Daily Mashriq


وزارت خارجہ ۔۔۔۔ٹرمپ کی دھمکی اور فوج

وزارت خارجہ ۔۔۔۔ٹرمپ کی دھمکی اور فوج

کہنے کو پاکستان پارلیمانی جمہوریت ہے مگر حقیقت میں یہاں پارلیمنٹ بے توقیر ہے۔ پارلیمنٹ کوبے توقیر کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ خود پارلیمنٹیرینزہیں ۔ جس روز الیکٹورل ریفارمز بل قومی اسمبلی میں پیش ہوا اُس دن 342کے ایوان میں صرف 50اراکین اسمبلی میں موجودتھے۔ کورم کی نشاندہی ہوتی تو ہاؤس کی کارروائی رُک جاتی مگر حکومت سمیت کسی نے کم حاضری کو قابلِ توجہ نہ سمجھا ۔ پارلیمانی کمیٹیوں کی کارکردگی بھی بہت حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ خارجہ اُمور کی کمیٹی کسی ملک کی خارجہ پالیسی کا تعین کرنے میں سب سے اہم فورم ہوتا ہے مگر پاکستان میں خارجہ اُمور کی قائمہ کمیٹی میں کسی معاملہ پر ایسی سیر حاصل گفتگو نہیں کی جاتی جو ملک کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوسکے چنانچہ ملک کی خارجہ پالیسی کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ پارلیمنٹ میں نہیں بنتی۔سول ملٹری ریلیشن شپ کے تناظر میں اکثر سوال اُٹھایا جاتا ہے کہ ملک خارجہ پالیسی جی ایچ کیو کا استحکاق بن چکی ہے جو کہ غلط ہے۔ یقینا یہ مشق غلط ہے لیکن دیکھنا ہے کہ جن لوگوں کا یہ کام ہے وہ اپنی ذمہ داری کہاں تک نبھا رہے ہیں۔ حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ اُس نے وزیر خارجہ کا چناؤ کیا تو ایسے شخص کو وزیر خارجہ بنا دیا جس کا ماضی میں وزارت خارجہ کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ خواجہ محمدآصف خارجہ اُمور کی قائمہ کمیٹی کے ممبر بھی نہیں رہے ہیں کہ ان کے بارے میںگمان کیا جا سکتا کہ وہ تمام پیش رفت سے آگاہ ہیں اور خارجہ اُمور کی تمام نزاکتوں سے واقف ہیں۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے چار سال وزیر خارجہ کا تقرر نہ کیا اور اب یہ قدم اُٹھایا بھی تو اس کا مقصد وزارت خارجہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے سے زیادہ یہ دیکھائی دیتا ہے کہ جی ایچ کیو کو ٹف ٹائف دیا جا سکے۔ خواجہ آصف ان لیگی قائدین میں شامل ہیں جنہوں نے فوج کے حوالے سے ہمیشہ سخت لائن لی، اب بھی ان کا طرز عمل بدلا نہیں ہے۔ بروز جمعہ سینیٹ میں ہونے والی کارروائی کے دوران انہوں نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے بارے میں جو گفتگوفرمائی وہ طنز سے بھرپور تھی۔ اویس احمد لغاری قومی اسمبلی کی خارجہ اُمور کمیٹی کے چیئرمین تھے، بہتر ہوتا انہیں وزارت خارجہ عنایت کر دی جاتی یا پھر مخدوم خسرو بختیار کو جو کمیٹی کے ممبر بھی ہیں اور انہیں ماضی میں خارجہ امور کے وزیر مملکت کی حیثیت میں کام کرنے کا تجربہ بھی تھا۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری وزارت خارجہ کا منصب سنبھالنے سے قبل 2009ء سے لے کر 2013ء تک سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ مجھے یاد پڑتاہے جب ہیلری کلنٹن کو وزیر خارجہ کا قلمدان دیا گیا تو ان کی کنفرمیشن سینیٹ کی خارجہ کمیٹی نے 16-1سے کی، بعدازاںسینیٹ کے تمام اراکین نے ان کی نامزدگی کی توثیق کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ امریکہ میں ہمیشہ ایسے ہی ہوتا ہے۔ یہ مشق پارلیمنٹ کی توقیر کا باعث ہے۔ پاکستان میں کیا یہ طریقہ اختیار نہیں کیا جا سکتا ہے؟ ہمارے پاس اس کو نہ ماننے کی بہت سی دلیلیں ہوں گی لیکن میںسمجھتا ہوں کہ بحث کی بجائے ہمیں ہر اس طریقہ کو اختیار کرنا چاہیے جس سے ہماری پارلیمنٹ کی عزت میں اضافہ ہو اور اس کی توقیر بڑھے۔ زیادہ نہیں تو کم از کم یہ تو کیا جا سکتا ہے کہ خارجہ او ردفاعی امور کی کمیٹیوں کو زیادہ بااختیار اور باعزت بنایا جائے۔ آج حالت یہ ہے کہ قومی اسمبلی کی خارجہ کمیٹی کا چیئرمین کوئی نہیں ہے۔ اویس لغاری کی غیر موجودگی میں کسی کو اب تک چیئرمین کیوں نہیں بنایا گیا ہے حالانکہ یہ کمیٹی معروضی حالات میںبہت اہمیت کی حامل ہے۔ پارلیمانی جمہوریت کا یہ مطلب نہیں کہ وزیر اعظم بااختیار ہو' حقیقت میں پارلیمنٹ اور اس کی کمیٹیاں بااختیار ہوتی ہیں ، وزیر اعظم اور وزراء کا کام تو محض عملدرآمد کرانے والا ہوتا ہے۔ ہماری پارلیمنٹ کو بے توقیر اس طرح کیا جاتا ہے کہ سابق وزیر اعظم صاحب پارلیمنٹ میں تشریف لانااپنی توہین سمجھتے تھے۔ جب وزیر اعظم کاطرزِ عمل یہ ہو گا تو دیگر اراکین اپنی کارکرگی کو بہتر کیسے بنائیں گے؟۔فوج پرتنقید کی جاتی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی وہ بناتی ہے۔ پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ کی نمائندگی جن لوگوںکے پاس ہے ان کے اس حوالے سے تیاری اور جرأت کا یہ عالم ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کے بعد ان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا جواب دیں۔ سب سے پہلے پاک فوج کے سپہ سالار بولے اور قومی نمائندگی کا حق ادا کیا۔ وزیر خارجہ جس مائنڈ سیٹ کی نمائندگی کرتے ہیں وہ ہر معاملے میں فوج کے ردعمل اور مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کی خوشنودی کو ضرور پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ امریکی صدر کی افغان پالیسی اور پاکستان پر تابڑ توڑ حملوںکا جواب دینے سے قبل وزارت خارجہ انتظار کرتی رہی کہ فوج کا اس پر کیا رد عمل آئے گا۔ آج کے اخباروں میں میاںشہبازشریف کا جرأت مندانہ بیان سامنے آیا ہے لیکن نواز شریف اب تک اس حوالے سے ایک لفظ بھی نہیںبولے ہیں۔ ان کا ہدف اب بھی پاکستانی فوج اور عدلیہ ہیں اور وہ انہیں غلط ثابت کرنے کے لیے دور کی کوڑھی لانے میں مصروف ہیں۔ بروز جمعہ ایوانِ اقبال لاہور میں منعقدہ وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلیٰ عدالتوں کے بارے میں جو گفتگو فرمائی اور پانامہ کیس میں عدلیہ کے فیصلے کو جس طرح ہدف تنقید بنایا وہ نہایت افسوس ناک ہے۔ امریکی صدر کی پاکستان کو دھمکی کا جواب دینے سے انہوں نے گریز کیوں کیا اور کیوں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیاں بیان نہ کی اور پاکستان کو مجموعی طور پر ہونے والے نقصان کا ذکر کیوں نہ کیا؟جب قیادت اتنی خود غرض ہو گی تو عوام میں ا س کا قد کاٹھ کیسے بڑھے گا۔ جب بھی امریکہ دباؤ بڑھاتا ہے تو نواز شریف جیسے سیاسی رہنما فوج کو دباؤ میں لا کر سیاسی فائدہ کشید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکہ نے سول ملٹری ریلیشن شپ کو ہمیشہ اپنے حق میں ایکسپلائٹ کیا ہے ۔ بدقسمتی سے کبھی فوج اور کبھی سیاستدان اپنے مفادات کی تکمیل کی خاطر امریکہ کے ہاتھوں استعمال ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں