Daily Mashriq


پانی پت کی ساتویں جنگ

پانی پت کی ساتویں جنگ

میڈیا پر پچھلے چند دنوں سے پانی پت کی ساتویں لڑائی جاری ہے۔ تحریک انصاف واتحادی ایک طرف ہیں دوسری طرف جیالے اور نونی بھی محض تحریک انصاف کی مخالفت میں اس شخص کی حمایت کر رہے ہیں جس کے بارے میں وہ سب کل تک کہتے تھے کہ ’’وہ‘‘ ریاستی مقتدرہ کا میڈیا منیجر ہے۔ رجعت پسند ہے‘ غیر ریاستی لشکروں کا طرفدار بھی۔ یہ جنگ ایک رپورٹ سے شروع ہوئی۔ بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ایوان وزیراعظم میں اپنا خرچہ خود اٹھاتے تھے۔ چند رسیدات اور چیکس کی فوٹو اسٹیٹ دعوے کے حق میں پیش کی گئیں۔ اس دعوے اور مالیاتی گوشوارے کی آڑ میں عمران خان پر تنقید ہوئی۔ اس کے بعد کیا ہوا اور ہو رہا ہے اس بارے فقط یہی عرض کروں گا، اچھا نہیں ہو رہا۔ انصاف پسندوں کے معتوب ٹھہرے اخبار نویس کے حق میں سوشل میڈیا پر چند سطور رقم کیں جواب آں غزل میں ٹھہری۔ دا درے اور فوک میوزک سنا۔ میں برادرم سلیم صافی کا وکیل صفائی ہوں نا تحریک انصاف کا میڈیا ترجمان۔ اخبار نویس کی حیثیت سے میری رائے یہ ہے کہ صحافی دوست نے خبر دیتے وقت یہ تاثر دیا کہ نواز شریف اپنے اخراجات بطور وزیراعظم خود برداشت کرتے تھے حالانکہ یہ غلط ہے۔ 2013ء سے 2017ء تک کے وفاقی بجٹس کی تفصیلات ریکارڈ پر ہیں۔ ایوان وزیراعظم کے مجموعی اخراجات کی سالانہ منظوری بجٹ کا حصہ ہوتی ہے۔ جناب نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کے چار برسوں میں ایوان وزیراعظم اور پنجاب ہاؤس میں چند گھریلو تقریبات منعقد کیں۔ نواسی کی سالگرہ بھی ایسی ہی ایک تقریب تھی۔ ان چند گھریلو تقریبات کے بلز اگر انہوں نے ادا کئے تو یہ احسان عظیم ہرگز نہیں۔ انہوں نے سرکاری خرچے پر چار سالوں کے دوران ملکی وغیر ملکی دورے فرمائے۔ صوابدیدی اختیارات والا بجٹ استعمال کیا۔ کیا انہوں نے غیر ملکی نجی دوروں‘ عمروں‘ رمضان المبارک میں خصوصاً حرمین جانے اور چار سال میں لندن کے 7نجی دوروں کے اخراجات بھی ادا کئے؟سادہ سا جواب یہ ہے کہ جی نہیں ان کا قیام وطعام ملکی خزانے کی ذمہ داری تھی وہ اپنے لئے مختص جہاز میں سفر کرتے یا بزنس کلاس میں ادائیگی کا بوجھ تو قومی خزانے پر تھا۔ ایک وہ ہی نہیں ماضی کے سارے وزرائے اعظم پر سرکاری اخراجات ہوئے اور یہ ریکارڈ پر ہیں۔ 84کروڑ روپے سے زیادہ رقم ان کی جاگیر جاتی امراء پر سرکاری خزانے سے خرچ ہوئی کیونکہ اسے وزیراعظم ہاؤس کا درجہ حاصل تھا۔ حفاظتی سیکورٹی کے نام پر وہاں جو کچھ نصب ہوا کیا وہ واپس سرکار کو مل گیا؟ جی نہیں‘ یاد رکھئے 84کروڑ 4 سالوں میں خرچ ہوئے اور یہ رقم بھاری بھر کم ان سیکورٹی اخراجات کے علاوہ ہے جو پنجاب حکومت نے نواز شریف کی منصب سے رخصتی کے بعد جاتی امراء کو وزیراعلیٰ ہاؤس کا درجہ دیکر کئے یا پھر 2008ء سے 2013ء کے درمیان جاتی امراء کے وزیراعلیٰ ہاؤس کا درجہ دینے پر ان پانچ برسوں میں ہوئے۔ ہمارے صحافی دوست نے آدھی بات کرنا کیوں ضروری سمجھا؟ یہ بذات خود ایک سوال ہے۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اہل صحافت کا فرض ہے کہ خبر اور رپورٹ ہر دو سیاق وسباق کے بغیر دینے سے گریز کریں۔ کم ازکم اپنے صحافتی تجربے کی روشنی میں مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہمارے صحافی دوست نے نواز لیگ اور نواز شریف دونوں کو سیاسی فائدہ پہنچانے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں ان کے میڈیا مالکان کا شریف برادران سے تعلق شامل تھا یا تحریک انصاف سے ان کی ذاتی نفرت کا عنصر شامل۔ اس کی وضاحت وہی کر سکتے ہیں۔ البتہ ان کی رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جنگ میں گھڑے گئے لطائف اور ایجاد کردہ گالیاں دونوں تکلیف دہ ہیں۔تحریک انصاف کے دوست ناراض نہ ہوں تو وہ اپنے ہمنوا ایک اینکر کے چند برسوں میں ارب پتی ہو جانے کی کہانی بارے بھی کبھی تحقیق کر لیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ تحریک انصاف یا کسی اور سیاسی ومذہبی گروہ کے لوگوں کا کسی صحافی یا تجزیہ نگار سے اختلاف ہوتا ہے تو وہ اہل صحافت کو منہ بھر کے گالیاں دینے لگتے ہیں۔ ہمارے اس دوست کیساتھ بھی پچھلے چند دنوں سے جو ہو رہا ہے انہوں نے اس کا ذمہ دار براہ راست عمران خان کو قرار دیا۔ ضروری نہیں کہ کسی جماعت کے کارکنوں کی بے لگامی میں قیادت اور مالکان بھی ذاتی طور پر شامل ہوں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ فقط پیپلز پارٹی اور اے این پی دو جماعتیں ہیں جو اختلاف‘ تنقید پر تو مکالمہ کرتی ہی ہیں اگر کبھی کوئی ذاتی دشنام پر اترے تو بھی شائستہ انداز میں مؤقف دیتے ہیں۔ تحریک انصاف کے دوستوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ گالم گلوچ سے انہیں فائدہ نہیں ہوتا نہ یہ رویہ درست ہے کہ وہ تنقید کرنے والوں سے سوال کریں کہ پی پی پی اور نواز دور میں آپ کہاں تھے۔ وہ دونوں ادوار اگر کفر وشرک سے بدتر تھے تو ان دونوں ادوار کے درجنوں لاڈلے تحریک انصاف میں کیا کر رہے ہیں؟ لمحہ بھر کیلئے اگر وہ صرف اپنی وفاقی کابینہ پر نگاہ ڈال لیں تو انہیں یاد آجائے گا کہ آج کا کونسا انصافی وزیر چند سال بلکہ کچھ تو چند ماہ قبل کہاں تھے۔ پاکستانی سیاست اور نظام حکومت کو اشرافیہ کے بالادست طبقات کی رکھیل ہی رہنا ہے۔ تبدیلی انقلاب کی متقاضی ہے اور انقلاب ابھی صدی بھر کی مسافت پر ہے۔ یہاں یہ بھی عرض کر دینا ضروری ہے کہ جس کرپشن کیخلاف آپ نے 22سال سے جہاد کیا اس سے کرپشن کے چند تابندہ کردار اب وفاقی وزیر ہیں۔ براہ کرم شوق جہاد ان کرپٹ لوگوں کیخلاف پورا کیجئے اور قیادت سے سوال کیجئے کہ کرپٹ لوگ وزیر ومشیر اور گورنر کیوں مقرر کئے گئے؟

متعلقہ خبریں