Daily Mashriq


پشاور کا مختصر سا تعارف

پشاور کا مختصر سا تعارف

تبدیلی نے ہر حال میں آنا ہوتا ہے لوگ تبدیل ہوتے ہیں چیزیں وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی چلی جاتی ہیں آبادی بڑھتی ہے تو ضرورتیں بھی پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں لوگوں کو رہائش کے لیے مکان چاہیے سرسبز و شاداب کھیتوں پر بڑے بڑے پلازوں کی تعمیر کا عمل شروع ہوجاتا ہے یہ اور اس طرح کے دوسرے بہت سے خیالات کل پشاور شہر کی فصیل کو دیکھ کر ذہن میںآنے لگے اس فصیل کو نظریہ ضرورت کے تحت تعمیر کیا گیا تھا اب اس کی شکست و ریخت کا عمل بھی نظریہ ضرورت ہی کی وجہ سے ہے چھوٹی چھوٹی وزیری اینٹوں سے بنی ہوئی بلند و بالا مضبوط فصیل کے سائے میں بیٹھ کر ہم قہوے سے لطف اندوز ہورہے تھے دکاندار نجانے کیا باتیں کر رہا تھا لیکن ہم اپنے آس پاس کے ماحول سے بے خبر ماضی کے دھندلکوں میں مکمل طور پر کھو چکے تھے ایک زمانہ تھا جب پشاور کے گرد بنی ہوئی فصیل میں کوئی شگاف نہیں تھا لیکن آج اسے جگہ جگہ سے توڑ کر دکانیںاور مکانات بنائے جا چکے ہیں پشاور شہر پھیلتے پھیلتے بہت سی حدود پھلانگ چکا ہے آبادی کے اس سیلاب میں جہاں دوسری بہت سی چیزیں نابود ہوچکی ہیں وہاں یہ فصیل بھی شکست و ریخت کا شکار ہے کبھی کبھار دو چار اطراف سے فصیل شہر کی حفاظت اور اس کا تاریخی ورثہ ہونے کے حوالے سے چند بیانات پڑھنے کو ضرور ملتے ہیں اس کی حفاظت کے عہد و پیماں بھی کیے جاتے ہیںلیکن زمانے کی دست برد سے کون بچا ہے جو پشاور شہر کے گرد تعمیر کی یہ خوبصورت اور پروقار فصیل بچ جاتی ؟وسط ایشیاکا ایک روایتی نظریہ ہے کہ شہر کی حفاظت کے خیال سے اس کے ساتھ ہی ایک مضبوط قلعہ بھی تعمیر کیا جاتا تھا اگر شہر پر حملہ ہوجاتا اور دشمن طاقتور ہوتا تو شہر کے لوگ قلعہ بند ہوجاتے شہر کی حفاظت پر مامور فوج بھی قلعہ بند ہوکر دشمن سے اپنے بچائو کی تدابیر کرتی ! سکھوں کے دور حکومت میں اطالوی جنرل Avitabile (سکھ گورنر) جسے پشاور شہر کی آبادی عرف عام میں ابو طبیلہ کہتی تھی ! اس گورنر نے پشاور شہر کے گرد ایک کچی دیوار تعمیر کروائی تھی پھر انگریزوں کے دور حکومت میں اسی کچی دیوار کو اینٹوں سے بنی ہوئی پکی دیوار میں تبدیل کردیا گیا اسی دیوار کو فصیل شہر کہا جاتا ہے اس وقت پشاور شہر کی آبادی بھی کم تھی اور حدود اربعہ بھی!اس دیوار میں 16دروازے تعمیر کیے گئے یہ دروازے اس وقت شہر کو تین حصوں میں تقسیم کرتے تھے مشرق کی طرف اونچا میدان تھا جہاں گور کھتری کی عمارت ہے اس کے شمال مغرب کی طرف کریم پورہ اور جنوب مغرب کی طرف پیپل منڈی ہے ۔