Daily Mashriq

مسلم لیگ ن کی بڑی وکٹ گر گئی

مسلم لیگ ن کی بڑی وکٹ گر گئی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملک کے وزیر خارجہ ، مسلم لیگ (ن) کے ممتاز رہنما اور نواز شریف کے قریب ترین ساتھی خواجہ آصف کو بھی قومی اسمبلی کی نشست سے نااہل قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران عدالتیں ملک کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سمیت چار اراکین پارلیمنٹ کو نااہل قرار دے چکی ہیں اور ان میں سے ایک کے سوا سارے فیصلے آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت کئے گئے ہیں۔ ان فیصلوں پر ملک کے عوام اور تاریخ کے فیصلے تو بعد میں آئیں گے لیکن فوری طور پر یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اس وقت ملک کے آئین میں منتخب ارکان اسمبلی کے اخلاق کو پرکھنے کے لئے جو معیار مقرر ہے، اس کے ہوتے اور عدالتوں کی طرف سے واضح قانونی حکمت عملی اختیار کئے جانے کے بعد یہ طے ہو گیا ہے کہ جب تک پارلیمنٹ ان متنازعہ آئینی شقوں کو ختم نہیں کرتی اور ’’صادق و امین‘‘ کے بارے میں سپریم کورٹ کی مخصوص سخت تشریح موجود ہے، ملک کی کسی بھی عدالت اور عدالتی بنچ کے پاس شکایت سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ رکن کو نااہل قرار دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔
مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اس فیصلہ کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہوئے اگرچہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو ہدف تنقید بنایا ہے لیکن درحقیقت سپریم کورٹ کی وضاحت اور پاناما کیس میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ اور پھر آئینی شق 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ میں اس نااہلی کو تاحیات قرار دینے کے بعد، کسی زیریں عدالت کے پاس کوئی دوسرا فیصلہ دینے کی گنجائش موجود نہیں تھی۔
پاناما کیس کی سماعت پاکستان تحریک انصاف کی پٹیشن پر شروع کی گئی تھی لیکن بعد میں عدالت نے از خود نوٹس کی شق184(3)کو بھی اس معاملہ میں معارف کروادیاتھا۔ اس بات کا فیصلہ آنے والا کوئی فیصلہ یا پارلیمنٹ کی طرف سے آئینی شقوں پر نظر ثانی اور ترمیم کے ذریعے ہی ہو سکے گا کہ یہ فیصلہ کس حد تک درست تھا اور سپریم کورٹ نے ملک کے وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کے لئے کسی مقدمہ میں انہیں قصور وار ٹھہرائے جانے سے پہلے ہی ، عہدے سے معزول کرنے کے لئے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کس حد تک صائب اقدام کیا تھا۔ لیکن جب تک یہ فیصلہ برقرار ہے،اس کے نفاذ کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے جو زبانیں آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر تند و تیز بیان جاری کرتے ہوئے اسے ’’فکسڈ میچ‘‘ قرار دینے پر اصرار کررہی ہیں، انہیں ہائی کورٹ کے دلائل اور اس تبصرہ پر بھی غور کرنا چاہئے کہ اگر سیاست دان پار لیمنٹ میں اس قسم کے امور طے نہیں کریں گے اور ان کے بارے میں عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا اور ان سے فیصلے مانگے جائیں گے تو عدالتیں قانون کے مطابق ہی فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں گی۔
خواجہ آصف نے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا عندیہ دیا ہے لیکن اس قانونی جنگ میں انہیں موجودہ سپریم کورٹ سے ریلیف ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس لئے گزشتہ برسوں کے دوران اہم ترین عہدوں پر فائز رہنے والا شخص فی الحال تاحیات نااہل تصور ہو گا کیوں کہ سپریم کورٹ طے کرچکی ہے کہ شق 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہے۔ ایسا شخص نہ صرف یہ کہ کسی اسمبلی کا رکن منتخب نہیں ہو سکتا بلکہ وہ کسی سیاسی جماعت کے عہدہ پر بھی فائز نہیں ہو سکتا۔ نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے علیحدہ کرنے کا حکم دے کر سپریم کورٹ نے شق 62 ون ایف کی سخت ترین توجیہہ کی ہے۔اس پہلو سے قطع نظر خواجہ آصف کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہم اور قابل غور ہے کہ عدالت کے خیال میں استغاثہ کا یہ دعویٰ ثابت ہو گیا ہے کہ خواجہ آصف نے جان بوجھ کر خلیجی ریاست کے اقامہ کا معاملہ خفیہ رکھا بلکہ انہوں نے جس کمپنی سے اقامہ حاصل کیا تھا، وہ بطور وزیر عہدے کا حلف اٹھانے کے باوجود اس کمپنی کے لئے مشاورت کے فرائض ادا کرتے رہے تھے۔ ان کا یہ طریقہ وزیر کے طور پر حلف کی خلاف ورزی بھی شمار ہوتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس طرح ’’مفادات کے ٹکراو‘‘ کی صورت حال کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اس لحاظ سے چشم کشا ہونا چاہئے کہ ملک کی اہم سیاسی جماعت نے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہوئے اور کابینہ کی تشکیل میں ان بے قاعدگیوں پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی تھی جو پہلے وزارت دفاع اور پانی و بجلی ، پھر وزارت خارجہ کے اہم منصب پر فائز رہنے والے شخص سے مرتکب ہوئی تھیں۔ اس لئے موجودہ فیصلہ کو صرف ’’سازش‘‘ سے تعبیر کرکے نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہو گا بلکہ مسلم لیگ (ن) سمیت سب سیاسی جماعتوں کو اپنے وفاداروں کا انتخاب کرتے وقت ان کی سرگرمیوں پر بھی نظر ڈالنی چاہئے۔ خواجہ آصف کا یہ مؤقف درست ہو سکتا ہے کہ انہوں نے 2013 کے انتخاب میں کاغذات نامزدگی میں اپنا وہ پاسپورٹ جمع کروایا تھا جس پر اقامہ لگا ہوا تھا۔ عدالت نے اس مؤقف کو یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ اس سے ان کی نیک نیتی واضح نہیں ہوتی۔ بطور تجربہ کار سیاست دان اور قانون دان ، انہیں واضح طور سے یہ بتانا چاہئے تھا کہ وہ ایک غیر ملکی کمپنی کے لئے کام کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ اس تنخواہ کا بھی مکمل حساب دینے میں ناکام رہے ہیں جو وہ متعلقہ کمپنی سے وصول کرتے رہے ہیںخواجہ آصف کے معاملہ میں سامنے آنے والی معلومات ایک سنجیدہ اور سنگین پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ملک کے اہم عہدوں پر فائز ہونے والے افراد کے پاس ملک و قوم کے اہم راز ہوتے ہیں۔ اگر وزیر کے طور پر کام کرنے والا کوئی شخص اس حساسیت کا خیال رکھنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے اہم حکومتی عہدہ کی ذمہ داری نہیں سونپی جاسکتی۔

اداریہ