Daily Mashriq


نو مور ''ڈومور''

نو مور ''ڈومور''

نئے وزیر خارجہ خواجہ آصف جو اس سے قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کابینہ میں وزیر دفاع رہے ہیں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزام اور ڈومور کے مطالبہ پر مبنی بیان کا جواب دینے کے لیے بیرونی ممالک کے دورے پر جانے والے ہیں۔اس سلسلہ میں کہا جارہا ہے کہ انہوں نے سابق وزیر اعظم سے صلاح مشورہ بھی کیا ہے۔ اگر نون لیگ کی حکومت اپنے اس اعلان پر قائم ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھے گی تو یہ بات خارج از امکان نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کی روشنی میں بدلے ہوئے حالات میں بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی یہی رہے گی جو سابق وزیراعظم نواز شریف کے عہدوزارت عظمیٰ کے دوران تھی یعنی کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہو، بھات کے لیڈروں کے معاندانہ بیانات ہوں ، اشرف غنی کے الزامات ہوں ، پاکستان کی طرف سے خاموشی ہی جواب ہو گا۔ اس خیال کی تائید نون لیگ کے نئے وزیر دفاع خرم دستگیر کے اس بیان سے ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اب بھی امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت کو افغانستان میں مسلط کرنے اور پاکستان کو بن بتائے کارروائیاں کرنے کی دھمکی کے بعد بھی اگر خرم دستگیر کے پاس کوئی ایسی تجاویز ہیں جو وہ امریکیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پیش کر سکتے ہیں تو انہیں یہ تجاویز پہلے قوم کے سامنے پیش کرنی چاہئیں جو ٹرمپ کے ڈو مور کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔ ممکن ہے خواجہ آصف کو سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی سابقہ پالیسی سے مختلف کوئی مشورہ دیں۔ اگر ایسا ہو بھی جائے تو یہ ضرور ہوناچاہیے کہ وہ غیر ملکی دورے کے لیے جو بستہ لے کر جائیں گے اسے پہلے کم ازکم کابینہ میں زیرِ بحث لے آئیں۔ شنید ہے کہ چین اور روس کے دورے کے بعد وہ امریکہ بھی جائیں گے۔ چین، روس اور ایران توپہلے ہی ڈونلڈٹرمپ کی پالیسی کو مسترد کر چکے ہیں، اسے خطے کے امن کے منافی قرار دے چکے ہیں۔ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے بھی ٹرمپ کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ خواجہ صاحب امریکہ میں وہاں کی پالیسی بنانے والوں یا احکام صادر کرنے والے اور ان پر عمل درآمد کرنے والوں کی کس قبیل سے ملاقاتیں کریں گے اور کیا کہیں گے۔ انہیں اس بارے میں قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ بلکہ اس سے بھی بہتر یہ ہوگا کہ پاکستان نئی امریکہ پالیسی مرتب کرے اور پاکستان کے وزیر خارجہ اس پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ اس کے لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ خطے میں خاص طور پر افغانستان میں امریکہ کے مقاصد کا تعین کر لیا جائے۔ کیا امریکہ افغانستان میں امن چاہتا ہے اوروہاں سے نکل جانے کا ارادہ رکھتا ہے؟ اس سوال کا جواب امریکہ کے اعلانات کی بجائے اقدامات کی بنیاد پر اخذ کرنا چاہیے۔پہلی بات تو یہ ہے کیا وجہ ہے کہ امریکی فوجیں چند شہروں میں اپنے محفوظ ٹھکانوں تک محدود ہیں اورسارے افغانستان پر فوج کشی نہیں کر رہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ طالبان کے پاس جنگی سازو سامان امریکیوں سے بہتر ہے اور جنگجوؤں کی تعدادزیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طالبان جتنے علاقے میں بھی موجود ہیں وہاں مقبول عام ہیں اور امریکی جن علاقوں میں ہیں وہاں وہ اجنبی ہیں۔ اس لیے چند محفوظ مقامات تک محدود ہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ کی سولہ سال سے موجودگی کے باعث افغانستان میں حالات بہتر ہوئے۔ اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔ پہلے طالبان امریکہ اور اشرف غنی کی حکومت کے مخالف عنصر تھے اب وہاں داعش نے بھی قدم جما لیے ہیں۔جن کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان پر قبضہ کریں گے۔ اس طرح امریکہ کی موجودگی نے افغانستان میں بحران در بحران پیدا کر دیا ہے۔ تیسرے امریکی فوج کے افغانستان میں موجود ہونے کے باوجود آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں فرار ہو کر تحریک طالبان پاکستان کے ہزاروں لوگ افغانستان گئے۔ اس سے پہلے آپریشن سوات سے فرار ہونے والے افغانستان گئے لیکن امریکی فوجوں نے یا افغانستان کی فوجوں نے انہیں افغانستان میں پناہ لینے سے نہیں روکا۔ اگر امریکہ اور اشرف غنی کی حکومت دہشت گردی کے خلاف ہوتی تو ان مفروروں کو روک سکتی تھی۔ انہیں گرفتار کر سکتی تھی۔ چہارم ، پاکستان دہشت گردوں اور غیر قانونی طور پر پاک افغان سرحد پار کرنے والوں کو روکنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑھ لگا رہاہے۔ پاکستان کی طرف سے یہ پیش کش بھی سامنے آ چکی ہے کہ اگر افغانستان چاہے تو اس کے علاقے میں بھی ایسی ہی باڑھ لگائی جا سکتی ہے۔ اگر امریکہ اور افغانستان کا یہ دعویٰ سچاہوتا کہ پاکستان سے جا کر دہشت گرد افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں تو امریکہ اور افغانستان اس باڑھ بندی میں تعاون کرتے۔اب ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں بھارت کا عمل دخل بڑھانے کی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ افغانستان میں اس نئے عنصر کی کارگزاری میں اضافہ مزیدبحران کا باعث بنے گا کیونکہ بھارتی افغانستان کے عوام میں مقبول نہیں ہو سکتے۔ فی الوقت یہی شواہد کافی ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں امن و استحکام نہیں بلکہ بحران اور عدم استحکام برقراررکھناچاہتا ہے تاکہ خطے میں موجودگی کا جواز حاصل کرتا رہے۔ اور اسے امریکی عوام کے سامنے پیش کیا جاتارہے۔ اس لیے پاکستان کو امریکہ کے مطالبات کا جواب نو مور دینا چاہیے اور افغانستان اور خطے میں عدم استحکام کی امریکی پالیسی کے خلاف مقدمہ عالمی رائے عامہ کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں