Daily Mashriq


تہ ووایہ چی زہ وو ایم

تہ ووایہ چی زہ وو ایم

کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا۔ چلو بتلا ہی دیتے ہیں۔ ابھی کل پرسوں ہمارے دوست اور ہمسایہ کالم نگار مشتاق شباب صاحب کی ایک نہایت ہی پر زور تحریر نظر سے گزری۔ جس میں انہوں نے باقاعدہ براہ راست مخاطب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات حضرت عنایت اللہ خان دام اقبال کی خدمت میں پانی کے بلوں کی تاخیر سے تقسیم اور ان میں بے تحاشہ اضافہ پر کچھ معروضات پیش کی تھیں۔ ہم سمجھتے ہیں ایران و توران کے مسائل' ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی اور تھپکی' پانامہ اور ڈان نامہ کے انکشافات پر حاشیہ آرائی کی بجائے سماجی مسائل پر زیادہ توجہ دی جائے تو اس سے عوام کو زیادہ فائدہ پہنچے گا۔ خیر ہم دوسروں کو اپنی مرضی کے موضوعات پر لکھنے کا پابند تو نہیں کرسکتے۔ہمارا تو اپنے قلم پر اختیار ہے۔ وہ تحریریں جن پر گلی کوچوں کے مسائل پر بات کی جائے وہ عوام کے دل پر لگتی ہیں اور وہ اسے زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں' حکمرانوں کو بھی معلوم ہوجاتا ہے اب ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ شباب صاحب کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوگی یا پھر اس کا کوئی نتیجہ بھی برآمد ہوگا یہ تو آگے جاکر پتہ لگے گا۔ کرپشن کب ختم ہوگی؟ اس کا مستقبل قریب میں کوئی آثار نظر نہیں آتے شنیدہے کہ اب آئین کی 62'63 والی شقوں کو نکالنے کے لئے منصوبہ بندی ہو رہی ہے جس سے کرپشن کو قانونی تحفظ مل جائے گا۔ دیکھتے ہیں پھر کرپشن کیسے ختم ہوتی ہے۔ دوسری جانب تبدیلی کا نعرہ بجائے خود بڑا دلکش نظر آتا ہے۔ محکمہ مال' بجلی ' صحت ' پولیس اور تعلیم کے شعبوں میں واضح تبدیلی کے دعوے بھی کئے جا رہے ہیں۔ کچھ بہتری بھی آئی ہوگی لیکن ہم اسے انقلابی تبدیلی کا نام ہر گز نہیں دے سکتے۔ ہمارے ایک دوست کہتے ہیں اگر آپ اپنی بے عزتی خراب کرنا چاہتے ہیں تو ایک سائیکل کی چوری کی ایف آئی آر درج کرنے تھانے چلے جائیں رجسٹری یا انتقال کے اندراج کے لئے پٹوار خانے جانا پڑے' بجلی یا گیس کی درستگی کی ضرورت پیش آجائے' ہسپتال جانے کا اتفاق ہو تو پھر آپ کو تبدیلی کی اصلیت اور حقیقت کے معنی معلوم ہو جائیں گے۔ شباب صاحب نے جس دلسوزی کے ساتھ اپنے علاقے میں پانی کے بلوں کی تقسیم کی بد انتظامی کا ذکر کیا ہے یقین جانئے یہ پشاور کی گلبہار کالونی تک محدود نہیں ہم بھی اس کے نشانے پر ہیں۔ ابھی گزشتہ ماہ کی بات ہے بجلی کا بل مقررہ دنوں میں نہیں ملا' تشویش ہوئی تو محلے والوں سے پوچھا' ان تک بھی نہیں پہنچے تھے۔ سوچ رہے تھے پرانا بل لے کر ریونیو آفس جا کر نیا بنوا لائیں۔ ایک گاونڈی سے کہا ' تو بولے ریونیو آفس جا کر اپنی بے عزتی خراب نہ کریں۔ مسجد کی چٹائی پر بکھرے پڑے ہیں ان میں جا کر تلاش کیجئے۔ ہماری عادت ہے کہ ہمیں جس دن کوئی یوٹیلٹی بل ملے ہم اسی روز جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بنک والے ہم سے پوچھتے بھی ہیں' مشرہ پتا ڈیرہ تادی وی۔ ہمیں بڑی جلدی ہوتی ہے۔ 

