Daily Mashriq


سیاست سے ذرا ہٹ کے

سیاست سے ذرا ہٹ کے

’’شیخ الجبال نے دو پہاڑوں کے درمیان واقع وادی میں ایک وسیع وعریض اور خوشنما باغ بنوایا ہے جس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ اس میں ہر قسم کے پھل پائے جاتے ہیں اور تصور سے باہر حسین محلات اور خیمے ہیں جن پر سونے کے ورق چڑھے ہیں اور ان میں نفیس تصاویر ہیں۔ اس باغ میں چھوٹی چھوٹی ندیاں ہیں جن میں شراب، دودھ، شہد اور پانی بہتا ہے اور یہاں دنیا کی حسین ترین دوشیزائیں ہیں جو ہر طرح کے ساز بجاتی ہیں اور وہ حسین نغمے گاتی ہیں اور دل لبھانے والے رقص کرتی ہیں۔‘‘ مارکوپولو مزید لکھتے ہیں کہ 12 سے 20 برس عمر کے نوجوانوں کو نشہ پلا کر اس باغ میں لایا جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جنت میں پہنچ گئے ہیں۔ اس کے بعد جب انہیں بے ہوش کر کے اس فردوسِ بریں سے نکالا جاتا ہے تو وہ اپنی زندگی کی پروا کئے بغیر کسی کو بھی قتل کرنے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ مارکوپولو کا سفرنامہ اپنے دور کا ’’بیسٹ سیلر‘‘ ثابت ہوا اور اس کی وساطت سے یہ کہانیاں یورپ بھر میں پھیل گئیں جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں دہرائی جاتی ہیں۔ اس دوران کسی نے یہ نہ سوچا کہ مارکوپولو جب 1272ء میں چین جاتے ہوئے اس علاقے سے گزرے، تب حسن الصباح کو فوت ہوئے تقریباً ڈیڑھ صدی اور منگولوں کے ہاتھوں قلعہ الموت کو تباہ ہوئے 15برس گزر چکے تھے۔ دوسری طرف کچھ جدید مؤرخین نے کہا ہے کہ مارکوپولو چین تو کجا ترکی سے آگے تک گئے ہی نہیں تھے اور انہوں نے ساری کہانیاں استنبول میں بیٹھ کر سیاحوں اور ملاحوں سے سن سنا کر لکھ ڈالیں لیکن یہ افسانہ مارکوپولو کی ایجاد نہیں ہے۔ اس زمانے میں حسن الصباح اور قلعہ الموت کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں گردش میں تھیں، انہوں نے کہیں سے ایسی ہی کوئی اڑتی اڑتی خبر سن کر اسے تحریر کر دیا جس کے بعد یہ کہانی دنیا بھر میں ’’وائرل‘‘ ہو گئی۔ہلاکو خان کے درباری مؤرخ عطا ملک جوینی اس زمانے کے بہترین مؤرخ تصور کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس دور میں تاریخ جہاں گشا لکھی۔ ان کی اس تاریخی کتاب میں حسن الصباح کی جنت کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ جوینی حسن الصباح اور ان کے فرقے سے تعلق رکھنے والوںکے سخت دشمن تھے، اسلئے ان سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ان سے کسی قسم کی رو رعایت برتیں گے۔ہلاکو خان نے جب 1256ء میں قلعہ الموت فتح کیا تو جوینی ان کیساتھ قلعے پہنچے۔ وہ بڑی تفصیل سے حسن الصباح کے حالات زندگی، ان کے نظریات، الموت کی تاریخ، وہاں کے حکمرانوں، عمارات، طرزِ تعمیر اور کتب خانوں کا احوال بیان کرتے ہیں لیکن ان کی کتاب میں کہیں بھی کسی جنت یا اس کے آثار کا ذکر ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ اس دور کے ایک اور مشہور تاریخ دان رشید الدین ہمدانی بھی ہیں۔ ان کی 1307ء میں مکمل ہونیوالی کتاب ’’جامع التواریخ‘‘ کو اس دور کی ایرانی تاریخ پر سند تسلیم کیا جاتا ہے مگر وہ بھی حسن الصباح اور قلعہ الموت کا تفصیلی ذکر کرنے کے باوجود وہاں کسی جنت کے وجود سے واقف نہیں ہیں۔بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ حسن بن صباح ایرانی نے قلعہ الموت میں ایک جنت بنائی تھی۔ اس کے کارندے نوجوانوں کو مختلف علاقوں سے پکڑ کر بے ہوش کرتے اور الموت لے آتے۔ نوجوانوں کی آنکھیں کھلتیں تو وہ خود کو حسن بن صباح کی جنت میں پاتے۔ حوریں، شہد اور دودھ کی بہتی نہریں اور خوبصورت وادی انہیں مسحور کر دیتی۔ یہاں انہیں کئی دن رکھا جاتا اور وہ جنت کے مزے لوٹتے۔ پھر اچانک کسی دن انہیں بے ہوش کر دیا جاتا اور اٹھا کر قلعے کے ایک ویران حصے میں لٹا دیا جاتا۔ جب انہیں ہوش آتا اور وہ خود کو ایک ویران وبنجر مقام پر پاتے تو بے اختیار پکار اٹھتے کہاں ہے وہ جنت؟ ہمیں تو بس اسی میں رہنا ہے۔ حسن کے کارندے انہیں بتاتے کہ جنت پھر مل جائے گی لیکن اس کیلئے کچھ کرنا ہوگا۔ نوجوان کہتے کام بتاؤ جو کہو گے وہی کرینگے۔ انہیں ٹاسک دیا جاتا کہ فلاں شہر کے گورنر، کوتوال یا فلاں عالم کو قتل کرنا ہوگا۔ نوجوان جنت کے حصول کیلئے اس بڑے اور مشکل کام کیلئے تیار ہو جاتے۔ ایک خنجر اور کچھ زادراہ ان کے حوالے کیا جاتا اور وہ مشن پر نکل کھڑے ہوتے۔ جنت کی لذت اور کشش ان میں بجلی کی سی تیزی پیدا کر دیتی اور وہ اپنے ہدف کے قریب پہنچ کر اسے قتل کر دیتے۔ ان میں سے اکثر اس مشن میں خود بھی مارے جاتے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حسن بن صباح نے ان خودکش حملہ آوروں کے ذریعے اپنے بے شمار مخالفین کو قتل کرایا۔ پورے خطہ عرب اور ایران میں دہشت پھیل گئی۔ حتیٰ کہ وہ لمحہ آیا جب چنگیز خان کا پوتا ہلاکو خان بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجاتا ہوا ایران آیا اور مختلف علاقوں کو ملیامیٹ کرتا قلعہ الموت کے گرد ونواح میں پہنچ گیا۔ قلعہ الموت کی جغرافیائی کیفیت ایسی تھی کہ اس کا دفاع ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ اس کی اسی ناقابل تسخیر کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حسن بن صباح نے اپنی سرگرمیوں کیلئے اس کا انتخاب کیا تھا۔ ہلاکو سے پہلے کئی بار اس قلعے پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ہر لشکر کو اس میں ناکامی ہوئی لیکن ہلاکو کی وحشت خیزی کے سامنے قلعے کا دفاع زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا اور ہلاکو نے بآسانی یہ قلعہ فتح کر لیا۔ تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حسن بن صباح کی کوئی جنت نہیں تھی۔ وہ ایک متشدد مذہبی آدمی تھا اور اپنے مذہبی شدت پسندانہ جذبات سے مغلوب ہو کر کم عمر نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے مخالفانہ مذہبی نظریات کے حامل لوگوں کو قتل کرایا کرتا تھا۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں