Daily Mashriq


پاک افغان سرحد پر کشیدگی سے گریز کی ضرورت

پاک افغان سرحد پر کشیدگی سے گریز کی ضرورت

مہمند ایجنسی میں سرحد پار سے دہشت گردوں نے پاکستانی چیک پوسٹ پرفائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک سپاہی شہید ہوگیا۔ پاک فوج کے جوانوں کی موثرجوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔سرحد پار سے دہشت گردوں کے حملوں اور خود افغان فوج کی طرف سے سرحدی خلاف ورزی کے واقعات کے بعد پاکستان کے پاس ان کا موثر اور مسکت جواب دینے کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا۔ پاک فوج کی طرف سے تحمل و برداشت کی پالیسی ایک حد تک تو برد باری کا تقاضا ضرور ہے لیکن جہاں روز کے واقعات میں پاک فوج کے جوانوں کو نشانہ بنایا جانے لگے تو پھر جوابی کارروائی سے گریز ممکن نہیں۔ سرحدی علاقوں میں پے در پے کشیدگی کے واقعات کے پس پردہ اور کچھ فوری وجہ سرحد پر باڑ لگانے کا عمل بھی گردانا جاتا ہے جو روز اول سے افغان حکومت کو گراں گزرتا آیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت جس نئی قسم کی لہر چل نکلی ہے اس کے پس پردہ دیگر واقعات کے علاوہ ’’لر اور‘‘بر‘‘ کے فلسفے کو ختم کرکے ایک واضح سرحدی انتظام کی سعی بھی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے ایک سنگین واقعے کے بعد پاک افغان سرحدی حکام کے درمیان ملاقات اور مذاکرات کے بعد اس امر کی توقع کی جا رہی تھی کہ اس طرح کی صورتحال کا تدارک ہوا ہوگا۔ تازہ واقعہ سے اس کی نفی ہوتی ہے۔ حالانکہ پاکستان اور افغانستان سیکورٹی حکام کی گزشتہ دنوں طورخم کی سرحدی گزر گاہ پر ملاقات میں بارڈر مینجمنٹ پالیسی اور دونوں جانب خاردار باڑ سے متعلق تبادلہ خیال کشیدگی میں کمی لانے کا باعث ہونا چاہئے تھا لیکن بد قسمتی سے وہ سارا عمل اس تازہ حملے سے بے سود ثابت ہوا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان حکام کو پاکستانی حدود میں لگائی گئی باڑ کی مرمت اور دیکھ بھال کے حوالے سے افغانستان کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ افغانستان اگر اپنی سرحدوں کو محفوظ نہیں کرنا چاہتا یا پھر حفاظتی اقدامات کے لئے اس کے پاس وسائل نہیں تو کم از کم وہ پاکستان کو اپنی سرحدوں پر باڑ لگانے میں رکاوٹ کا باعث نہ بنے۔ افغانستان کو دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی لکیر کو بین الاقوامی سرحد اور دونوں ملکوں کے درمیان حد بندی قبول کرنے اور اس کے احترام کی بجائے طاقت کے استعمال کی غلطی کا بار بار اعادہ کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔اس طرح کے حالات سے جس قدر گریز کیا جائے دونوں ممالک کے حق میں بہتر ہوگا۔

بے رخی بے سبب نہیں

خیبر پختونخوا اسمبلی کے آئینی مدت پوری کرنے سے قبل اب تک تحریک انصاف، مسلم لیگ(ن)، قومی وطن پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے مجموعی طور پر 15ارکان پارٹی وفاداریاں تبدیل کرتے ہوئے دیگر سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔صوبائی اسمبلی میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے وفاداریاں بدلنے والے اراکین کی مجموعی تعداد کے نصف یعنی سات ارکان نے جماعتی وابستگی کو خیر باد کہا۔ حالات و واقعات سے مزید کے بھی اس قسم کے فیصلوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایوان میں پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی ایسی جماعتیں ہیں جن کے ارکان اسمبلی پارٹی کیساتھ وفا نبھانے میں ثابت قدم رہے جو ان کی سیاسی سے زیادہ نظریاتی وابستگی اور جماعتی نظم کی دلیل ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی برسر اقتدار جماعت کے ممبران اسمبلی کی اس طرح سے ناراضگی اور اپنی حکومت سے اسمبلی میں کھل کر اختلاف کے جو واقعات خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش آئے ان پر بروقت توجہ نہ دینے اور ان کے تحفظات دور نہ کرنے کا جو نتیجہ سینیٹ کے انتخابات میں سامنے آیا وہ غیر متوقع نہیں تھا۔ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے ممبران اسمبلی کے برعکس حزب اختلاف کی صفوں میں حمایتی اراکین رکھنے کی جو غلطی کی گئی وہ سب سے زیادہ نقصان کا باعث ثابت ہوا جو جماعت شفاف قیادت کے دعوئوں کو باقی عہدیداروں کا قبلہ سیدھا رکھے جانے کی ضمانت سمجھتی رہی دم آخر اسی جماعت کے اراکین کے کھسکنے کے باعث اسی کو خجالت کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی غلطی سے سبق سیکھنے اور آئندہ اس طرح کی غلطی کے عدم اعادے کا بہتر طریقہ یہی ہوگا کہ ہر جماعت اپنے دیرینہ اور مخلص کارکنوں کو آنے والے انتخابات میں ترجیحی بنیادوں پر ٹکٹ جاری کرے اور کارکنوں کی رائے کو مقدم رکھا جائے۔ جیتنے والے گھوڑوں اور مرغان بادنما افراد کو اہمیت دینے سے گریز کیاجائے۔ جو لوگ ہوا کا رخ دیکھ کر بدلنے والے ہوں وہ کبھی قابل اعتماد ثابت نہیں ہوتے۔ اقدار کی سیاست مقصود ہو تو اس طرح کے مرغ بادنما عناصر کو کسی سیاسی جماعت میں جگہ ہی نہیں ملنی چاہئے کجا کہ ان کو ٹکٹ دے کر اپنے ہی دیرینہ اور مخلص کارکنوں کی دل شکنی کی جائے۔ جن سیاسی جماعتوں کے اراکین نے اپنی جماعتوں سے وفاداری کا مظاہرہ کیا ہے وہ داد کے مستحق ہیں۔ اگر وہ عوامی مسائل کے حل میں کامیاب نہ بھی ہوسکے ہوں تب بھی ان کی اصول پسندی اور وفاداری کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں