قائداعظم کا ایک نیا شوفر

قائداعظم کا ایک نیا شوفر

ادب میں نصف صدی سے بھٹکنے کے باوجود واللہ ہمیں بالکل معلوم نہ تھا کہ اردو کے بہت بڑے افسانہ نگار سعادت حسن منٹو قائداعظم کے شوفر بھی رہے تھے۔ یہ انکشاف ہم پر ایک اخباری کالم سے ہوا۔ اب آگے چلتے ہیں ۔ ہم عامل صحافی نہیں اور ہماری ادبی معلومات بھی ناقص ہیں اس لئے ہم منٹو کے بارے میں اس نئے انکشاف پر گرفت بھی نہیں کرسکتے۔ ہاں البتہ اس کی تصدیق کے لئے ایک بار پھر منٹو پر لکھی گئی کتابوں سے رجوع ضرور کرسکتے ہیں۔ جب کسی بڑے لکھاری کے قلم سے جب وہ ہر فن مولا بھی ہو کوئی ایسا نکتہ سامنے آئے جن پر ڈس انفارمیشن کا شائبہ ہونے لگے تو پہلے اپنی کھوپڑی کو جھٹک کر سوچتے ہیں کہ اس معاملے میں اب تک ہم غلطی پر تو نہ تھے۔ پڑھے لکھے لوگوں سے رجوع کرتے ہیں اور کوشش ہوتی ہے کہ اپنی معلومات کو اپٹوڈیٹ کیا جائے۔منٹو کی زندگی کا یہ نیا پہلو'' تمام خچر ''کے عنوان سے کالم میں پورے وثوق کے ساتھ سامنے لایا گیا ہے۔ یہ کالم سیاست کے میدان میں قحط الرجال کے موضوع پر تھا۔ ہم نے تحریر بڑی دلچسپی سے پڑھی۔ ایک جگہ پر جب متذکرہ انکشاف نظر سے گزرا تو بڑی حیرت ہوئی ۔ سوچ رہے ہیںکہ بات کہاں سے شروع کی جائے۔ پہلے اس نکتہ خاص کا پس منظر بیان کرنے کی اجازت دیجئے۔ اس وقت ہمارے ہاتھ میں سعادت حسن منٹو کی کتاب گنجے فرشتے کا ایک نسخہ ہے۔ 309صفحات پر پھیلی یہ کتاب 13خاکوں پر مشتمل ہے۔ کتاب میں منٹو کے سحر طراز قلم کی جو لانیاں عروج پر نظر آتی ہیں۔ پہلا خاکہ ماضی کے ایک فلمی اداکار محمد حنیف آزاد کی روایت پر مبنی قائد اعظم محمد علی جناح کے شب و روز کی دلچسپ روداد ہے جو منٹو کے زور قلم کا نتیجہ ہے۔ آزاد کچھ عرصہ تک قائد اعظم کا ملازم رہا۔ یہ ملازمت اس نے کیسے حاصل کی یہ الگ سے ایک دلچسپ واقعہ ہے۔'' میرا صاحب'' میں، قائد اعظم کی گھر میں مصروفیات' ان کی عادات و اطوار اور گھریلو ملازموں سے ان کے سلوک کے واقعات موثر انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔ آزاد کی روداد بیانی کا جو بھی انداز تھا مگر منٹو نے یہ واقعات بیان کرنے میں اپنی تمام فنی مہارت کا بھرپور استعمال کیا ہے جو ان کی دیگر تحریروں کا خاصہ ہے اور یہ تحریریںآج بھی بڑی مقبول ہیں۔ خاکے کی ابتداء کچھ اس انداز سے کی گئی ہے جس سے گمان ہوتا ہے کہ منٹو یہ اپنی داستان بیان کر رہے ہیں۔ منٹو کی اپنی تحریروں میں تجسس پیدا کرنے کا ایک مخصوص سٹائل تھا اس تکنیک کو انہوں نے یہاں بھی استعمال کیا ہے۔ میرا صاحب کا آغاز کچھ اس طرح ہوتا ہے۔ یہ سن سینتیس کا ذکر ہے مسلم لیگ روبہ شباب تھی میں خود بھی شباب کے ابتدائی مرحلوں میں تھا جب خواہ مخواہ کچھ کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ صحت مند تھا' طاقتور تھا اور جی میں ہر قت یہ خواہش تڑپتی تھی کہ سامنے جو قوت آئے اس سے بھڑ جائوں۔ اگر کوئی قوت سامنے نہ آئے تو اسے خود پیدا کروں اور مد مقابل بنا کر اس سے گتھ جائوں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب آدمی ہر وقت کچھ کرنے کے لئے بے تاب رہتا ہے۔ کچھ کرنے سے میرا مطلب ہے کوئی بڑا کام' کوئی بہت بڑا کارنامہ' سر انجام نہ ہو تو سرزد ہو جائے۔ مگر کچھ ہو ضرور۔ اس کے بعد آزاد اپنی بے روز گاری'آزادی کی تحریک سے دلچسپی کے علاوہ وہ واقعات بیان کرتے ہیں جب وہ قائد اعظم کی جانب سے ایک اخبار میں ڈرائیور کی ضرورت کے لئے اشتہار پڑھ کر ان کی رہائش گاہ پر گیا جو بمبئی کے مونٹ پلیزنٹ روڈ مالا باز میں تھی۔ چھ سات دوسرے امیدوار بھی وہاں آئے تھے لیکن میں مضبوط تن و توش اور اچھی صحت کی وجہ سے رکھ لیا گیا۔ یہ خاکہ اسی طرح کتاب کے صفحہ 15 تک واحد متکلم کے صیغے میں تحریر ہے جس سے قاری کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ یہ منٹو اپنی روداد بیان کر رہے ہیں۔ اسی صفحے پر پہلی بار آزاد کا نام سامنے آتا ہے۔ وہ کہتا ہے موٹر میں آزاد کو صرف اپنی اکیلی جان نہیں لے جانا تھی۔ اگلے صفحے پر صورتحال اس وقت مزید واضح ہوتی ہے جب آزاد کہتا ہے کہ مجھے پورے چھ ماہ تک قائد اعظم کو یہ بتانے کا موقع نہ ملا کہ میں ڈرائیونگ کی معمولی شدھ بدھ رکھتا ہوں۔اس کے مطابق کوٹھی پر دو ڈرائیور اور بھی موجود تھے۔ 31صفحات کی یہ بھرپور' دلچسپ اور معلوماتی تحریر ان الفاظ پر ختم ہوتی ہے۔ میں نے سنا ہے درست ہے یا غلط' جب ان کا جہاز کراچی ایروڈروم پر اترا تو گورنمنٹ ہائوس سے جو ایمبولینس آئی تھی اس کا انجن درست حالت میں نہ تھا ۔ وہ کچھ دور چل کر رک گئی۔ اس وقت میرے صاحب کو کتنی کوفت ہوئی ہوگی۔ آزاد کی موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو تھے۔ تحریر کا اب وہ حصہ ملا حظہ کیجئے جس میں فاضل کالم نگار نے ہمیں منٹو کے بارے میں یہ معلومات فراہم کی ہیں۔ سعادت حسن منٹو نے بھی کچھ دن قائداعظم کے ساتھ گزارے۔ ڈرائیور بن کر۔ صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا مزید لکھتے ہیں ڈرائیونگ منٹو برائے نام جانتے تھے یہ ان کے اندر کا افسانہ نگار تھا جس نے اسے اس جسارت پر آمادہ کیا۔ نئے ڈرائیور کو آزمانے کے لئے ایک روز اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ مختصر سفر کے بعد محترمہ فاطمہ جناح جس میں شریک تھیں نالائق کوچبان کو انہوں نے گھر واپس بھیج دیا۔ اس سے آگے مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں رہتی صرف اس قدر عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہم توٹھہرے جزوی قسم کے لکھنے والے' مقتدر قلم کاروں کو کسی موضوع پر لکھنے سے پہلے مستند معلومات کو بنیاد بنانا چاہئے۔ مبادا ان کی تحریر ڈس انفارمیشن کی وجہ نہ بن جائے کہ سب لوگ خچر نہیں ہوتے۔

اداریہ