Daily Mashriq


عدل اور جمہوریت

عدل اور جمہوریت

ایک زمانہ تھا جب بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا امریکہ میں داخلہ ممنوع تھا۔ انہیں امریکہ میں احمدآباد یا گجرات کا بوچڑ کہا جاتا تھا کہ انہوں نے وہاں مسلمان اقلیت کے قتل عام کا بندوبست کیا تھا اور اس کی نگرانی کی تھی۔ پھر یہ ہوا کہ نریندر مودی بھارت کے بھاری اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ اب ان کا امریکہ میں گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ امریکی جمہوریت کے سرخیل بارک اوباما کا پہلا فیصلہ غلط تھا یا دوسرا فیصلہ غلط تھا؟ لیکن اس بارے میں امریکی سینیٹ میں اگر کوئی بحث ہوئی تو وہ اس قلم کیش کی دسترس میں نہیں آئی۔ نریندر مودی کے امریکہ میں پرجوش خیر مقدم کا جواز یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ بھارت کے ووٹروں کی دو تہائی اکثریت نے انہیں اپنا لیڈر منتخب کر لیا تھا اس لئے امریکہ نے ان کیلئے دیدۂ ودل فرشِ راہ کر دئیے۔ انسانی جان کے احترام کا اصول عالمگیر ہے۔ اگر عالمی سطح پر نریندر مودی کی مسلمان اقلیت کے قتل عام کے باوجود ان کی بھارتی ووٹروں کی اکثریت کی بنا پر قابلِ ستائش سمجھا جاتا تو امریکہ میں ان کے پرجوش استقبال کا فیصلہ جمہوری سمجھا جاتا۔ جہاں تک بھارت کی جمہوریت کی بات ہے یہ ایک ایسے معاشرے کی اجتماعیت ہے جس کے ضمیر اجتماعی نے انسانوں کو ذات پات میں تقسیم کیا یعنی بعض انسان ہمیشہ کیلئے کمتر انسان ہوں گے اور بعض اعلیٰ تر ہوں گے۔ جس معاشرے میں عورت کا کوئی اثاثہ شمار نہیں ہوتا اور جسے اس کے شوہر کے مر جانے پر بے سہارا ہونے کے بعد شوہر کیساتھ زندہ جلا دینا نہ صرف جائز ہے بلکہ مذہبی اعتبار سے مستحسن ہے، اس معاشرے کے اکثریتی فیصلے کو جمہوری فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر دنیا انسانی جان کے احترام کے عالمگیر اصول کو تج کر کے نریندر مودی کی نمائندہ حیثیت کو تسلیم کرتی جو حد امکان میں نہیں ہے تو اور بات ہوتی۔بھارت کی سپریم کورٹ کی عمارت میں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے وزیر قانون نے کہا کہ عدالتوں کو حکمرانی کے معاملات میں دخل نہیں دینا چاہئے‘ یہ سیاستدانوں کا کام ہے۔ سامعین میں بھارت کی سپریم کورٹ کے جج حضرات بھی شامل تھے۔ دو ایک روز بعد بھارت کے آٹھ کروڑ بے چھت لوگوں کو چھت فراہم کرنے کے منصوبے میں پیشرفت کے بارے میں ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ کے ایک جج نے سوال کیا کہ اگر حکومت کی کارکردگی کہیں نظر نہ آئے تو کیا کیا جانا چاہئے۔ لاکھوں لوگوں کو چھت فراہمی کے ایک منصوبے کی سماعت ہو رہی تھی جس میں پانچ سال سے کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔ سپریم کورٹ نے تمام صوبائی حکومتوں اور ضلعی افسروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اس معاملے میں پیشرفت سے سپریم کورٹ کو آگاہ کریں۔بھارتی سپریم کورٹ کا یہ سوال قابلِ غور ہے کہ اگر حکومت اپنے فرائض بجا لاتی ہوئی نظر نہ آئے تو کیا کیا جائے۔ ایسا ہی ایک سوال پاکستان میں پچھلے دنوں اٹھایا گیا جب عدالت کے پانچ ججوں کا ’’بیس کروڑ‘‘ عوام کے مینڈیٹ سے کیا گیا اور عدل کے تقاضوں کے سامنے جمہوریت کو لاکھڑا کیا گیا۔ لیکن عدل وہ بنیادی قدر ہے جس کے بغیر معاشرے نہیں پنپ سکتے۔ جب جمہوری حکومتوں کا رواج نہیں تھا اور بادشاہ حکمرانی کرتے تھے ان زمانوں میں بھی جن بادشاہوں نے عدل قائم کیا ان کی بادشاہتیں تادیر قائم رہیں، جب بادشاہتوں میں عدل کمزور ہو گیا تو نئے بادشاہ آ گئے۔ انسانوں نے بڑے کٹھن ادوار کے بعد جمہوریت اختیار کی جس کی وجہ یہ تھی کہ بادشاہتیں عدل قائم کرنے میں ناکام رہی تھیں کیونکہ بادشاہتوں میں توارث کے باعث اور ایک کے بعد نئے جابر کی حکومت قائم ہونے کے باعث عدل قائم نہیں رہ سکتا تھا۔ جمہوری حکومتوں کے قیام کی وجہ عدل قائم کرنے کی خواہش ہے۔ لہٰذا عدل ہی انسانی اجتماعیت کی اصل قوت ہے۔ کوئی جمہوریت عدل کے بغیر تادیر قائم نہیں رہ سکتی۔ عدل کے بغیر جمہوریت گروہی استبداد ہے۔ انسانوں کے گروہوں نے جمہوریت کے نام پر استبداد قائم کرنے کی کوشش کی ہے جیسا کہ بھارت میں نریندر مودی کی ہندوتوا کی حکمرانی ہے اور جیسے کہ امریکہ کے صدر ٹرمپ یہ دھمکی دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ اگر ان کیخلاف مواخذہ کی قانونی کارروائی کی گئی تو مارکیٹ کریش ہو جائے گی۔

