Daily Mashriq


صدارتی انتخاب ، اپوزیشن میں اتفاق رائے کا فقدان

صدارتی انتخاب ، اپوزیشن میں اتفاق رائے کا فقدان

یادش بخیر، جنرل مشرف کے دور میں ہوئے پہلے انتخابات کے دوران بعض مقاصد کیلئے ایک اتحاد تشکیل دیا گیا تھا ، جسے متحدہ مجلس عمل کا نام دیا گیا، اس اتحاد میں ایسی ایسی جماعتیں شامل تھیں جن کے قائدین کے بارے میں یہاں تک مشہور تھا کہ وہ مسلکی لحاظ سے ایک صف میں کھڑے ہونے کو بھی تیار نہیں ہیں مگر اس وقت کی عالمی ضرورتوں نے ان سے یہ نا ممکن کام بھی کروالیا تھا اور نہ صرف پارلیمنٹ میں انہیں نشستیں دلوائی گئیں بلکہ صوبہ سرحد میں انہیں حکمرانی بھی دیدی گئی، اس دور میں ان کی کارکردگی کیسی رہی ، اس سے قطع نظر آج کے کالم میں ایک اور پہلو پر بات کرکے آج کے سیاسی صورتحال کو زیربحث لانا مقصود ہے ۔

دراصل ایم ایم اے کے اس ’’حادثاتی‘‘ جنم سے مذکورہ اتحاد کے رہنمائوں کو یہ زعم تھا کہ ان کی آشیر بادکے بغیر جنرل مشرف کا اقتدار خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے اس لئے کبھی کبھی وہ آنکھیں دکھانا شروع کردیتے تھے مگر وہ جو پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ تمہیں اپنا کابلی گھونسا نظر آرہا ہے لیکن مدمقابل کا قندھاری مکا دکھائی نہیں دیتا ، تو ایسی ہی صورتحال میں اپنے مطلب کو پورا کرنے کیلئے مذکورہ اتحاد کے کئی رہنمائوں کی مبینہ جعلی ڈگریوںکا کیس عدالتوں میں لگ جاتا چونکہ اس وقت ارکان پارلیمنٹ کیلئے ڈگری لازمی قرار دی گئی تھی اور کئی ارکان کیخلاف مقدمات عدالتوں میں چل رہے تھے جن میں سے بعض کو رکنیت سے ہاتھ بھی دھونا پڑ گئے تھے جبکہ متحدہ کے بیشتر اراکین کے پاس مدارس کی اسناد تھیں جنہیں چیلنج کیا جاچکا تھا ، تو ایسی صورت میں مذکورہ کیس کی شنوائی کیلئے عدالت میں تاریخ لگادی جاتی، یوں پرانی تنخواہ پر گزارہ کرتے ہوئے ’’ملازمت‘‘ جاری رکھی جاتی اور مشرف حکومت انہیں یہ احساس دلوادیتی کہ

