Daily Mashriq


ڈینگی بخار کی یلغار ہنگامی بنیادوں پر روکنے کی ضرورت

ڈینگی بخار کی یلغار ہنگامی بنیادوں پر روکنے کی ضرورت

تحریک انصاف کے چیئرمین سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف کو طعنہ دے رہے ہیں کہ اگر انہوں نے ہسپتال بنایا ہوتا تو آج ان کی بیگم کلثوم نواز کو گلے کے کینسر کے علاج کے لیے لندن نہ جانا پڑتا۔خود عمران خان نے اپنی والدہ کے نام پر کینسر ہسپتال بنایا اور مزید ایک ہسپتال کی تعمیر کے لیے کام جاری ہے۔ لیکن کیا پاکستان میں کینسر ہی واحد مرض ہے جس کے لیے عمران خان نے تو ہسپتال بنادیا اور نواز شریف نے نہیں بنایا۔ عمران خان کے اقدامات سے لگتا ہے کہ عمران خان ایسا نہیں سمجھتے۔ وہ بار بار اپنی تقریروں میں کہتے ہیں کہ موٹرویز کی بجائے صحت اور تعلیم پر وسائل زیادہ خرچ کیے جانے چاہئیں اور ان کی پارٹی کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ جاری کیے ہیں ۔ انہوں نے سکھر کے جلسہ میں یہ اعلان بھی کیا ہے کہ برسرِ اقتدار آکر وہ سارے ملک میں ہیلتھ کارڈ سکیم رائج کریں گے ۔ کینسر ہسپتال کی تعمیر سے لے کر ہیلتھ کارڈز کے اجراء تک ان کی کوششوں کے باوجود پشاور اور صوبے کے دوسرے علاقوں میں ڈینگی مچھر کی یلغار نے پی ٹی آئی کی صحت عامہ پر توجہ، منصوبہ بندی اور فعالیت یکسر ناکام بنا دی ہے۔ برسات کے موسم میں وبائی امراض کا خدشہ کوئی ایسی بات نہیں جس کے اظہار کے لیے افلاطونی دانش کی ضرورت ہوتاہم انہی سطور میں پری مون سون کے آغاز سے پہلے یہ انتباہ کیا گیا تھا کہ برسات آنے والی ہے ، اس میں سیلابی صورت حال بھی سامنے آتی ہے اور ملیریا اور ڈینگی بخار سمیت وبائی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ لیکن ا س آگاہی کے باوجود ان بیماریوں کے سدِ باب کے لیے کسی پیش بندی کا نہ ہونا،ان کے انسداد کے لیے وسائل کا بندوبست نہ کیا جانا ، حکومت اور بیورکریسی کے تساہل کی واضح مثال ہے جو پی ٹی آئی کے گڈ گورننس کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت اور بیوروکریسی اگر صحت کے بارے میں سنجیدہ ہوتی تو محض پنجاب کی ٹی وی پر ڈینگی سے آگاہی عام کرنے کی مہم کی بجائے اپنی مخصوص صورت حال میں اپنے وسائل سے کام لینے پر غور کرتی۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا ۔ خیبرپختونخوا میں ایسے وسیع علاقے ہیں جہاں ٹی وی اور اخبارات کی اس قدر رسائی نہیں ہے جتنی پنجاب میں ہے۔ لیکن خیبرپختونخوا کے پاس ضلعی انتظامیہ کے اہل کار ہیں، ریونیو کے اہل کار ہیں ، بلدیاتی ادارے ہیں،''عوام دوست''ایلیٹ پولیس ہے ' ائمہ مساجد ہیں اور ہزاروں اساتذہ ہیں جن کا عوام سے رابطہ رہتاہے۔ان سب سے ڈینگی آگاہی کے لیے کام لیا جا سکتا تھا۔لیکن کمی تھی تو فرض شناسی کی اور فعالیت کی جس کے باعث ڈینگی مار سپرے اور لوشن بھی وافر مقدار میں نہ منگوایا جا سکا۔کوئی جائزہ بھی مرتب نہ کیا جا سکا کہ صوبے کے کن کن علاقوں میں ڈینگی کی افزائش کے زیادہ امکانات ہیں۔ تازہ ترین یہ ہے کہ ڈینگی بخار جس کے بارے میں کہا جارہاتھا کہ تہکال اور پشتہ خرہ تک محدود ہے اور دس روز کے اندر اس وبا پر قابو پا لیا جائے گا اس کا حملہ ایبٹ آباد، صوابی اور جمرود تک نظر آرہا ہے۔ اس کے مہلک حملے سے صوبے میں گیارہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس کے حملہ سے متاثر ہونے والوں میں پنجاب سے اس کے انسداد کے لیے آئی ہوئی ٹیم کا ایک ڈاکٹر بھی شامل ہے۔ پانچ نرسوں کے بھی ڈینگی سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے اس کی افزائش کے بارے میں کوئی سروے نہیں کیا اور نہ اس کے انسداد کے لیے مچھروں کے اتلاف کا ان سے بچاؤ کاکوئی منصوبہ تیار کیا ہے۔ یہ شکایت کی گئی ہے کہ حکومت پنجاب نے ڈینگی کے انسداد کے لیے ٹیم بھیج کر سیاست کی۔ لیکن خیبرپختونخوا حکومت نے تو کرنے کا کام بھی نہیں کیا۔اب ڈینگی کے ساتھ عید قربان نزدیک آنے کے باعث کانگو وائرس پھیلنے کا بھی خدشہ ہے۔اب بھی وقت ہے کہ صوبائی حکومت وافر مقدار میں ڈینگی بھگاؤ سپرے اور لوشن حاصل کرے۔ نالیوں اور کھڑے پانی کی صفائی ستھرائی کا فوراً بندوبست کرے ۔ ڈینگی کے علاج کے لیے ڈاکٹروں اور دوائیوں کا بندوبست کرے خواہ اسے پنجاب اور وفاقی حکومت سے مدد مانگنی پڑے تو مانگی جائے۔ ٹی وی اشتہارات کے بجائے عملاً ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں بلدیاتی اداروں' ضلعی اہل کاروں' اساتذہ اور طلبہ کی ٹیمیں بنائی جائیں جو صوبے کے ہر گاؤں اور محلہ میں جا کر دوائیوں کا سپرے کریں۔ صفائی کی تلقین کریں ۔ مچھر مار لوشن مفت تقسیم کریں۔ ڈینگی کی یلغار روکنے کو شکست دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا اور لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں