Daily Mashriq


صوبائی حکومت کیلئے کامیابی کی کنجی

صوبائی حکومت کیلئے کامیابی کی کنجی

خیبر پختونخوا کی پندرہ رکنی کابینہ کے حلف اُٹھاتے ہی صوبے میں تحریک انصاف کے دوسرے دور حکمرانی کا آغاز ہوگیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام کا تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی جماعت کو دوسری مرتبہ حکمرانی کا حق سونپ دینا اس امر کا برملا اظہار ہے کہ صوبے کے عوام بلکہ ووٹروں کی اکثریت تحریک انصاف کی حامی ہے۔ حمایت صرف حکومت واپس دلانے کی حد تک ہی نہیں بلکہ تحریک انصاف کی صوبے میں مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عوامی اعتماد کی کیفیت اب یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں نہ صرف تحریک انصاف بلاشرکت غیرے حکمران ہے بلکہ دو تہائی اکثریت حاصل ہونے پر اسے قانون سازی میں بھی کسی جماعت کی حمایت درکار نہیں۔ اب وہ باآسانی قانون میں ترمیم کرسکتی ہے اس کی حکومت اس قدر مستحکم ہے کہ کسی جانب سے اسے خطرات نہیں، کسی اتحادی کے روٹھنے پر اسے منانا نہیں پڑے گا اور کسی کے تیور بدلنے پر محمود خان کی حکومت خطرے سے دوچار نہیں ہوگی۔ البتہ اس حکومت میں پی ٹی آئی کو اسمبلی کے اندر اتنی مشکلات نہیں ہوں گی جتنی شاید اپنی پارٹی کے اندر سب کو خوش رکھنے میں پیش آسکتی ہیں کیونکہ ہر کوئی وزارت اور عہدے کا امیدوار ہے اور ایسے میں نئے وزیراعلی کیلئے ان سب کو خوش رکھنا ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔ گزشتہ اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کے اندر ایک غیراعلانیہ فارورڈ بلاک آخر تک موجود رہا جو وقتاً فوقتاً حکومت کو ٹف ٹائم دیتا رہا۔ تاہم پرویز خٹک پارلیمانی سیاست کے ماہر ہونے کی حیثیت سے ان مشکلات پر قابو پاتے رہے ہیں۔ مرکز میں بھی حکومت اپنی ہے راوی چین ہی چین لکھتا ہے لیکن چونکہ پی ٹی آئی صرف حکومت کرنے برسر اقتدار نہیں آئی بلکہ عوام کو جو خواب ان کی قیادت نے دکھائے تھے اب ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے اور عوام کے خوابوں کی تعبیر دینے کا وقت ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف تعداد میں بہت کم ضرور ہے اتنی کم کہ ریکوزیشن کرکے اسمبلی کا اجلاس ہی بلا سکے لیکن حزب اختلاف کمزور ہرگز نہیں کیونکہ اس میں ایسے جغادری سیاستدان موجود ہیں جن کو صوبہ چلانے کا پانچ سالہ تجربہ بھی ہے اور مختلف وزارتوں کا بھی تجربہ رکھنے والے موجود ہیں۔ قومی اور صوبائی سطح کے دونوں قسم کی سیاست سے واقف حزب اختلاف اسمبلی میں تحریک انصاف کو تگنی کا ناچ نچانے میں باآسانی کامیاب ہوگی لیکن لگتا یہ ہے کہ صوبے کی روایات کی پاسداری میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ان کو اتنی عزت اور فنڈز دیں گے کہ ان کو اطمینان ہو کہ حکومت کیلئے بلاوجہ رکاوٹیں کھڑی کرنا عوامی مفاد کا تقاضا نہیں۔ ویسے بھی لگتا یہی ہے کہ حزب اختلاف کا سارا زور قومی اسمبلی میں صرف ہوگا اور خیبر پختونخوا تک سخت حزب اختلاف کی نوبت ہی نہ آئے گی۔ البتہ پنجاب اسمبلی میں بلا کارن پڑنے کے امکانات ہیں۔ ساون میں ہرا ہی ہرا دکھتا ہے اس تمام صورتحال کے باوجود صوبے میں موجودہ حکومت کو کسی بھی حکومت سے زیادہ اس سے وابستہ توقعات کے باعث سخت چنیلجز ضرور درپیش ہوں گے۔ بھاری اکثریت کیساتھ اندرونی وبیرونی دونوں مسائل کا وزن بھی بڑھ جاتا ہے۔ کابینہ کی تشکیل کیساتھ ہی تحریک انصاف میں اندرونی احساسات کی بناء پر تقسیم کی صورتحال اور گروپ بندی روایتی سیاست کا معمول کا حصہ ہوگا۔ یہ صرف موجودہ حکومت ہی کا نہیں ہر حکمران جماعت کو اس سے واسطہ چلا آرہا ہے۔ تاہم ہمارے تئیں اس سے زیادہ بڑا چیلنج عوام اور عمران خان کی توقعات پر وزیراعلیٰ اور اس کی کابینہ کو اسلئے بھی پورا اُترنے کے کڑے امتحان کا سامنا ہوگا کہ عمران خان جب بھی محسوس کریں گے اور جب بھی چاہیں گے ان کیلئے خیبر پختونخوا میں عہدوں کی تبدیلی کسی مشکل کا باعث نہیں ہوگی۔ موجودہ حکومت کو اسلئے پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور عوام کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کرنی ہوگی بصورت دیگر پہلی تبدیلی اسی صوبے میں ہونا غیر متوقع نہ ہوگا اس مقصد کیلئے وزیراعلیٰ محمود خان اور ان کی ٹیم کیلئے دن رات کام کرنا کافی نہ ہوگا بلکہ ان کو اس قسم کی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جسے تبدیلی سے تعبیر کیا جا سکے۔ بلاشبہ آسانیوں کیساتھ مشکلات کا ایک پہاڑ سامنے ہے جسے سر کئے بغیر بقاء مشکل میں ہوگی۔ فاٹا کا انضمام تو کر دیا گیا ہے لیکن صوبے کے پاس مالی وسائل نہیں ہیں اور ایسے میں ترقیاتی کاموں کیلئے اربوں روپے کا انتظام کرنا حکومت کیلئے بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ خیبر پختوخوا اور مرکز میں پہلی مرتبہ پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی ہے لہٰذا یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سابق قبائلی علاقوں کے تمام مسائل بغیر کسی رکاوٹ کے حل ہوں گے لیکن ہر سال فاٹا کے پسماندہ علاقوں کیلئے وعدے کے مطابق سو ارب روپے کے فنڈز کا بندوبست کرنا شاید ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ پشاور میں جدید بس سروس بی آر ٹی منصوبہ تحریک انصاف کے سابق دور حکومت کے آخری چھ ماہ میں شروع کیا گیا تھا تاہم وعدے کے مطابق حکومت اس کو چھ ماہ میں مکمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ابتدا میں اس منصوبے کا تخمینہ49ارب روپے لگایا گیا تھا لیکن اس کے ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں کی وجہ سے نہ صرف یہ پراجیکٹ غیرضروری طوالت کا شکار ہوا بلکہ اس کا تخمینہ اب بڑھ کر تقریباً70ارب روپے کے قریب تک پہنچ گیا ہے۔ اربوں روپے کے اس منصوبے میں تعمیراتی کمپنی کے انتخاب اور معیار پر سنگین سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے حال ہی میں بی آر ٹی منصوبے کا ریکارڈ قبضے میں لیکر اس کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا بڑا منصوبہ سوات موٹروے بھی مقررہ وقت پر مکمل نہیں کیا جا سکا جس پر سابق صوبائی حکومت پر کڑی تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔ نئی حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ان منصوبوں کو جلد ازجلد پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔ نئی صوبائی حکومت کو مرکز کی جانب سے ایک کروڑ نوکریوں اور50لاکھ سستے مکانات کی تعمیر میں سے کتنا حصہ ملے گا۔ اس میں سے زیادہ سے زیادہ حصے کے حصول کی کوشش میں کتنی کامیابی ملتی ہے اس کا انحصار صوبائی حکومت کی قیادت اور ٹیم پر ہے۔ ہمارے تئیں اس ضمن میں معمول کی مساعی سے زیادہ کی اسلئے گنجائش نہیں کہ صوبے کی قیادت مرکزی قیادت سے اپنے مشکلات کا ازالہ کرنے کی درخواست تو کرسکتی ہے منوا نہیں سکتی۔ صوبے کی قیادت کے پاس ایک ایسا جائز آئینی اور قانونی مطالبہ ضرور ہے جسے مرکزی حکومت سے منوانے میں کامیابی ملے تو صوبے کی حزب اختلاف سمیت عوام من حیث المجموع اس کا خیر مقدم کریں گے اور اس کا اچھا تاثر ہوگا وہ ہے بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات کی وصولی۔ اس نکتے پر وزیراعلیٰ کو حزب اختلاف کی بھی بھرپور تائید حاصل رہے گی کیا ہی اچھا ہو کہ خیبر پختونخوا کے آئندہ اجلاس ہی میں باہمی مشاورت سے اس کا ایک مرتبہ پھر متفقہ طور پر مطالبہ کرکے مرکزکو اخلاقی طور پر اس طرف متوجہ کیا جائے اور وزیراعظم عمران خان سے اس قرض کی ادائیگی کے ذریعے خیبر پختونخوا کے عوام کا حق دینے میں خصوصی کردار کا مطالبہ کیا جائے۔ بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات ملنے کی صورت میں حکومت ہی کی ترجیحات کیلئے حزب اختلاف کی ترجیحات، ترقیاتی کاموں کی تکمیل اور عوام کے مسائل ومشکلات کا بڑی حد تک حل م

متعلقہ خبریں