مے کدہ ہے یہ نہیں دیروحرم اے واعظ

لاکھ کافر جو یہاں آئے مسلمان گئے

حالیہ انتخابات کے بعد جیتنے والے خوشیاں منارہے ہیں تو ہارنے والے احتجاج پر اترے ہوئے ہیں یہی تو سیاست اورجمہوریت کا کھیل ہے، ایساہمیشہ ہی ہوتا رہتا ہے، کوئی نئی بات تو ہے نہیں، مگر ایم ایم اے کی سیاست اور جنرل مشرف کا دور اس لئے یاد آگئے کہ ان دنوں ملک میں صدارتی انتخاب کی سرگرمیاں جاری ہیں اور جہاں حکومتی جماعت نے ڈاکٹر عارف علوی کا نام بطور صدارتی امیدوار پیش کیا ہے اور ان کیلئے دن رات ووٹ اکھٹے کئے جا رہے ہیں تاکہ انہیں کرسی صدارت پر براجمان کرا کے اپنی حکومت کو مزید مضبوط کیا جائے اور ایسا کرنا اس کا حق بنتا ہے جبکہ اسی بنیادی حق کے تحت اپوزیشن جماعتوں کو بھی اپنا امیدوار لانے میں کوئی امر مانع نہیں ہے مگر مسئلہ یہ آگیا ہے کہ حکومت مخالف جماعتیں کسی ایک متفقہ امیدوار پر یکجا نہیں ہو رہی ہیں، خصوصاً لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی جو اگر اکھٹی ہو جائیں اور دیگر جماعتیں بھی ان کا ساتھ دیں تو نہ صرف صدارتی انتخاب کا پانسہ پلٹ سکتا ہے بلکہ شاید سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے پر بھی صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے اور حالیہ مہینوں میں منتخب ہونے والے چیئرمین کی جگہ اپوزیشن اپنی پسند کا چیئرمین لانے میں کامیاب ہوسکتی ہیں، تاہم معاملہ صدارتی امیدوار پر آکر رکا ہوا ہے، اس سلسلے میں اگرچہ لیگ(ن) پیپلز پارٹی کے امیدوار کی اصولی حمایت پر تیار تھی لیکن جیسے ہی صدرکے عہدے کیلئے اعتزاز احسن کا نام سامنے آیا، لیگ (ن) والوں نے اسے یکسر مسترد کر دیا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران چوہدری اعتزاز احسن نے لیگ (ن) کی لیڈرشپ کے حوالے سے اپنا رویہ نہایت سخت رکھا ہوا تھا، یہاں تک کہ کلثوم نواز کی بیماری کو انہوں نے ڈرامہ قرار دے کر اس کا مذاق بھی اُڑایا تھا حالانکہ واقفان حال اچھی طرح جانتے ہیں کہ چوہدری صاحب موصوف جو کچھ بھی کہتے رہے ہیں اس کی ہدایات ’’اوپر‘‘ سے ملتی رہی ہیں یعنی ایک آدھ بیان پر تو خاموشی اختیار کی جاسکتی تھی لیکن جب تک آصف زرداری کی منظوری حاصل نہ ہوتی اعتزاز احسن کبھی اس تو اتر کیساتھ لیگی رہنماؤں اور ان کے اہل خانہ کو طنز وتشنیع کا نشانہ بنانے کی کوشش نہ کرتے، گویا اعتزاز احسن کو اس کی باقاعدہ اجازت بلکہ سرپرستی اپنی لیڈشپ سے ملی تھی، اس صورتحال کا توڑ کرنے اور معاملات کو رفع دفع کرنے کیلئے پرویز رشید نے تین روز پہلے ایک بیان دیا کہ اگر اعتزاز احسن جیل جا کر میاں نوازشریف سے معذرت کریں تو انہیں صدارتی امیدوار کے طور پر قبول کر لیا جائے گا لیکن انہوں نے اس مطالبے کو رد کر دیا، اس دوران لیگی اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے مابین گزشتہ روز ملاقات میں شہباز شریف نے یوسف رضا گیلانی کو متبادل امیدوار کے طور پر پیش کیا لیکن آصف زرداری ڈٹ گئے اور اعتزاز احسن کا نام واپس لینے سے صاف انکار کر دیا حالانکہ اس سے پہلے خود پیپلزپارٹی کے بعض رہنماؤںکا یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ اعتزاز احسن کا نام حتمی نہیں ہے، مگر مسئلہ وہی ایم ایم اے کی ڈگریوں والا ہے یعنی جب سے آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ کو منی لانڈرنگ کیس میں پیش ہونے کے نوٹسز دیئے گئے ہیں انہوں نے اعتزاز احسن کا نام واپس لینے اور کسی متبادل امیدوار کو سامنے لانے سے دوٹوک لفظوں میں انکار کر دیا ہے حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کی ہٹ دھرمی سے اپوزیشن جماعتیں تقسیم ہوکر یہ الیکشن ہار جائیں گی لیکن سارا معاملہ ’’ورنہ‘‘ پر ملازمت ہی کا تو ہے، یعنی بقول شاعر

لمحے لمحے میں ہے آواز شکست

مری تاریخ ندامت کی ہے

متعلقہ خبریں