئی بھی صورت ہو وہ اپنے مطالعے کا ناغہ نہیں کرتے ۔یہی وہ عادت ہے جو آہستہ آہستہ شخصیت کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ کسی بھی قسم کا کوئی انٹرویو ہو یا مقابلے کا امتحان صاحب مطالعہ با آسانی پاس کرجاتا ہے۔ ہماری زنبیل میں آج کے نوجوان کے لیے سب سے اچھا مشورہ یہی ہے کہ مطالعہ مطالعہ اور بس مطالعہ !وہ نوجوان جو مطالعے کے ساتھ ساتھ صاحب علم لوگوں کی صحبت بھی اختیار کرتے ہیںان کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ وہ یہ بات جان لیتے ہیں کہ کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا اور یہی وہ گر ہے جو پڑھے لکھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر سیکھا جاسکتا ہے ۔

اداریہ