پاکستان میں عدل ومساوات کی پذیرائی ایک تو انسانی تاریخ کے تناظر کا حصہ ہے، دوسرے یہ پاکستان کے مسلمانوں کے دین کی ہدایت ہے۔ عدل اور مساوات دین اسلام کی اعلیٰ اقدار میں شامل ہیں۔ ان اعلیٰ اقدار کو تاریخ کے ہر مرحلے میں سرخروئی حاصل ہوئی ہے اور آج جب پاکستان ہر شعبے میں کمزور نظر آ رہا ہے انہی اقدار کی پاسداری پاکستان کو سرخرو اور باوقار کرے گی۔ اس وقت فوری مسائل شدت سے ابھرتے ہوئے نظر آتے ہیں، قرضوں کی ادائیگی کا مسئلہ فوری ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس مدد کیلئے نہ جانا پڑے، امید ہے کامیابی ہوگی اور اس کے بعد مزید اقساط کی ادائیگی کی تیاری کرنی ہو گی۔ اس کیلئے محاصل کی وصولی کا نظام بہتر بنانا پڑے گا۔ عدل کا تقاضا ہوگا کہ جس کی جتنی ذمہ داری بنتی ہے اتنے ہی محاصل اس سے حاصل کئے جائیں اور عوام کو جی ایس ٹی جیسے ٹیکسوں سے نجات دلانے کی کوشش کی جائے۔ برآمدات بڑھانے کیلئے پیداواری لاگت کم کرنے کی خاطر سبسڈی دینی ہوگی۔ پانی کیلئے ڈیم بھی بنانے ہوں گے اور پانیوںکو آرسینک سے محفوظ کرنے کیلئے پانیوں کو انسانوں اور کارخانوں کے فضلے سے بچانا ہوگا۔ تعلیم کے معیار کو بلند کرنا ہوگا اور تعلیم سب کیلئے کے تقاضے پر پورا اُترنا ہوگا۔ اس قوم میں قربانی کی بڑی صلاحیت ہے۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں کے لوگ خیرات پر سب سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ حکمران (محض سیاسی رہنما نہیں) سادگی اختیار کرتے نظر آئیں گے تو پاکستان کے لوگ بہت کچھ برداشت کرنے پر تیار ہوں گے‘ بنیادی شرط یہ ہے کہ عدل ومساوات کی اقدار کا احترام نظر آئے۔

متعلقہ خبریں