Daily Mashriq


وزارت داخلہ کے احسن اقدامات

وزارت داخلہ کے احسن اقدامات

حکومت کی جانب سے ایئر پورٹس پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے وی آئی پیز کو پروٹوکول فراہم کرنے پر پابندی عائدکرنا احسن اقدام ہے جس کو ممکن بنانے میں خود حکمرانوں کا پروٹوکول لینے سے گریز ممد ومعاون ہوگا۔ اس کے مظاہر ایئر پورٹس پر نظر بھی آنے لگے ہیں جس سے وی آئی پی کلچر کو یقینا دھچکا لگے گا۔ گزشتہ حکومت نے بھی ایئر پورٹ پر پروٹوکول کی فراہمی پر پابندی عائد کی تھی تاہم وہ محض دعوے ثابت ہوئے تھے۔ وی آئی پی پروٹوکول عمومی طور پر سیاستدانوں، قانون سازوں، سینئر بیوروکریٹس، جج، عسکری اداروں کے افسران اور صحافیوں کو ملتا ہے جس پر اب نظرثانی کی گئی ہے تو متعلقین کو بھی اس کا احترام کرنا چاہئے۔ ایف آئی اے کو یہ بھی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ بیرون ملک جانے والے مسافروں کو ہراساں نہ کریں۔ اس ہدایت پر عملدرآمد کی اسلئے کڑی نگرانی کی ضرورت ہوگی کیونکہ عموماً مسافروں کو تنگ کرنے کی وجہ کچھ نہ کچھ بٹورنے کیلئے ہوتا ہے جس کی باآسانی کیمرے کی آنکھ سے نگرانی تو ممکن ہے مگر ملی بھگت کے باعث ایسا نہیں ہوتا۔ جن مسافروں کے پاس قانونی اور ضروری دستاویزات ہوں ان کو روکنے اور ہراساں کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ اس کی روک تھام کیلئے موقع پر کارروائی کیلئے اعلیٰ افسر سے شکایت کیلئے فون نمبر درج کئے جائیں اور افسران بروقت وبرموقع شکایات نمٹانے میں سنجیدگی اختیار کریں تو بڑی حد تک مسافروں کو ہراساں کرنے کے عمل کا تدارک ہوگا۔

بیوروکریسی سے اُلجھنے سے بہتری نہیں آتی

وفاقی وزیر ریلوے کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں سابق دور میں ریلوے کی آمدنی میں اضافے کی بات پر سیخ پا ہونا اور ’’شٹ اپ‘‘ وجواباً ’’یو شٹ اپ‘‘ جیسے مکالمات کی ادائیگی سینئر اور سول سرونٹ کا ریلوے کے وزیر کے ماتحت کام کرنے سے انکار نہ تو نئی حکومت کیلئے اچھا شگون ہے اور نہ ہی اس سے ریلوے کی ترقی ممکن ہے۔ وزیراعظم نے سول سرونٹس کو عزت دینے کا وعدہ کیا تھا بہرحال وزیر ہو یا سول سرونٹ قانون کے مطابق چلنا ہر دو کی ذمہ داری ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے جس طرح کا تاثر دے رہے ہیں کہ وہ چند ہی دنوں میں خسارے کا شکار ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنائیں گے یہ سرے سے ممکن نہیں۔ اگر وہ اس کی واقعی صلاحیت کے حامل ہوتے تو قبل ازیں جب ریلوے کی وزارت ان کے پاس تھی تو وہ ایسا کیوں نہ کر پائے۔ ریلوے میں آرام حرام یا چھٹی کی گنجائش نہیں جیسے لفاضی سے بہتری نہیں آئے گی بلکہ پوری ٹیم کو ساتھ لیکر ثمرآور کوششوں سے ریلوے کے خسارے میں کمی لانا ممکن ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ بیوروکریسی سے اُلجھنے کی بجائے باہم معاملات سلجھائے جائیں۔ سابق ادوار میں ہونے والے اچھے کاموں کی تعریف اور خراب کارکردگی پر تنقید ہونی چاہئے اور مل جل کر خامیوں‘ خرابیوں اور نقائص دور کرنے کی سعی کی جائے۔

متعلقہ خبریں