Daily Mashriq


قرضوں کا بوجھ اور اصل حقیقت

قرضوں کا بوجھ اور اصل حقیقت

پاکستان کی جمہوری حکومتوں کی تاریخ جس سے پاکستانیوں کی اکثریت آگاہ ہے کچھ یوں ہے کہ ہر نئی آنے والی حکومت سبکدوش ہونے والی حکومت کی خامیوں کو اُجاگر کر کے اپنے تئیں عوامی عدالت میں سرخرو ہونے کی کوشش کرتی ہے‘ جن میں چند ایک الزام نئی آنیوالی حکومتوں کے مشترکہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ سابقہ حکومت نے خزانہ خالی کر دیا ہے‘ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے‘ معیشت تباہ ہے۔ ادارے اپنی فعالیت کھو چکے ہیں اور اقرباء پروری کو فروغ دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے چونکہ کرپشن کیخلاف طویل جدوجہد کی ہے اور مجموعی طور پر یہ تاثر قائم ہے کہ تحریک انصاف کو جو حکومت ملی ہے اس کے پیچھے کرپشن کا نعرہ کارفرما ہے‘ سو اِس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے تحریک انصاف نے ماضی کی حکومتوں کی نسبت کھل کر سابقہ حکومت پر تنقید کی اور موجودہ مسائل کا ذمہ دار مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کو قرار دیا۔ تحریک انصاف کے اس الزام میں کس قدر حقیقت ہے اس کا جائزہ درج ذیل سطور سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔مسلم لیگ ن کے وزیراعظم میاں نواز شریف (جو اب سابقہ ہو چکے ہیں) نے 5جون 2013ء کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا۔ اس وقت جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7فیصد تھی۔ زرمبادلہ کے ذخائر 6ارب ڈالر تھے اور بیرونی قرضہ 60ارب ڈالر تھا جبکہ ڈالر 99.89روپے کا تھا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 31مئی 2018ء کو جب اقتدار چھوڑا تو جی ڈی پی میں شرح نمو 5.8فیصد تھی‘ زرِمبادلہ کے ذخائر 16ارب 40کروڑ ڈالر تھے‘ بیرونی قرضہ 91ارب ڈالر سے متجاوز تھا جبکہ ڈالر 118.55روپے کا تھا۔ اب سوال یہ پید اہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اگر ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا کر آنے والی نسلوں کو بھی مقروض کر دیا ہے اور اس کے برعکس ملک وقوم کیلئے کچھ بھی نہیں کیا تو ملک کے موجودہ بحرانوں کی ذمہ دار مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت ہے لیکن اگر سابقہ حکومت نے ملک کی بہتری کیلئے قرضے حاصل کئے اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کیلئے اس رقم کو خرچ بھی کیا تو عام آدمی کے نزدیک مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت بری الذمہ قرار پائے گی۔امر واقعہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن نے 2013ء میں جب عنان اقتدار سنبھالی تو چہار سو عالم اندھیروں کا راج تھا۔ توانائی بحران سے انڈسٹری بنگلہ دیش اور دیگر ممالک منتقل ہو رہی تھی۔ سو مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہنگامی طور پر توانائی کے چھوٹے منصوبوںکا آغاز کیا کیونکہ بڑے منصوبے ہیوی بجٹ کے حامل تھے اور دوسرے یہ کہ دیرپا ہونے کی وجہ سے توانائی بحران کا فوری حل نہیں نکل سکتا تھا، اسلئے انہوں نے قدرے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے توانائی بحران کے خاتمے کیلئے ملک کے متعدد حصوں میں توانائی کے چھوٹے منصوبوں کا آغاز کیا‘ جن میں سرفہرست نندی پور‘ ساہیوال کول پاور پلانٹ‘ کچھی کینال‘ نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ‘ بھکی پاور پلانٹ اور دیگر کئی منصوبے شامل تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کا جو بحران 2008ء سے لیکر2013ء تک تھا وہ بحران 2017ء کے آخر تک ختم ہو چکا تھا۔ توانائی بحران ختم ہوا تواس کا فائد ہ پاکستان کے عوام اور انڈسٹری کو ہوا، لازمی طور پر ان منصوبوں پر اخراجات بھی ہوئے‘ جن کی تکمیل کیلئے بیرون ملک سے بھاری مشینری سمیت دیگر آلات شامل ہیں جو پاکستان کی معیشت پر اثرانداز ہوئے اور ملکی قرضوں میں کسی قدر اضافہ ہوا۔ اسی طرح سی پیک کی تعمیر کیلئے بھی چائنہ سے بھاری مشینری اور دیگر آلات درآمد کئے گئے‘ موٹرویز کی تعمیرات‘ میٹرو بس‘ اورنج ٹرین جیسے دیگر بیسیوں میگا پراجیکٹس کی تکمیل اس بات کی علامت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت نے ان مقاصد کیلئے قرضے حاصل کئے تھے۔لاہور میں مقیم ہمارے ایک بزنس مین دوست کا کہنا ہے کہ عمران خان کامیاب ہوگا‘ وجہ پوچھی تو بتایا کہ تنور گرم ہو چکا ہے‘ اب صرف روٹی لگانی ہے اور اسے عوام کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس پہیلی کی انہوں نے وضاحت اس طرح کی کہ پورے ملک میں موٹرویز اور سڑکوں کا جال بچھایا جا چکا ہے جوکہ خطیر رقم کا متحمل ہونے کیساتھ ساتھ طویل اور صبرآزما کام تھا۔ لاہور‘ راولپنڈی‘ اسلام آباد‘ کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں کے فلائی اوورز اور انڈر پاسز بن چکے ہیں‘ توانائی بحران پر قابو پایا جا چکا ہے‘ اسلئے اب جو بھی حکومت برسراقتدار آئے گی وہ باآسانی ڈلیور کرنے کی پوزیشن میں ہو گی، ان کے نزدیک عمران خان کامیاب بھی ہوگا اور کریڈٹ بھی انہی کو ہی جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کو مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے پرفارمنس دکھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے عوام کی پی ٹی آئی سے بڑی توقعات ہیں‘ اگر انہوں نے عوامی مسائل کے حل کی بجائے ٹال مٹول کے روایتی حربے استعمال کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کے عوام سابقہ حکومتوں کی طرح انہیں بھی مسترد کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔

متعلقہ خبریں