Daily Mashriq


بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا

بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا

چل دیا بے چارہ ساجد سرحدی چپ چاپ اس شہر ناپرساں سے ناراض ہوکر ایسی جگہ جہاں سے کوئی بھی لوٹ کر نہیں آتا۔ یہ شہر تو اس کا شہر تھا، وہ شاعر تھا اور وہ اس شہر کے حوالہ سے شاعر پشور کے نام سے جانا جاتا تھا۔ شاعر جو اپنے سامعین کی واہ واہ بٹورنے کیلئے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر

ہم پرورش لوح وقلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

کے مصداق اپنی دماغ سوزی کرکے اپنے خون جگر سے کچھ لکھتا ہے تو پڑھنے یا سننے والے اس کی جھولی میں واہ واہ کے ڈونگرے پھونک کر سمجھتے ہیں کہ ادا کر دی انہوں نے اس کی اس حساسیت کی قدر وقیمت اور وہ بے چارا خوش ہو جاتا ہے جب اسے واہ واہ، بہت خوب کے دو بول مل جاتے ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ مل گئی اس کو اپنے رت جگوں کی وہ صبح پُرنور جس کو حاصل کرنے کیلئے اتنی جاں سوزی کی تھی اس نے۔ بہل جاتا ہے بے چارہ، اسے کوئی فکر نہیں رہتی اس ناشناس دنیا کی بے قدری کی۔ کیا کرتا ہے بھولا باچھا؟ کسی نے ہم سے پوچھا تو ہم نے بڑے فخریہ انداز سے بتایا کہ وہ شاعر ہے، جس کے جواب میں پوچھنے والے نے کہا! میں پوچھ رہا ہوں وہ کرتا کیا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ شاعر ہے۔ پوچھنے والے کے اس انداز تکلم سے ہم یہ جان کر تڑپ اُٹھے کہ شاعر ہونا کسی بڑے اعزاز کی بات ہی نہیں حالانکہ ہم کتابوں میں یہی پڑھتے آئے ہیں کہ شاعر نباض ہوتے ہیں پوری قوم کے۔ شاعر مشرق نے تو شاعر کو قوم کے جسم کی آنکھ سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھ دیا تھا کہ

محفل نظم حکومت، چہرہ زیبائے قوم

شاعر رنگیں نوا ہے دیدہ بینائے قوم

مبتلائے درد کوئی عُضو ہو روتی ہے آنکھ

کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ

ساجد سرحدی نباض شہر پشاور تھا، جبھی لوگ اسے شاعر پشور کہتے تھے، ان کا تعلق پشاور کے ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا، والدین نے ان کو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے اسکول بٹھایا لیکن ان کی قسمت میں آکادیمک تعلیم حاصل کرنا نہیں تھا، سو انہوں نے علوم شرقیہ کی ابتدائی تعلیم اپنے والد ہی کی نگرانی میں حاصل کرنا شروع کی، آپ اردو کے علاوہ اپنی مادری زبان ہندکو میں بھی شاعری کرتے تھے بلکہ ہندکو والے ان کی ایک ہندکو نظم کا ترغیبی شعر

قائم رکھ اپڑا ماحول

ہندکو لکھ تے ہندکو بول

اکثر اپنے سٹیکروں اور بینروں پر لکھ کر آویزاں کرتے رہتے، چند سال پہلے ساجد سرحدی ربیع الاول کے جلوس کے نعت خوانوں کیلئے نہایت عقیدت واحترام سے اپنا منظوم نعتیہ کلام پمفلٹ کی صورت شائع کروا کے مفت تقسیم کیا کرتے تھے، یہ سلسلہ عقیدت آپ محرم الحرام کے دوران بھی جاری رکھتے اور اسی قسم کا عقیدتوں بھرا نذرانہ محرم الحرام کے جلوسوں کے عزاداروں کیلئے بھی شائع کرکے ان میں تقسیم کرتے، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ وہ اپنا کلام کتابی صورت میں شائع کرنے کیلئے کسی کو دینا گوارا نہ کرتے، یہی وجہ ہے کہ آج تک ان کا کوئی بھی مجموعۂ کلام شائع ہوکر منصہ شہود تک نہ پہنچ سکا، ایک حوالہ کے مطابق1970میں ان کے آبائی مکان کو آگ لگ گئی جس میں ان کا بہت سا کلام جل کر خاکستر ہوگیا، بقول ڈاکٹر ظہور احمد اعوان وہ اپنے جلے ہوئے مکان کی راکھ پر خیمہ زن ہوکر رہنے لگے، پھر انہیں کریم پورہ کی گلیوں میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہونا پڑا، ان ہی گلیوں میں ان کی ملاقات ایک حسینہ سے ہوئی جو ان کے دل ودماغ اور روح پر راج کرنے لگی، لیکن بقول ان کے ان پر بہت جلد اس بات کا انکشاف ہوگیا کہ وہ لڑکی کسی ماورائی مخلوق سے تعلق رکھتی ہے، یہ دلچسپ کہانی میں نے ان کے اعزاز میں برپا کی جانے والی ایک شام پذیرائی میں پڑھی تھی، اللہ جانے یہ اس ہی جن پری یا ماورائی ناری کی شرارت ہے کہ وہ کہانی نہ میرے لیپ ٹاپ میں موجود رہی اور نہ میرے کاغذوں کی پلندوں میں مل رہی ہے ورنہ آج جب میں ان کی ابدی جدائی میں ٹپ ٹپ آنسو بہا رہا ہوں یہ کہانی میرے کام آسکتی۔ ڈاکٹر ظہور احمد اعوان نے جب خادم حسین ساجد سرحدی کے عنوان سے ان کا خاکہ لکھا تو آپ نے انہیں دکھوں اور غموں کا مارا، اپنی آگ میں سلگتا بے ضرر سا انسان ظاہر کیا، لیکن میری نظر میں وہ اپنے اندر دبستان پشاور چھپائے پھرتا تھا، ساجد سرحدی نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا اور اس کی منظرکشی اپنی حرفیوں کے علاوہ غزل ونظم میں بھی کرتا رہا، لتھڑے ہوئے کاغذوں پر رقم کی ہوئی اس کی شاعری ہی اس کی جمع پونجی تھی، جس پر وہ نازاں ورخشاں تھا، پبلشنگ اداروں نے متعدد بار ان کے مجموعۂ کلام کو شائع کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا اور کوشش بھی، لیکن جانے کیوں وہ اس بات پر آمادہ نہیں ہوئے، اب جب وہ اس دنیا میں نہیں رہے، اطلاع ملی ہے کہ ان کا مجموعۂ کلام زیر طبع ہے، اللہ کرے یہ سچ ہو، ورنہ ان کے جنازے کو کندھا دینے کیلئے آنے والے مشتاق شباب اور ڈاکٹر نذیر تبسم آپس میں باتیں کرتے ہوئے چہ مگوئیاں کر رہے تھے کہ جس طرح جلیل حشمی کے بے بدل کلام کو وقت کی سنگدل گائے ڈکار گئی، کہیں یہ حشر ان کے کلام بلاغت نظام کیساتھ بھی روا نہ رکھا جائے اور یوں آنے والے وقتوں میں مرحوم ساجد سرحدی کی روح تڑپ تڑپ کر اتنا بھی نہ کہہ سکے کہ

چند تصویر بتاں، چند حسینوں کے خطوط

بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا

متعلقہ خبریں