Daily Mashriq

بازار بٹیر بازاں

بازار بٹیر بازاں

اگر آپ پشاور کی گلیوں اور بازاروں کی سیر کرنا چاہیں تو چوک یاد گارسے قصہ خوانی بازار کی جانب ہولیں، چوک ابریشم گراں سے گزرنے کے بعد آپ کو کٹرا بازار سے گزرنا ہوگا جس کے فوراً بعد آپ پشاور کے بازار بٹیر بازاں سے گزررہے ہوں گے۔ جب ہم نے ہوش سنبھالا تھا تو اس بازار میں چڑیاں، طوطے ، مینا، اور نایاب اقسام کے پرندے دکانوں پر لٹکے پنجروں میں بند بکا کرتے تھے ، لیکن آج کل ایسا ہر گز نہیں ہوتا ، کہلاتا تو یہ بازار بٹیر بازاں ہے لیکن یہ پشاور کی مصروف ترین تجارتی منڈیوں میں سے ایک منڈی ہے جسے بازار بٹیر بازاں کے علاوہ پیپل منڈی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ، جب یہاں چڑیاں اور طوطے بکتے تھے ان دنوں اس بازار کو بازار بٹیر فروشاں کہنا چاہئے تھا لیکن بیتے دنوں کی طرح آج بھی اس بازار کو بازار بٹیر بازاں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔بٹیر بازی ، بٹیرے پالنے اور بٹیرے لڑانے کے شوق کو کہا جاتا ہے، جس نے کسی زمانے میں ایک کلچر کا روپ اختیار کر رکھا تھا ۔ بٹیر بازوں کا ایک گروہ یا طبقہ تھا جو ہمہ وقت اس شغل میں مبتلا نظر آتا، اس طبقہ سے وابستہ لوگوں کی بغل میں خلتہ ہوتا تھا ، خلتہ کپڑے کے بنے اس ہلکے پھلکے تھیلا نما گول پنجرے کو کہا جاتا تھا جس میں بٹیر باز اپنے بٹیرے کو ڈال کر اسے کسی کھونٹی سے لٹکا دیتے تھے اور بٹیر ابچارا اس میں پھدکتا رہتا تھا۔ بٹیر کو خلتہ میں بند کرکے لٹکانے کا مقصد ہی یہ ہوتا کہ بٹیرا جتنا چاہے پھدک لے مگر بھاگ نہ سکے۔ بٹیر باز بٹیروں کو لڑانے کے لئے تیار کرتے تھے اور اپنے مد مقابل بٹیرے سے لڑنے مرنے کے لئے ان کا پھدکتے رہنا ضروری ہوتا تھا۔ بٹیروں کے پھدکتے رہنے سے جہاں ان کی اچھی خاصی ورزش ہوتی رہتی، وہاں وہ اپنے مد مقابل بٹیرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لئے اچھی خاصی مشق یا پریکٹس کر لیتا تھا۔ اس لئے شوقین بٹیر باز اپنے بٹیرے کو ہمہ وقت پھدکنے کے عمل سے گزارتے رہتے۔ ایسا کرنے کے لئے وہ بٹیرے کو خلتہ سے نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیتے جب کہ بٹیرے کے خلتہ کو بغل میں دبا ئے رکھتے ۔ سر پر طلے دار ٹوپی یا مشہدی پگڑی، چائنا بوسکی کا جوڑا، پاؤں میں چوں چوں کرنے والی پنجے دار چپلی، بغل میں خلتہ، ٖدائیں ہاتھ کی مٹھی میں بٹیرا جسے ہاتھ میں پکڑے پکڑے اچھال کر اسے اس کے پنجوں کے بل بائیں ہاتھ کی مٹھی یا ہتھیلی پر مارنا ایک بٹیر باز کا معمول ، پہچان ، عادت ، لائف سٹائل یا شان و شوکت تھی ۔