انتخابی حلقوں کی سیاست کے اسیر لوگ

انتخابی حلقوں کی سیاست کے اسیر لوگ

اپنے ماموں سسر نذر گوندل کی سیاست اور دوسرے ماموں ظفر گوندل کی ’’عجت‘‘ بچانے کے لئے ندیم افضل چن بالآخر تحریک انصاف کے ٹرک پر سوار ہو ہی گئے۔ دو دن ادھر انہوں نے آبائی گائوں میں جلسہ برپا کیا اور تقریر فرماتے ہوئے گویا ہوئے ’’ پیپلز پارٹی کا نظریہ شرجیل میمن ہے‘‘۔ ندیم افضل چن نے 2014ء کے دھرنے کے دوران پی ٹی آئی کے کنٹینر پر چڑھنے سے انکار کردیا تھا۔ 2018ء میں وہ ٹرک پر سوار ہوگئے۔ اس جلسہ سے عمران خان نے بھی خطاب کیا۔ ندیم افضل چن اچھے آدمی اور بھلے مانس دوست ہیں۔ سادہ مزاج دوستوں کے دوست۔ انتخابی سیاست کے میدان میں دوستی اور سادگی کام نہیں آتی یقینی جیت بنانے والی جماعت کا ٹکٹ ضروری ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی والے لاکھ بڑھکیں ماریں اور اپنے امام سیاست آصف علی زرداری کے فرمودات سے جی بہلاتے پھریں سچ بہر طور یہی ہے کہ وسطی پنجاب کے سیاسی ڈھابوں (انتخابی حلقوں) میں اس کا چائے پراٹھا بکنا مشکل ہے۔ انصافی پیزے کی کھڑکی توڑ سیل جاری ہے۔ دلیہ سے سیمنٹ اور چینی سے دودھ تک کا کاروبار کرنے والے کامیاب مشیروں نے اسے سیاسی تجارت کے گر سکھا دئیے ہیں۔ چن بھی محبان بنی گالہ ہوئے۔ پیپلز پارٹی لاکھ کہے دھچکا بڑا ہے وہ اس جماعت کے صوبائی جنرل سیکرٹری تھے۔ چند ماہ قبل جماعتی منصب سے الگ ہوگئے لیکن دوستوں اور ملاقاتیوں کو یقین دلاتے تھے کہ پیپلز پارٹی نہیں چھوڑیں گے۔
وہ وعدہ بھی کیا جو ایفا ہوگیا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی چھوڑ دی اور آبائی گائوں کے جلسہ میں سابق جماعت کو چند کراری کراری صلواتیں بھی سنا ڈالیں۔ ندیم افضل چن جس وقت شرجیل میمن کی کرپشن پر بات کر رہے تھے میرے ساتھ بیٹھے فقیر راحموں کو ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔ بڑی مشکل سے ان کی ہنسی تھمی تو سوال کیا۔ اس بے لگام ہنسی کی وجہ کیا رہی؟ مسکراتے ہوئے بولے بہادر آدمی کو چاہئے تھا کہ شرجیل میمن کی کرپشن کے ساتھ اپنے ماموں ظفر گوندل کی 46ارب روپے کی اس کرپشن پر بھی دو حرف بھیجتا جس کی وجہ سے ان کا خاندان زیر عتاب آیا۔ کچھ وقت ملتا تو ماموں سسر نذر گوندل کی عظیم خدمات سے بھی عوام کو آگاہ کرتا۔ بات تو فقیر راحموں کی درست ہے لیکن یہاں پورا سچ کون بولتا ہے چوتھائی سچ کو رولتے لوگ مجبوریوں اور رشتوں و تعلقوں سے بندھے ہوتے ہیں۔ پیپلز پارٹی والے البتہ ندیم افضل چن کے خلاف سوشل میڈیا پر جو طوفان اٹھائے ہوئے ہیں وہ درست نہیں۔ چن کا ننھیال سیاسی ہجرتوں کی شہرت رکھتا ہے۔ انتخابی حلقوں کی سیاست کرنے والوں کے لئے نظریات نہیں یقینی جیت اہم ہوتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ حلقوں کی سیاست کرنے والے سیاستدانوں کو پرانی پارٹی کی خرابیاں پارٹی چھوڑنے پر دکھائی دیتی ہیں۔ ندیم افضل چن پی پی پی کے اس پنجابی گروپ کا حصہ رہے جو مائنس آصف زرداری کے فارمولے کا چورن بیچتا رہا۔ اب انہیں بی بی کا مشن مکمل کرنے کے لئے عمران خان کی قیادت نصیب ہوگئی ہے۔ سوا لاکھ مبارکاں ہوں انہیں کیونکہ انہوں نے اپنے یار طرح دار چودھری نثار علی خان کے مشورے پر صدق دل سے عمل کیا۔
تحریک انصاف کے قائد محترم جناب عمران خان آف بنی گالہ کے نزدیک نون لیگ اور پیپلز پارٹی کرہ ارض کی ساری خرابیوں کی ذمہ دار‘ کرپٹ اور ڈاکو جماعتیں ہیں ان جماعتوں کے نیک و پارسا لوگوں کو اپنی جماعت میں شامل کرکے صاف ستھرا کرپشن سے پاک ایک پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ سیاسیات کے مجھ ایسے طالب علم کو البتہ یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ 46 ارب کی کرپشن کرنے والے ظفر گوندل پی ٹی آئی میں کیا کر رہے ہیں۔ ویسے تو اس جماعت میں راجہ ریاض بھی موجود ہیں۔ وہی راجہ ریاض جنہوں نے دھوبی کے نام پر لاکھوں کی امداد منظور کروائی او ڈکار گئے۔ خیر چھوڑیں ہمیں کیا۔ کوئی کچھ بھی کرے تحریک انصاف خان کے ٹائیگروں کی امید اور خان کی جماعت ہے کسی کو شامل کریں نا کریں ان کی مرضی۔ شکوہ ندیم افضل چن سے ہے کہ وہ بھی مروجہ سیاست کے اسیر ہوئے۔ دو دن قبل انہوں نے اپنے سابق چیئرمین کے لئے چند سوقیانہ جملے کہے۔ دیہی پس منظر کے حامل چن کو یہ زیبا نہیں تھا۔ مکرر عرض ہے انہوں نے اپنے دو ماموئوں کا مستقبل بچانے کے لئے جو قربانی دی خدا کرے وہ قربانی قبول و مقبول ہو اور دونوں پر قائم کرپشن کے مقدمات جلد از جلد ختم ہوجائیں۔ رہی پیپلز پارٹی تو اس کے حوالے سے ان دنوں بعض سوشل میڈیائی دانشور فرما رہے ہیں کہ پارٹی کے اندر قائدین کی سطح پر مسلکی تنازعات ہیں۔ سوشل میڈیائی دانشوروں نے بے پرکیاں اڑانے کے ریکارڈ بنا رکھے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لئے اچھا وقت ہے انتخابی سیاست کے مجاوران جا رہے ہیں ایسے میں اگر وہ ایک بار پھر اپنے عوام دوست ترقی پسند منشور سے رہنمائی لینے اور کچلے ہوئے طبقات کی رہنمائی کرنے کا فیصلہ کرلے تو مناسب رہے گا۔ ہمارے دوست ندیم افضل چن جہاں رہیں خوش رہیں البتہ ایک بات وہ لکھ کر رکھ لیں کہ جن وجوہات کی بنا پر انہیں 2013ء کی انتخابی سیاست سے نکلوایاگیا تھا وہ وجوہات بھی موجود ہیں اور قوتیں بھی ایسے تحریک انصاف ان کی کتنی مدد کرے گی یہ تو آنے والا وقت بتائے گا فی الوقت یہ کہ وہ اگر شر جیل میمن کی کرپشن پر برستے وقت اپنے ماموئوں کی کرپشن پر بھی جیداری سے بات کرلیتے تو عوام میں ان کی عزت میں اضافہ ہوتا۔

اداریہ