Daily Mashriq


سیاسی معاملات عدالتوں میں لے جانے سے حل نہیں ہوتے

سیاسی معاملات عدالتوں میں لے جانے سے حل نہیں ہوتے

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق خواجہ آصف 2013ء میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 110پر ہونے والے انتخابات کے لیے اہل نہیںتھے کیونکہ وہ آئین کے آرٹیکل (62ون) (ایف)کے تحت مقرر کردہ شرائط پر پورا نہیں اترتے، اسی لیے انہیں نااہل قرار دیا گیا۔خواجہ آصف کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا جبکہ اس سلسلے میں قانونی ماہرین سے مشاورت بھی شروع کردی گئی۔مقدمے کی کارروائی میں ریمارکس دیتے ہوئے عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ سیاستدان اپنے باہمی تنازعات خود حل کریں کیوںکہ اس طرح کے مقدمات سے عدالت کا تشخص متنازع ہورہا ہے۔مقدمے کی کارروائی نمٹاتے ہوئے عدالت نے کہا کہ جب سیاسی قوتیں اپنے معاملات پارلیمنٹ میں حل کرنے کے بجائے عدالت میں لائیں گی تو اس سے نہ صرف ادارے بلکہ عوام بھی متاثر ہوں گے، اس سے ایک جانب عدلیہ پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا تو دوسری جانب عدلیہ سیاسی مخالفت کے معاملات کے باعث متنازع ہو جائے گی۔فیصلے میں کہا گیا سیاستدانوں کو اپنی شکایات کے حل کے لیے سیاسی فورمز سے رابطہ کرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ عدلیہ کا قیمتی وقت اس قسم کے مقدمات میں ضائع کر کے انصاف کے منتظر عوام کو مزید انتظار کرایا جائے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پارلیمنٹ جو وفاق کے اتحاد اور عوام کی امنگوں کی علامت ہے، کو اہمیت دی جانی چاہیے، پارلیمنٹ کا وقار اور عوام کا اس پر اعتماد ان نمائندوں پر منحصر ہیں جنہیں یہاں پاکستان کے اصل مالک یعنی عوام منتخب کر کے بھیجتے ہیں۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بہتر ہوتا کہ اگر درخواست گزار کی پارٹی معاملے کو عدالت میں لانے سے قبل پارلیمنٹ میں اٹھاتی۔عدالت کی جانب سے فیصلے میں خواجہ آصف کی نااہلی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے ان کو منتخب کرنے والے 3 لاکھ 42 ہزار 1 سو25 ووٹرز کی خواہشات کو ٹھیس پہنچی۔سابق وزیر خارجہ اور ممبر قومی اسمبلی خواجہ آصف کی نا اہلی کے فیصلے پر عملدرآمد ہو چکا ہے اور جملہ اداروں نے اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرلی ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کے لئے قانونی حق کے استعمال کے باوجود بھی فیصلے میں کوئی تبدیلی متوقع نہیں اس لئے کہ عدالت عظمیٰ میں قبل ازیں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اسی نوعیت کے مقدمے کے فیصلے کی نظیر موجود ہے۔ سیاستدانوں کے خلاف اس قسم کے فیصلے سے قانونی طور پر وہ متاثر ضرور ہوتے ہیں اور ان کو نشست اور عہدے سے الگ ہونا پڑتا ہے لیکن اس سے ان کی سیاست پر زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ خواجہ آصف مسلم لیگ(ن) کے ہر بار جیتنے والے امیدوار رہے ہیں اس فیصلے سے وہ ضرور تا حیات نا اہل ہوگئے ہیں لیکن اس فیصلے سے ان کے حلقے کے عوام کو شاید ہی کوئی غرض ہو۔ ان کا ووٹ بنک کم ہی متاثر ہوگا۔ دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کے ایک اور مضبوط رہنما کی نا اہلی سیاسی طور پر نئی تحریک کا باعث ثابت ہونا فطری امر ہوگا۔ قطع نظر سیاسی اثرات کے عدالت کے اس فیصلے کے موقع پر ریمارکس قابل غور اور باعث توجہ ہیں۔یقینا سیاسی معاملات کا حل پارلیمان ہی میں ہونا چاہئے اور عدالتوں میں اس طرح کے معاملات لانا نہیں چاہئے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ خود سیاستدن ہی اولاً عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں اور فیصلہ آنے کے بعد ایک جانب سے نہیں تو دوسری جانب سے واویلا مچتا ہے جس سے عدالتوں کے حوالے سے بھی ایسے خیالات کے اظہار کا موقع ملتا ہے جو مناسب نہیں ہوتا۔ اگر ان معاملات کا عدالت نوٹس لے کر توہین عدالت کانوٹس جاری کرے تو مزید پنڈورا باکس کھلتے ہیں اور عدالت کی طرف سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر اس کے وقار کا سوال اٹھتا ہے۔ پانامہ کیس کو بھی پارلیمان میں کمیٹی بنا کر حل کرنے کی احسن تجویز دی گئی تھی۔ حزب اختلاف نے بھی اس کا مطالبہ کیا تھا جسے خود حکومت نے تسلیم نہیں کیا اور معاملات عدالت میں چلے گئے جس کے اثرات اب بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ اگر اس معاملے کو اس وقت ہی عدالت نہ لایا جاتا اور پارلیمان میں طے کرلیا جاتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ سیاستدان اسی صورتحال سے اگر اب بھی سبق سیکھیں اور اپنے معاملات کا وہ خود حل تلاش کرکے عدالتوں کو کم سے کم زحمت دیاکریں تو اس سے عدالتوں کے وقار کا بھی سوال نہیں اٹھے گا اور ان کو عوام کے مقدمات سننے کا موقع ملے گا۔ ہمارے تئیں ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کے لئے جہاں سیاسی نمائندوں کو کاغذات نامزدگی میں احتیاط اور قانونی تقاضوں کو مد نظر رکھنا چاہئے وہاں الیکشن کمیشن اور متعلقہ فورمز کو ابتداً ہی اس طرح کے معاملات کی چھان بین اور فیصلے کی ذمہ داری نبھانی چاہئے تاکہ لاکھوں عوام کے مینڈیٹ کی توہین کے مزید مواقع پیش نہ آئیں اور سیاسی طور پر بھی محاذ آرائی اور تضادات کی نوبت کا امکان کم سے کم رہے۔

متعلقہ خبریں