ہم انہیں بتاتے ہیں کہ خزانے پر اربوں روپے کا گردشی قرضہ واجب الادا ہے ہم اس میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ پہلے بجلی کے بلوں کی تقسیم کا کام ٹھیکے پر دیاگیا تھا چلئے وہ بھی قبول تھا' حالانکہ تقسیم کنندہ اسے دست بدست تقسیم کرنے کی بجائے دروازے پر پھینک کر چلا جاتا جسے کبھی ہوا اڑا کر لے جاتی یا پھر وہ نالی میں پڑا ملتا۔ اب یہ ٹھیکیداری سسٹم ختم کرکے بلوں کی تقسیم کا کام بھی خدا کے حوالے کردیا ہے۔ ہمارے علامہ خلیل قریشی نے اس طریقہ کار کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ان کے خیال میں ہم جیسے گنڈہ دار نمازیوں کو بجلی والوں نے پانچ وقتہ نمازی بنانے کی اچھی کوشش کی ہے۔ اب ہمیں بجلی کا بل ڈھونڈنے مسجد آنا پڑے گا اور اس طرح نمازیں بھی پڑھنے لگیں گے۔ بجلی والوں نے اللہ کو یاد کرنے کا جو طریقہ کار نکالا ہے ہمیں شکایت کی بجائے ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ بلوں کی تاخیر سے وصولی تو الگ ایک مسئلہ ہے۔ ایک دوسری ہولناک خبر ٹی وی پر چل رہی تھی آپ نے بھی سنی ہوگی' یقین جانئے اس خبر سے تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ صحت کے کسی عالمی ادارے نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے اسی فیصد لوگ آلودہ پانی پیتے ہیں۔ آلودہ سے ان کی مراد غذائیت سے بھرپور اور کوئی حیاتین ملا پانی نہیں بلکہ آرسینک کے نام کا ایک زہر پانی میں شامل ہو رہا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو جیسے کہ ہم بار بار عرض کرچکے ہیں پانامہ اور ڈان نامہ لیکس کی وضاحتوں سے فراغت نہیں ملتی تو عوامی بہبود کے کاموں پر وہ کیا توجہ دیں گے۔ سابق وزیر اعظم پہلے نا اہلی سے بچنے کے لئے فکر مند تھے اب ان کی باقیات ان کو معصوم ثابت کرنے کی مہم میں مصروف ہوگئے ہیں۔ اپوزیشن کا اپنا ایک ایجنڈا ہے جو انہوں نے آئندہ الیکشن میں کامیابی کے بعد عمل درآمد کے لئے سنبھال رکھا ہے۔ اگر پارلیمان میں ایسے مسائل پر بحث ہوتی تو آج ملک کی اسی فیصد آبادی زہر آلود پانی پینے پر مجبور نہ ہوتی۔ بتاتے چلیں باقی اسی فیصد لوگ منرل واٹر استعمال کرتے پارلیمان میں بیٹھے ہیں۔ آج کل ایک اور قضیہ چل پڑا ہے اور وہ ڈینگی مچھر کا تنازعہ ہے۔ ظاہر ہے ڈینگی وائرس اجازت لے کر حملہ آور تو نہیں ہوا مگر اس کے خاتمے کیلئے فی سبیل اللہ آنے والوں سے اجازت لینے کے لئے کہا گیا ہے۔ ہم تو خیر ایسے خوش قسمت نہیں کہ زہر آلود پانی پینے والوں میں شامل نہ ہوں لطف کی بات یہ ہے کہ ہم سے اس زہر آلود پانی کی فراہمی کے بل بھی لئے جاتے ہیں۔ اس تہ ووایہ چی زہ ووایم۔

متعلقہ خبریں