Daily Mashriq


اب کسے رہنماء کرے کوئی

اب کسے رہنماء کرے کوئی

مرزا غالب نہ ہوتے تو ہم کیا کرتے؟ مرزا کی شاعری نہ صرف ہمارے آج کے حالات پر بلکہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے زمانوں پر بھی چھاتی رہے گی، کیونکہ جب بھی حالات کے تناظر کو پرکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ان کے کسی نہ کسی شعر کا حوالہ دینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، اب یہی دیکھ لیجئے، انہوں نے کہا تھا

کیا کہا خضر نے سکندر سے

اب کسے رہنماء کرے کوئی

ہمارے موجودہ سیاسی حالات کو دیکھا جائے تو یہی شعر ایک معتبر حوالہ بنتا ہے اور آج کے لیڈروں کی حقیقت ہم پر واضح کر دیتا ہے، کسی نے کہا تھا کہ لیڈر حال میں زندہ رہتا ہے جبکہ رہنماء سو سال آگے کی سوچتا ہے، یوں رہنماء کی اس تعریف کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں لیڈر تو ہزاروں دکھائی دے جائینگے مگر رہنماء ایک بھی دکھائی نہیں دیتا، جو ملک وقوم کو بحران سے باہر لے جاکر اسے صحیح راہ پر گامزن کرے، موجودہ قیادت پر تو جون ایلیاء کا یہ تبصرہ خوب ہے کہ

میں بھی بہت عجیب، اتنا عجیب ہوں کہ بس

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں بلکہ ''اعلان جنگ'' کے بعد کہ یا تو پاکستان ایک بار پھر امریکی خواہشات کے آگے سرنگوں ہو کر ڈومور کے تقاضے پورے کرے ورنہ امریکی افواج جہاں چاہیں گی (پاکستان کے اندر) بمباری کر کے مبینہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کریں گی، ان دھمکیوں کی کوکھ میں چھپے اعلان جنگ سے قطع نظر امریکہ کی ہمیشہ سے یہی کوشش اور خواہش رہی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ کو کسی نہ کسی طور پاکستان کی سرزمین تک پھیلا کر اصل مقاصد حاصل کرے اور اصل مقاصد صرف اور صرف پاکستان کے جوہری اثاثوں پر قبضہ جمانا ہے، کیونکہ امریکہ خطہ زمین پر کسی بھی مسلمان ملک کو جوہری طاقت کے طور پر دیکھنے یا برداشت کرنے کی تاب نہیں رکھتا اور یہ جو افغان سرزمین پر بلاوجہ اس نے نائن الیون کے بعد نیٹو ممالک کے ساتھ آکر قبضہ کیا اور اب تک پاکستان اور افغانستان کے لاکھوں بے گناہوں کا خون بہایا، اس کا جوازکیا تھا؟ نہ تو نائن الیون کے واقعے میں کوئی افغانی ملوث تھا نہ کسی مدرسے کا کوئی طالب، پھر اتنی دور سے آکر افغان سرزمین پر قدم جمانے اور یہاں سے نام نہاد دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی کیا تُک تھی؟ خیر جانے دیجئے، یہ باتیں تو اب دنیا پر پوری طرح واضح ہوچکی ہیں کہ نائن الیون کی سازش کس کی تھی اور نشانہ کون بنا، ہم تو بات کررہے تھے لیڈر اور رہنما کی کہ ہمارے ہاں لیڈر تو ہزاروں کی تعداد میںمل جائیں گے مگر رہنماؤں کی وہ کال ہے کہ دور دور تک اس نام کی کوئی ''شے'' دکھائی نہیں دیتی، اگر ذرا غور کریں تو آج جو لوگ ملک کے طول و عرض میں سیاسی طور پر فعال نظر آتے ہیں، ان سے موجودہ عالمی حالات کے تناظر میںدرپیش پاکستان کے مسائل کو سلجھانے کی توقع عبث نظر آتی ہے کیوں کہ یہ صرف اپنے آگے کی جانب نہایت محدود فاصلے تک ہی دیکھ سکتے ہیں، اسی لئے ان کی ساری چیخم دھاڑ ایک دوسرے کو لتاڑنے اور اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کی خواہشات کی اسیر تو ہے مگر آنے والے حالات کی گھمبیرتا کا اندازہ کرنا ان کے بس کی بات دکھائی نہیں دیتی یہ صرف اپنے خواہشات کے غلام بن کر جی رہے ہیں۔ ان کی سیاسی جنگ بھی ذاتیات کے جوہڑوں میں مینڈکوں کی طرح چھلانگیں مارنے تک ہی محدود ہے جہاں کے بدبودار ماحول نے ملکی سیاسی فضا کو تعفن زدہ کر رکھا ہے اور ہر جانب بدبودار سیاست کے بھبھوکے امڈ رہے ہیں، بقول جمال سویرا

طغیانیوں میں پار لگاتے تو بات تھی

یہ کیسے ناخدا تھے جو کشتی ڈبو گئے

بعض سیاسی رہنماء تو خود بھی جس طرح اظہار خیال فرماتے ہیں ان کی دیکھا دیکھی ان کی جماعتوں کے بعض بھونپو اپنے لیڈروں کو خوش کرنے میں ان سے بھی دو چار قدم کیا میلوں آگے نظر آتے ہیں اور بعض تو خود منصف بن کر فیصلے بھی صادر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔وہ جو کہا گیا ہے کہ تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں تو اس پر کوئی سنجیدہ طرز فکر دکھائی نہیں دیتا حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس موقع پر تمام تر سیاسی اختلافات ایک طرف رکھ کر سر جوڑ کر بیٹھا جائے اور امریکی صدر کی دھمکیوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوئی حکمت عملی اختیار کرنے کی سوچ بچار کی جائے۔ کیا حکومت اور کیا حزب اختلاف، یہاں تک کہ دوسری سیاسی قیادت اور ملک میں موجود صاحب الرائے افراد سے مکالمے کی تدبیر کی جائے، آراء اکٹھی کی جائیں اور حالات سے نبٹنے کیلئے درست سمت کا تعین کیا جائے، جو فرض ہماری وزارت خارجہ کا تھا، اس کے بجائے آرمی چیف نے اگرچہ بروقت اور نہایت مسکت جواب دیدیا ہے، تاہم اگر یہی یا اس سے ملتا جلتا موقف وزیراعظم کی جانب سے آتا تو اس کا عالمی سطح پر زیادہ اہمیت ہوتی مگر افسوس کہ ہم تو آپس میں الجھے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں ہمارا ازلی دشمن بھارت یقیناً خوش ہو رہا ہوگا کہ امریکہ نے افغانستان میں اسے پاکستان کے خلاف اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنے کی کھلی چھوٹ دیدی ہے اور وہ کسی نئے کلبھوشن یادو کی تیاری میں جت گیا ہوگا۔

پتوں کا رنگ خوف سے پہلے ہی زرد تھا

ظالم ہوا کے ہاتھ میں شہنائی آگئی

متعلقہ خبریں