بٹیر باز ہمہ وقت اپنے بٹیروں پر پھدکنے یا پھد کانے میں مصروف رہنے کے علاوہ اپنے ہم مشرب ساتھیوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ، اور بعض اوقات گروہ کی صورت بھی دیکھے جاتے ۔ ایک دفعہ میں نے درجن بھر ایسے لوگوں کو دیکھا جو پشاور کے ایک قہوہ خانے میں بیٹھے خوش گپیاں لگا رہے تھے لیکن ان سب نے اپنے ہاتھوں کو رومالوں سے ڈھانک رکھا تھا، یا اللہ کیا ہوا ان کے ہاتھوں کو جو انہوں نے اسے کپڑے سے ڈھانک رکھا ہے ، لیکن کچھ ہی دیر بعد اس بات کا عقدہ کھلا کہ انہوں نے اپنے اپنے ہاتھوں میں بٹیرا تھام رکھا ہے اور اسے کسی مصلحت کے تحت رومال یا کپڑے سے ڈھانپ رکھا ہے ۔ غالباً رومال لپٹے ہاتھ میں پکڑے بٹیروں کو وہ لوگ سہلا بھی رہے تھے اور آپس میں خوش گپیاں بھی لگا رہے تھے، مجھے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کی آپس میں بات چیت کرنے کی ایک خاص بولی ہوتی تھی جو ایک عام یا بٹیر بازی سے نابلد بندے کی سمجھ سے بالا تر ہوتی ، دو بٹیروں کو لڑانے کی غرض سے میدان میں چھوڑ دیا جاتا ، بٹیر باز اور دیگر شائقین یا تماشائی ان کے گرد دائرہ لگا کر بیٹھ جاتے یا کھڑے ہوجاتے ، دو بٹیرے پھدک پھدک کر ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے ، اور
اٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے
کا منظر نامہ دیکھنے والوں کے جوش اور جذبے میں اضافہ کرنے لگتا، شابا میرے شیر، بھگادے تو گیدڑ کو، تالیاں ، نعرے ، جگتیں اور گسترانہ نعرے
شیرا وے بٹیرا وے
تیرا وے نہ میرا وے
جیسے عامیانہ اشعار ، اور جو بٹیرا جیت جاتا وہ اپنے مالک کو بٹیرے لڑانے کے جوے کی بہت سی رقم جتوادیتا اور اس کی قیمت میں بھی کئی گنا اضافہ ہوجاتا ، اور جو بھاگ کر بھگیلا کا طعنہ حاصل کرتا اسے اپنے بٹیر باز بالم کی جانب سے کھری کھری سننے کو ملتیں ، بھرے میدان میں شرما دیا ہے مجھے تونے۔ایک کلچر تھا ، ثقافت تھی جوفی زمانہ نظر نہیں آتی ، اگراتفاق سے ایسی ثقافت سے وابستہ کوئی کہیں نظر آبھی جائے تو اس کا وجود گم گشتہ ثقافت کے خال خال نظر آنے والوں کی نایاب نسل سے جڑتا نظر آتا ہے، اصلی ، نسلی اور فصلی بٹیرے ان ہی دنوں کی یاد تازہ کرتے ہیں جب لوگ پیپل منڈی کو بازار بٹیر بازاں کہتے تھے، ، کل کی طرح آج بھی بٹیرے پالنے اور بٹیرے لڑانے کے شغل کو بٹیر بازی کہا جاتا ہے، اس شغل سے وابستہ افراد بٹیر باز کہلاتے ہیں اور وہ بازار جہاں بٹیرے بکتے تھے بازار بٹیر بازاں کے نام سے مشہور تھا، بٹیر بازی کے علاوہ کبوتر بازی، مرغ بازی، اور کتے بازی جیسے شوق بھی بیتے دنوں کے زندہ دلان پشاو ر کے محبوب مشاغل میں سے چند تھے، جن میں سے اکثر کا چلن آج بھی جاری ہے۔
بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب وروز تماشا مرے آگے

اداریہ