Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

جنگ قادسیہ کے باقاعدہ شروع ہونے سے پہلے ایرانی فوج کے سپہ سالار رستم نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے کہلا بھیجا کہ اسلامی فوج کا کوئی سفیر بھیجئے‘ ممکن ہے ہم مصالحت پر آمادہ ہو جائیں۔ حضرت سعدؓ نے ربعی بن عامرؓ کو روانہ فرمایا۔ رستم نے اپنی شان و شوکت اور طمطراقی کا پورا مظاہرہ کیا تھا۔ دور تک قالین بچھے تھے۔ ریشمی پردے اور مکلف فرش آراستہ تھے۔ زرق برق لباس والے چاق و چوبند سپاہی صف بستہ کھڑے تھے۔ رستم سونے کے تخت پر بیٹھا تھا۔ اس کے تکیوں اور شامیانوں کی جھالروں میں قیمتی موتی جگ مگ جگ مگ کر رہے تھے۔ حضرت ربعی بن عامرؓ بڑی بے پروائی سے اس سارے سامان تجمل سے گزرے۔ اپنا گھوڑا ایک گائو تکیے سے باندھا اور پوری شان استغنا سے سیدھے رستم کے تخت پر اس کے برابر میں جا بیٹھے۔ دربار میں شور مچ گیا۔ چوبداروں نے حضرت ربعیؒ کو نیچے اتارنا چاہا تو انہوں نے فرمایا: ’’ میں تمہارا بلایا ہوا ہوں‘ از خود نہیں آیا۔ اگر بات چیت کا ارادہ نہیں تو واپس چلا جاتا ہوں۔ ہمارے مذہب میں اس امر کی کوئی گنجائش نہیں کہ ایک شخص خدا بن کر بیٹھے اور باقی لوگ بندوں کی طرح دست بستہ اس کے سامنے کھڑے ہوں۔‘‘ حضرت ربعی بن عامرؓ کی ٹوٹی ہوئی تلوار دیکھ کر طنزاً اس کی طرف اشارہ کرنے لگے تو انہوں نے تلوار کو نیام سے کھینچ لیا۔ درباری بڑی حیرت سے ان کا منہ تک رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: تم صرف تلوار کی نیام کو دیکھتے ہو‘ تلوار چلانے والے بازو کو دیکھو‘ جس کا وار کبھی خطا نہیں جاتا‘‘۔ پھر رستم نے ان سے کہا’’ تمہارے نیزے کا پھل بہت چھوٹا ہے‘ یہ لڑائی میں کیا کام دیتا ہوگا؟‘‘۔ حضرت ربعیؓ نے نیزہ تان کر فرمایا’’ یہ پھل سیدھا دشمن کے سینے کو چیرتا ہوا پار ہو جاتا ہے۔ کیا تم نے کبھی دیکھا نہیں کہ آگ کی ایک چھوٹی سی چنگاری تمام شہر کو جلا ڈالنے کے لئے کافی ہوتی ہے؟‘‘۔ حضرت ربعیؓ کی اس گفتگو سے ایرانی امراء اور خود سپہ سالار رستم بہت متاثر ہوا اور مزید مشورہ اور غور و فکر کی مہلت طلب کرکے انہیں رخصت کردیاگیا۔
حضرت ابو حبیب بدریؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم بن ادھمؒ کو ملک شام میں دیکھا تو میں نے کہا اے ابو اسحٰق ( یہ ابراہیم بن ادھمؒ کی کنیت تھی) آپ نے خراساں کیوں چھوڑا اور یہاں کس لئے آئے ہیں؟ انہوں نے فرمایا‘ مجھے زندگی یہیں آرام سے گزرتی معلوم ہوتی ہے‘ میں اپنے دین کو کوہ در کوہ لئے پھرتا ہوں‘ یہاں جو مجھے دیکھتا ہے وہ مجھے ملاح یا شتر بان یا پاگل سمجھ کر التفات نہیں کرتا اوراس گمنامی ہی میں عافیت مرکوز و مستور ہے۔بے شک مومن کے نزدیک اس دنیا کی کوئی اہمیت نہیں وہ اس کو ایک سرائے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا نہ ہی اس کا دل اس دنیا میں لگتا ہے۔ یہ دنیا صرف اس کے لئے امتحان گاہ ہوتی ہے۔ عیش عشرت سے اسے کوئی سروکار نہیں ہوتا کیونکہ ایک دن یہ سب چیزیں فنا ہونے والی ہیں۔

اداریہ