اس تاریخی پیپل کا ذکر مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر نے اپنی کتاب تزک بابری میں بھی کیا ہے اس علاقے میں چوک یادگار، گھنٹہ گھر، کریم پورہ اور ہشت نگری وغیر ہ آتے ہیں دوسرا راستہ پیپل منڈی سے شروع ہوکر یکہ توت اور گنج گیٹ کی طرف جاتا ہے چوک یادگار سے ایک راستہ اندر شہر بازار کی طرف جاتا ہے اس بازار میں مسجد مہابت خان واقع ہے یہ سارا علاقہ بھی بلندی پر واقع ہے یہ پشاور میں سونے کے کاروبار کا بہت بڑا مرکز ہے ۔ پشاور کا تیسرا بڑا ٹکڑا کوہاٹی گیٹ، قصہ خوانی بازار، جہانگیر پورہ بازارپر مشتمل ہے جہانگیر پورہ بازار سے ایک راستہ ڈبگری گیٹ کی طرف جاتا ہے درمیان میں نمکمنڈی کا علاقہ موجود ہے یہ علاقہ آج کل کڑاہی گوشت کے ہوٹلوں کی وجہ سے بڑی شہرت کا حامل ہے اس کے علاوہ یہ قیمتی پتھروں کے کاروبار کا بھی بہت بڑا مرکز ہے اب یہاں صوبائی حکومت ایک بہت بڑی فوڈ سٹریٹ بھی بنا رہی ہے پہلے یہاں اناج کی دکانیں ہوا کرتی تھیں جو اب پیپل منڈی منتقل ہوچکی ہیں اسی سے ایک راستہ سر آسیہ گیٹ، سرد چاہ گیٹ سرکی گیٹ، باجوڑی گیٹ، ڈبگری گیٹ(ڈب گر ، ڈباگری box making)کی طرف جاتا ہے ڈبگری سے آگے رام داس بازار ہے رام داس سکھوں کے دور حکومت میں خزانچی کے عہدے پر فائز تھا ۔ پشاور شہر کی فصیل میں16دروازے ہیں کچھ دروازے تو نابود ہوچکے ہیں کچھ کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے۔ ١) کابلی دروازہ ٢) دروازہ اندر شہر (آسا مائی گیٹ) ٣) کچہری دروازہ ٤) ریتی دروازہ ٥) رامپورہ گیٹ ٦) ہشتنگری دروازہ ٧) لاہوری دروازہ ٨) گنج دروازہ ٩) دروازہ یکہ توت ١٠) کوہاٹی دروازہ ١١) سرکی دروازہ ١٢) سرد چاہ گیٹ ١٣) سر آسیہ گیٹ (اسے دروازہ طبیبان بھی کہا جاتا ہے) ١٤) رام داس دروزاہ ١٥) ڈبگری دروازہ ١٦) باجوڑی دروازہ ۔ آج شہر کی حفاظت کے حوالے سے ان دروازوں کی کو ئی اہمیت نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پشاور پھیلتے پھیلتے فصیل شہر سے بہت دور جاچکا ہے ۔ مسجد مہابت خان 17th centuryمیں مغل گورنر مہابت خان نے تعمیر کروائی تھی یہ دومرتبہ پہلے شاہجہان اور پھر اورنگ زیب عالمگیر کے عہد حکومت میں پشاور کا گورنر رہا 1898 میں اندر شہر بازار میں لگنے والی خطرناک آگ نے سب کچھ جلادیا تھا لیکن مسجد مہابت خان معجزاتی طور پر محفوظ رہی سکھوں کے دور کا مشہور اطالوی جنرل Avitabile مسجد مہابت خان کے میناروں پر مجرموں کو پھانسی دیا کرتا تھا ۔ تاریخی شہر پشاور اپنے اندر ہزار ہا داستانیں لیے ہوئے ہے اس کے تاریخی ورثوں کی حفاظت کا کوئی معقول بندوبست ہونا چاہیے بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی اور پلازوں کی بھرمار نے اس کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے !۔

متعلقہ خبریں